ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف فرد جرم
  20  مئی‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭امریکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ وحشی اور دہشت گرد ملک! گزشتہ روز ٹیکساس ریاست کے ایک شہر کے سکول میں ایک جنونی نوجوان کی فائرنگ سے10 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں پاکستان کی گلشن اقبال کراچی کی طالبہ سبیکا بھی شامل تھی جو ایک تعلیمی وظیفہ پر9 اگست 2017 کو امریکہ گئی اور عید سے پہلے واپس آناتھا۔مگر جس طرح واپسی ہو رہی ہے اس کے تصور سے دل لرز رہاہے۔ امریکہ میں تعلیمی اداروں میں ایسے وحشت ناک واقعات عام ہو گئے ہیں۔ پچھلے آٹھ دنوں میں تین تعلیمی اداروں میں فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سال اب تک 22 واقعات سامنے آچکے ہیں۔ حیرت ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں مسلح افراد تعلیمی اداروں میں دندناتے پھررہے ہیں! حالیہ واقعہ میں ایک طالب علم ایک گن اور ایک پستول لے کر آیا تھا۔ اسے کسی نے چیک نہیں کیا۔ بیٹی سبیکاکی الم ناک شہادت نے پوری قوم کو دُکھی کر دیاہے۔ سبیکا! میری آپ سب کی بیٹی! میں بچی کی تصویر دیکھ کر جذبات پر قابو نہیں پا سکا۔ میں تو ان دوسرے بچوں کے لیے بھی غم زدہ ہوں جو اس واقعہ کے شکار ہوگئے۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ میں ٹیکساس میں ہونے والے اس بربریت کا ذمہ دار امریکہ پر مسلط ایک پاگل جنوبی شخص ڈونالڈٹرمپ کو قرار دیتاہو اور اس پر اب تک ہونے والے تمام واقعات پرفرم جرم عائد کرتاہوں۔ اس نے پوری امریکی قوم کووحشی اور جنونی بنا دیاہے۔ ٭اسرائیلی فوج کی بربریت سے 60فلسطینیوں کی شہادت اور 2500زخمی ہونے پر ترکی نے اسرائیل کے خلاف عالم اسلام کی جرأت مندانہ قیادت کی ہے۔ استنبول میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی اور پانچ لاکھ ترک افراد نے اسرائیل کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس میں اسرائیل کے خلاف قرار داد بھی منظور کی گئی۔ قاہرہ میں عرب لیگ کا بھی اجلاس منعقد ہوا، اس میں بھی ایسی قرار داد منظور کی گئی۔ قابل ذکربات یہ کہ طویل عرصہ کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ الخبیر عادل نے بھی اسرائیل کی مذمت کی اور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ایک اور اہم بات کہ عمران خاں کی سابق بیوی جمائمہ کے بھائی زیک گولڈ سمتھ نے اسرائیل کے ہاتھوں 60 فلسطینیوں کی شہادت پر مسرت کااظہار کیاہے۔ زیک گولڈ سمتھ نے لندن کے موجودہ میئر محمد صادق کے خلاف الیکشن لڑا تھااور عمران خاں نے لندن جا کر اس کی مہم میں ساتھ دیا تھا۔ ٭بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن کے بعد شکر گڑھ سیکٹر میں پاکستان کی ورکنگ باؤنڈری پر بھی حملہ کر دیا۔ بھارتی فائرنگ سے ایک 40سالہ خاتون کلثوم سمیت تین بچے اور دو دوسرے افراد شہید اور 28 افراد زخمی ہو گئے۔ بھارت اس سے پہلے بھی ورکنگ باؤنڈری پر اسی طرح حملہ آور ہوتا رہاہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کی طرف سے رینجرز کی جوابی کارروائی سے سرحد پار پانچ بھارتی فوجی اور دوسرے افرا د ہلاک ہوئے ہیں۔ بھارتی فوج نے یہ کارروائی ایسے موقع پر کی جب اگلے روز بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی جموں وکشمیر کے متعدد علاقوں میں بعض بڑے بڑے منصوبوں کا آغاز یا افتتاح کرنے کے لیے آنے والا تھا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی سفیر بسارے کو بلا کررسمی احتجاج کر دیا۔ یہ شخص چند روز سے ادھر اُدھر امن کی آشا کا راگ الاپتا پھر رہا ہے! بھارتی حکومت نے ایک ڈراماکیا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ایک ماہ تک کسی کارروائی سے روک دیا ہے مگر منافقت اور بربریت کے مظاہرے کو پاکستان کی سرحد پر منتقل کردیا۔ یہ لوگ زیادہ سخت جواب کے بغیر باز نہیں آئیں گے! ٭بھارتی وزیراعظم مودی کے جموں و کشمیر کے ایک دن کے دورے کا بہت معروف پروگرام رکھا گیا۔ لداخ میں 68 ارب روپے (پاکستان کے ایک کھرب 19ارب) سے ایشیا کی طویل ترین 42کلومیٹر سرنگ، سری نگر سے بانڈی پور تک 42 کلومیٹر رنگ روڈ اور جموں میں ایک بجلی گھر وغیرہ کے سنگ بنیاد رکھنے کے پروگرام کااعلان کیا گیا مگراصل اور اہم اقدام کشن گنگا ڈیم کا افتتاح کرناتھا۔ دریائے نیلم کو مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا کہا جاتا ہے۔ یہ دریا وادی نیلم سے بہت اوپر بلند علاقے سے آزاد کشمیر میں داخل ہوتاہے۔ اس مقام سے ذرا نیچے پاکستان نے اس دریا پر نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ڈیم کا پانی ایک طویل پہاڑی سرنگ کے ذریعے بلند پہاڑ کے دوسری طرف دریائے جہلم میں ڈالا جاناہے، اس کی ابتدائی مشق شروع ہو چکی ہے۔ دریائے جہلم پر آگے جا کر بڑا بجلی گھر بن رہاہے جس سے تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ یہ سارا کام بھاری اخراجات اور کئی برس کی سخت محنت کے بعد مکمل ہونے کے قریب ہے مگر بھارت نے پاکستان دشمنی کامظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں دریائے کشن گنگا ( نیلم) پر ڈیم بنا کر اس کے پانی کا رخ سرنگ کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں ہی دوسری طرف موڑ دیاہے۔ اس کے باعث آزاد کشمیر میں نیلم جہلم کا منصوبہ پانی نہ ملنے سے شدید متاثر ہوسکتا ہے۔ پاکستان اس بارے میں بار بار احتجاج کرتا رہاہے مگر بھارت نے وَلر اور بگلیہار ڈیموں کی طرح سندھ طاس معاہدے کو مسخ کرتے ہوئے کشن گنگا پراجیکٹ بھی مکمل کر لیاہے۔ اسے کسی کی پروا نہیں اور کوئی اسے پوچھنے والا ہی نہیں۔ نریندر مودی اب تک اس منصوبے کا فتتاح کر چکا ہو گا! اور ہم صرف احتجاج کرتے رہ جائیں گے۔ ایک اہم بات کہ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق بھارت پابند ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں کوئی منصوبہ شروع کرنے کے بارے میں پاکستان کو پیشگی تفصیل مہیا کرے گا۔ وہ ایسا کر بھی دیتاہے مگر پاکستان کے کسی اعتراض یا مخالفت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ اس نے 1992 میں پاکستان کو دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم بنانے کے بارے میں اطلاع دی۔ پاکستان نے رسمی خط لکھ کر اعتراض کیا مگر اسے روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اور صرف خط لکھتے رہنے پراکتفا کرتے رہے۔ پاکستان نے 1992 سے 2002 تک بھارت کو 32 خط لکھے عالمی سطح پر کوئی اقدام نہ کیا۔بھارت نے کسی خط کا جواب نہیں دیا اور بگلیہار ڈیم مکمل کرلیا۔اس ڈیم کے ذریعے وہ دریائے چناب کا پانی اپنی نئی نہروں میں لے جا رہاہے اور پاکستان مسلسل پانی سے محروم ہو رہاہے۔!

٭ملائیشیا میں92سالہ نئے وزیراعظم مہاتیر محمد کے حکم پر سابق وزیراعظم نجیب رزاق کے گھرپر چھاپہ مارا گیا۔ وہاں بھاری نقد کرنسی اور ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے72 بکس ملے۔ ان کے علاوہ انتہائی قیمتی 284 ہینڈبیگ بھی پائے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ بھی بھاری کرنسی اور جواہرات سے بھرے ہوئے ہیں۔ نجیب رزاق پر ایک عرصے سے شدید بدعنوانیوں کاالزام لگ رہا تھا۔ اسی وجہ سے وہ حالیہ انتخابات میں بھی بری طرح ہار گیا۔ ملائیشیا کے قوانین کے مطابق کرپشن ثابت ہو جانے پراسے کم ازکم سخت قسم کی عمر قید بھگتنا ہوگی۔ عجیب منظر ہے کہ اس وقت ملائیشیا اور پاکستان کے سابق وزرائے اعظم اور اسرائیل کا موجودہ وزیراعظم سنگین کرپشن کے جرم میں عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ اپنے ملکوں اور قوموں کے لوٹنے کے سارے واقعات ایشیا اورافریقہ میں ہی ہو رہے ہیں۔ امریکہ کو جتنابھی برا بھلاکہہ لیں مگر وہاں قانون کی عملداری اتنی سخت ہے کہ ایک بارسابق نائب صدر (بعد میں صدر) رچرڈ نکسن کسی شہر میں دورے پر گیا ۔ واپسی پر کسی وجہ سے طیارے کی واپسی لیٹ ہو گئی۔ نکسن کے سیکرٹری نے سفر کا بل بناتے وقت چند ڈالروں کااضافہ کردیا اس پر سینیٹ میں ہنگامہ ہو گیااورنکسن کو تحریری معذرت کرنا پڑی کہ اسے اس بات کاعلم نہیں تھا! ٭سندھ کے محکمہ تعلیم نے صوبہ بھرکے بچوں میں مفت تقسیم کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مختلف مضامین کی کتابیں چھاپیں۔ محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں نے یہ نئی کتابیں ایک کباڑیے کوردّی کے طورپر فروخت کردیں۔ کسی اطلاع پر اس کباڑیے کے گودام پر چھاپہ ماراگیاتو انگریزی، ریاض اور دوسرے مضامین کی ہزاروں، تقریباً ڈھائی ہزار کلو وزن کی کتابوں کے ڈھیر پائے گئے! اس پر کیا تبصرہ کیاجائے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved