پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کا حامی: اسرائیلی بربریت کی تحقیقات کرائی جائے : وزیراعظم
  20  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے او آئی سی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی مذمت، فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی 70 سال سے بھارتی جبرواستبداد کا شکار ہیں۔ فلسطینیوں کے لئے اقوام متحدہ میں مل کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی بربریت اور دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی دنیا کی پہلی ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کوسترھواں سال مکمل ہونے پر تحفے کے طور پرکی گئی امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے پروشلم منتقلی کے موقع پراسرائیلی جارح فوج کے ہاتھوں اکہتر سے زائد مظلوم فلسطینیوں کی شہادت اور تین ہزار کے لگ بھگ مظاہرین کو زخمی کئے جانے پر عالم اسلام سراپا احتجاج ہے۔سب سے پرعزم ،پر جوش اور ایمان افروز مظاہرہ ترکی کے عوام نے کیاجہاں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے ریلی کی شکل میں مارچ کیا ۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام القدس پر امتحان میں ناکام ہو چکا ہے۔ القدس کے امتحان میں صرف عالم اسلام ہی نہیں پوری انسانیت ناکام رہی۔ القدس پر قبضے پر خاموشی اختیار کرنے والی اقوام متحدہ ظلم و ستم میں برابر کی شریک ہے۔ اسرائیل کیخلاف کوئی قدم نہ اٹھانے والی اقوام متحدہ قانونی حیثیت کھو چکی ہے، قبلہ اول کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو خانہ کعبہ کے تحفظ پر کس طرح مطمئن ہو سکتے ہیں۔ مسلمان آپس کی دشمنی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں، مسلمان اسلام کے دشمنوں کیخلاف اتنے ہی بزدل اور ڈرپوک ہیں، اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے، بے گناہ افراد کے قتل پر اسرائیل کا احتساب ہونا چاہئے۔ ہماری رائے میںاسرائیل کے خلاف اگر او آئی سی کے رکن ممالک بشمول پاکستان امریکی سفیروں کو اسرائیل نواز ،اور مسلم دشمن ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر نکال دیں تو اس سے بھی امریکہ اور اسرائیل پر گہرا اثر پڑے گا لیکن بدقسمتی سے ایک بڑی تعداد میں اسلامی ممالک اسرائیل کے ساتھ امریکہ اور یہودی کمپنیوں کیذریعے تجارت بھی کرتے ہیں اوراس کے مفادات کا بھی خیال ر کھتے ہیں بعض عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور وہ کسی بھی وقت اعلانیہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ ان حالات میں ہم سمجھتے ہیں کہ عالم اسلام پر موت کی سی خاموشی طاری ہے اور اقوام متحدہ بھی اس ظلم پر چپ سادھے ہوئے ہے۔ اسرائیل غزہ میں وحشیانہ اقدامات اٹھاتے ہوئے دہشت گرد ریاست ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔ اس جارحیت کو اسلامی ممالک اپنے اتحاد سے ہی روک سکتے ہیں ۔القدس کا تحفظ دراصل امن اور انسانیت کا تحفظ ہے اورخونریزی کرنے والوں کو روکنے کا وقت آن پہنچا ہے۔مظلوم فلسطینی بھائیوں کو عملی اقدامات سے دکھانا چاہئے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیل کا احتساب ہونا چاہئے۔ صرف مذمت فلسطینی قتل عام، اسرائیلی قبضے کو ختم نہیں کر سکتی۔ بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں کشمیری اور فلسطینی دونوں اپنی آزادی ،بقاء اور اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دونوں اقوام نہتی بھی ہیں اور ان کی جدوجہد عالمی اصولوں کے مطابق جائز بھی ہے ۔ القدس اور کشمیر کا مسئلہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کیلئے تمام مسلم ممالک کو آگے بڑھنا ہوگا ۔وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر او آئی سی میں اٹھا کر دنیا ئے اسلام کو متوجہ کیا ہے۔ ہماری رائے میں فلسطین کی آزادی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، اقوام متحدہ فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے اور اسرائیلی مظالم پر اقوام متحدہ کا خصوصی سیشن بلایا جائے جس میں حتمی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ سپریم کورٹ قرض معاف کرانے والی کمپنیو ں اور افرادسے ایک ایک پائی قومی خزانے کو واپس دلائے سپریم کورٹ نے قرض معافی کیس میںقرض معاف کروانے والی دوسو بائیس کمپنیوں اور بینکوں کے صدور کو نوٹس جاری کر تے ہوئے طلب کر لیا ہے۔ سابق ادوار میںقومی خزانے کی بندر بانٹ اور بنکوں کو حکام کی مدد سے سیاسی چھتری اور تگڑی سفارشات پرکنگال کرنے میں ملوث ان کمپنیوںنے پینتیس ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کروائے تھے جبکہ انہو ں نے سود کی مد میں بھی تئیس ارب سے زائد ادا کرنے ہیں،سپریم کورٹ میں قبل ازیں سابق جج سپریم کورٹ جسٹس جمشید علی پر مشتمل کمیشن نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ چو نکہ ان کمپنیو ں نے بینکو ں کے قرضے معاف کروائے ہیں لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے جس پر عدالت نے 13مئی کو ان کمپنیو ں کے خلاف نو ٹس جا ری کر نے کا حکم دیا، جسٹس جمشید کی رپورٹ میں قرض معافی کے با رے میں تفصیلی رپورٹ اور سٹیٹ بینک کا ڈیٹا بھی پیش کیا گیا تھا۔ امر واقع یہ ہے کہ مجموعی طور پرچھ سو بیس مقدمات میں چوراسی ارب رو پے کے قرضے معاف کروائے گئے۔ان کمپنیوںنے اٹھارہ ارب اکہتر کروڑ ستر لاکھ کا قرض لیا اور آٹھ ارب چورانوے کروڑ رو پے واپس کیے جبکہ گیارہ ارب چھہتر کروڑ سے زائد رقم واجب الادا ہے۔222 کمپنیوں کے 35 ارب روپے کے قرض سرکلر نمبر 2002/29 کے تحت معاف ہوئے۔کمپنیوں نے بینک انٹرسٹ(سود) کی مد میں بھی تئیس ارب ستاون کروڑ سے زائد رقم ادا کرنی ہے۔کیس کی سماعت اب آٹھ جون کو ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے جن کمپنیوں اور اداروں کے نام پر ان کے مالکان نے یہ خطیر رقم شیر مادر سمجھ کر معاف کروائی اور پاکستا ن کے معاشی نظام کاجھٹکا کرکے غیر ملکی اداروں سے قرض گیری پر مجبور کردیا۔ ان سے خصوصی امتیاز برتا گیا ہے اور تمام بزنس منفعت بخش تھے ۔ کاروبار کو دیوالیہ ظاہر کرنے والوں اور انکی فیملی کے ٹھاٹھ باٹھ اور پر تعیش لائف اسٹائل بخوبی آج بھی دیکھاجاسکتا ہے ۔اگرچہ قرضے معاف کرائے جاسکتے ہیں لیکن اس غیر اسلامی قانون کو بھی بدبودار نظام کے ساتھ بدلنا چاہئے۔ اس ملک میں حالت یہ ہے کہ ایک عام سرکاری ملازم یا کوئی شہری کسی بنک یا سرکاری ادارے سے مکان بنانے کیلئے قرضہ لے تو ساری زندگی اس کی قرضہ اور اس کا سود ادا کرتے گزر جاتی اور بالآخر عاجز آنے پر اسے نادھندہ قرار دے کر اسکی جائداد کو نیلام کرکے رقم وصول کرلی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ان طبقہ اشرافیہ کے چہیتوں کو آنکھیں بند کرکے قرضے دئے گئے اور کمال شاہی فیاضی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے معاف بھی کردیا گیا ۔ضروری ہے کہ ان قرض معاف کرانے والوں کے اثاثے ضبط کرکے وصولی شروع کی جائے اور ایک کم سے کم مدت مقرر کرے وصولی کو یقینی بنایا جائے اور متعلقہ بنکوں کے صدور کو بھی کڑے احتساب کے عمل سے گزارا جائے ۔ نوازشریف کی مہربانی' امریکہ نے پاکستان کو دہشت گرد وں کا سپانسر قرار دے دیا پینٹاگون چیف کی ترجمان ڈانا ڈبلیو وائٹ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ہی وقت میں دہشت گردی سے متاثرہ ملک اور اس کا سپانسر ہے جو علاقائی سیکورٹی کے لیے بہت کچھ کرسکتا ہے۔ ڈانا ڈبلیو وائٹ نے یہ بات میڈیا بریفنگ کے دوران افغانستان کی جانب سے پاکستان پر ملک میں حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہی۔ ہم دونوں ممالک کی جانب دیکھ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ہماری مدد کریں گے، کیونکہ دونوں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک ہیں اور دونوں نے دہشت گردی کو فروغ بھی دیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے غیر ریاستی عناصر کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فیصلے کرنے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ خطے کی حفاظت میں ہمارا پارٹنر ہو گا۔ امریکی محکمہ دفاع کی ترجمان سے بھارتی صحافی نے پاکستان میں سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قراردئے جانے والے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے پاکستان کو ممبئی حملوںمیں ملوث قراردینے پرامریکہ کا ردعمل پوچھا گیا تھا جس کے جواب میں جہاں امریکہ نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے وہاں لگے ہاتھوں اسے دہشت گردوں کا سپانسر ملک بھی قرار دے ڈالا جبکہ ایسے ہی ریمارکس افغانستان کے بارے میں بھی دئے گئے ہیں تاہم وہاں موجود کسی صحافی کو یہ سوال کرنے کی جرات نہیں ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور پاکستان کو اندرونی طور پرغیر مستحکم کرنے کی بھارتی کوششوںپر بھی ردعمل پوچھا جاتا ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ ہو یادوسرے ممالک وہاں پاکستان صحافی نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو جدید ترقی یافتہ ممالک میں موجود بھی ہیں ان کی وہاں پالیسی ساز اداروں تک رسائی بھی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارتی اور دوسرے ایشیائی ممالک کے میڈ یا سے تعلق رکھنے والوں کی بھر پور نمائندگی موجود ہے ۔ اگرچہ بعض خبروں کے مطابق امریکہ نے پاکستان کیخلاف بھارتی صحافی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے نیز یہ کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی سے متاثر ہوئے تاہم اسکے باوجود بھی سابق وزیر اعظم کے انتہائی معاندانہ اور منفی بیانئے کو بھارت دنیا بھر میں پھیلا کر پاکستان کیخلاف دنیا کو گمراہ کرتا رہے گا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved