انصاف اور معاشرہ
  10  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

معاشرے میں توازن قائم رکھنے کیلئے انصاف کا قیام بے حد ضروری ہے۔ جس معاشرے سے انصاف ناپید ہوجاتا ہے وہ معاشرہ بھی ناپید ہونے لگتا ہے اور انصاف سب کیلئے برابر ہونا چاہئے۔ جب معاشرے میں امیر کیلئے انصاف مختلف ہو اور غریب کیلئے انصاف کا پیمانہ الگ ہو تو پھر بھی معاشرہ زندہ نہیں رہتا اور انصاف صرف عدالتوں سے ہی نہیں مخصوص بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انصاف اور میرٹ کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب لندن پر تسلسل سے بمباری ہوتی تھی اور چرچل سے تجویز کیا گیا کہ کسی دوسری جگہ منتقل ہوں تو اس کا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا برطانیہ میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے اگر مل رہا ہے تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ انصاف ہونے اور انصاف ملنے کا یقین ریاست پر اعتماد اور ریاست کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کے جذبے کو استحکام دیتا ہے اور فرد کو کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیادتی اور خرابی کے خلاف آواز اٹھانے اور اسے روکنے کی طاقت دیتا ہے لیکن اگر انصاف ملنے کی امید نہ رہے تو کام کرنے کے جذبے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ وطن عزیز کو اﷲ نے ہر قسم کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے مگر ہم نے ان نعمتوں سے بھی انصاف نہیں کیا۔ نعمتوں سے انصاف کرنا اس لئے بھی ضروری تھا کہ ان نعمتوں کو فروغ ملتا۔ آئے روز مختلف ایشوز پر عدلیہ نوٹس لے لیتی ہے جو کہ اچھی بات ہے کہ جب انتظامیہ اپنے فرائض مکمل ذمہ داری سے ادا نہ کررہی ہو تو اسے یاد دلانا پڑتا ہے کہ یہ کام کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے جب میرٹ پامال کیا جارہا ہو تو میرٹ کی بحالی کیلئے عدلیہ کو ہی آگے آنا پڑتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ بعض امور ایسے بھی ہیں جن پر شاید ابھی توجہ نہیں دی جاسکی۔ ماتحت عدالتوں اور عدالت عالیہ میں ہزاروں کی تعداد میں کیس زیر التواء ہیں اور ان میں سے اکثریت تو شاید ایسے کیسوں کی بھی ہوگی جو محض دو یا تین شنوائیوں کے بعد فیصلہ ہونے کے قریب ہونگے دیہی علاقوں سے اور نیم شہری علاقوں سے لوگ عدالتوں میں آتے ہین اور کبھی وکیل کی عدم موجودگی کبھی وقت کی کمی کبھی جج رخصت پر ہیں تاریخ پر تاریخ ملتی جاتی ہے۔ کئی کیس ستو شاید ایسے بھی ہونگے جن میں سٹے آرڈر مل گیا اور پھر سماعت کے لئے کیس کی باری ہی سالوں بعد آتی ہے۔ کے پی کے میں ایک تجویز تھی شاہد کچھ حد تک اس پر عمل بھی ہوا کہ مصالحتی عدالتیں بنوائی جائیں اور اس طرز پر پولیس پبلک لائیزان کمیٹیاں تشکیل دی جائیں کیونکہ بے شمار ایسے چھوٹے چھوٹے کیسز ہوتے ہیں جو پولیس پبلک رابطہ کمیٹیاں اگر انصاف کے اصولوں پر قائم کی جائیں اور انصاف کی بنیاد پر ہی مصالحت کروا دیں تو انتظامی عدالتوں پر کام کا بوجھ ختم ہوسکتا ہے۔ دیوانی مقدمات میں تو پشت در پشت مقدمات چلتے ہیں اور انصاف کیلئے ترستی آنکھیں زیر زمین جابستی ہیں۔ جس ریاست میں پینے کے لئے خالص دودھ اور کھانے کیلئے خالص آٹا بھی میسر نہ آسکے وہاں انصاف کی کیا صورت ہوگی۔ انصاف میں تاخیر بھی انصاف کی عدم فراہمی کے زمرے میں آتی ہے۔ عرصہ ہوا حکومت نے انتظامی محکموں سے متعلق شکایات کے خلاف فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور وفاقی محتسب کا دفتر قائم کیا اس کے بعد تو صوبوں میں بھی محتسب کے ادارے قائم ہوگئے پھر ٹیکس محتسب‘ خواتین محتسب وغیرہ بھی قائم ہوگئے۔ مگر آج بھی اگر سروے کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ وفاقی محتسب کے 10 فیصد فیصلوں پر بھی انتظامی محکمے عمل نہیں کرتے اور مختلف تاخیری حربوں سے کام لیکر انصاف کی فراہمی نہیں ہونے دیتے۔ جب بھی کوئی واقع ہوتا ہے ہر حکومت آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی (گویا پہلے دی جاتی رہی ہے) نیا قانون بنانے پر زور دیا جاتا ہے اسمبلیوں میں قراردادیں پاس ہوتی ہے مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ جو قوانین پہلے ہی ہیں ان پر عمل درآمد کو یقینی بنالیا جائے۔ ہر سال کی طرح یوں لگتا ہے اس بار بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب شاید سیلاب آئیں۔ پھر لاکھوں بے گھر ہونگے کروڑوں ہیکٹر پانی سمندر میں چلے جانے کا واویلا ہوگا ‘ این ڈی ایم اے پی ٹی ایم اے اربوں کے ریلیف کا اہتمام کریں گی مگر کسی نے کبھی نہ نہیں کیا کہ ہر ضلع ہر تحصیل میں فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر رینی ڈیمز ہی بنوانے شروع کردیں بارش کا پانی محفوظ بھی کرلیا جائے ‘ سیلاب سے بچنے کے لئے اس روٹ کو کلیئر رکھا جائے جو سیلاب کا مجموعی روٹ ہے اور اس سیلاب کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا ہنگامی بنیادوں پر طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ کسی کو شاید احساس ہی نہیں آنے والے محض چند سالوں میں پاکستان پانی کے کتنے بڑے بحران سے دوچار ہونے والا ہے۔ اس کے لئے کیا پیش بندی کرنی ہے کیا انتظام کرنا ہے ہر کوئی Playing with Galleryمیں لگا ہے۔ لوڈشیڈنگ 2018 میں ختم ہونے کی نوید تھی مگر پہلے سے بھی زیادہ شدت سے وارد ہے۔ کوئی کہتا ہے بجلی بنانے کے لئے حکومت آئل نہیں دے پارہی‘ کوئی کہتا ہے آئل کیلئے پیسے نہیں‘ کبھی کہا جاتا تھا کشکول توڑ دیا ہے اب پھر جون میں آئی ایم ایف جانے کی تیاریاں ہیں۔ یہ کیسی Hybrid warمختلف پراکسیاں پاکستان کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسی تو اس بارے میں نہ تو اندیشہ لگتا ہے اور نہ ہی فکر۔ میڈیا میں ایک الگ doomsday scenario دکھایا جاتا ہے مگر تنقید تو سب کرت یہیں کوئی آگے بڑھ کر روکنے کیلئے مدد کیلئے بلا رہا۔ سب جمہوریت کو بچانے میں صروف ہیں مگر یہ کیسی جمہوریت ہے جسے ریاست کی فکر ہی نہیں۔ ریاست جمہوریت کے لئے نہیں ہوتی جمہوریت ریاست کے لئے ہوتی ہے حکومت کو فنڈز درکار ہوں توتیل کی قیمتیں بڑھا لیتی ہے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس بڑھا لیتی ہے کوئی دیرپا اور موثر پالیسی سے سب گریزاں ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved