میں روزے سے ہوں
  12  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) روزے کی حالت میں ان تمام امور پر غوروفکر سے آپ عبادت کے سا تھ ساتھ ایمان کی لذت سے بھی آشنا ہوں گے۔ آپ کی عبادت محض رسم نہیں رہے گی۔آپ اپنے رب کو پہچانئے، اپنے آپ پر غور کیجیے، اس کائنات کو دیکھئے جس نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ آپ اپنے اور کائنات کے مابین موازنہ کیجیے، اور قرآن کے الفاظ میں اپنے آپ سے دریافت کیجیے: تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اس کو بنایا، اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اس کا توازن قائم کیا، اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ اس کے بعد اس نے زمین کو بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اورچارہ نکالا، اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامانِ زیست کے طور پر تمھارے لیے اور تمہارے مویشیوں کیلئے (النزعت )۔ قرآن مجید میں غور کرنا چاہیے۔ کیا اِن لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟ (محمد) انسان اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے ساتھ خود زیادتی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان خیانت کیوں کرتا ہے؟ اپنے پروردگار کی معصیت کیوں کرتا ہے؟ وہ تکبر کیوں کرتا ہے؟ اپنے آپ کو بڑا کیوں سمجھتا ہے؟ کیا غور وفکر تجھے اللہ کے شایانِ شان قدر دانی کی دعوت نہیں دیتا کہ تو اللہ کی رحمت کی امید رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرے؟ قرآن نے اس ماہِ مبارک میں نازل ہو کر تجھے وہ کچھ بتا دیا جو تو نہیں جانتا تھا اور یوں اللہ نے تجھ پر فضلِ عظیم کیا۔ امام ابن قیم فرماتے ہیں: سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تم اللہ کو جانتے ہو اور پھر اس سے محبت نہیں کرتے۔ اس کے منادی کی پکار سنتے ہواور پھر جواب دینے اور لبیک کہنے میں تاخیر سے کام لیتے ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں کتنا نفع ہے مگر تم دوسروں کے ساتھ معاملہ کرتے پھرتے ہو۔ تم اس کے غضب کی جانتے بوجھتے مخالفت کرتے ہو۔ تمہیںمعلوم ہے کہ اس کی نافرمانی کی سزا کتنی بھیانک ہے مگر پھر بھی تم اس کی اطاعت کرکے اس کے طالب نہیں بنتے ہو۔افسوس کہ تم اس ماہ مبارک کے قیمتی لمحات ضائع کر دیتے ہو اور ان کے دوران اللہ کے قرب کو تلاش نہیں کرتے۔ ابن قیم نے کیا ہی خوب فرمایا ہے: روزے دار اپنے معبود کی خاطر اپنی لذتوں کو ترک کرتا ہے۔ وہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کو اپنے نفس کی لذات پر ترجیح دیتا ہے۔ رسول اللہۖ فرماتے ہیں: جو کوئی بندہ، اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اس دن کی وجہ سے اللہ جہنم کواس شخص کی ذات سے 70خریف دور کر دیتا ہے۔ امام حسن البنا فرماتے ہیں: لوگ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو کوئی بھلائی کرتا ہے یا نیکی کی بات کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا فوری معاوضہ ملے۔ اس کے بدلے میں مال ملے جسے وہ جمع کرے، یا اسے شہرت و نیک نامی ملے، یا اسے کوئی مرتبہ و عہدہ ملے، یا اسے کوئی لقب ملے کہ اس لقب کے ساتھ اس کا شہرہ ہر طرف ہو۔ دوسرا وہ ہے جس کا ہر قول و فعل محض اس لیے ہوتا ہے کہ وہ خیر کو خیر ہونے کی وجہ سے چاہتا ہے۔ وہ حق کا احترام کرتا ہے اور حق سے اس کے حق ہونے کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ دنیا کے معاملے کا سدھار صرف اورصرف حق و خیر سے ہی ہے۔ انسان کی انسانیت دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو حق و خیر کیلئے وقف کر دے۔

آپ ان دو قسموں میں سے کون سی قسم کے مسلمان بننا چاہتے ہیں؟ کتنا اچھا ہو کہ آپ دوسری قسم میں داخل ہوں اور ایسے مسلمان بن جائیں جو حکم کو بجالاتا ہے، جس سے منع کیا گیا ہے اسے ترک کر دیتا ہے، جو کچھ مل گیا ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ انعام ملے تو شکر کرتا ہے، آزمائش آئے تو صبر کرتا ہے، گناہ کرے تو مغفرت طلب کرتا ہے۔ آپ بھی ایسے ہی ہو جائیے۔ ایسے لوگوں میں شامل ہو جائیے جن کا دایاں ہاتھ صدقہ دے تو بائیں کو خبر نہ ہو۔ آپ کم زور کی مدد کیجیے۔ صلہ رحمی کیجیے۔ لوگوں کے بوجھ اٹھایئے، لوگوں کی حصولِ حق میں مدد کیجیے۔ ضرورت مند کا ساتھ دیجیے اور اس کی مدد کیلئے تعاون کیجیے۔ یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھیے، بیوہ کی سرپرستی کیجیے۔کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان، سوڈان، اریٹیریا اور صومالیہ کے اپنے بھائیوں کی غم خواری کیجیے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو خطرے میں ہے ان کیلئے دعائیں کیجیے۔ آپ ان مظلوم مسلمانوں کیلئے دعا کیجیے، جن کے گھروں کو منہدم کیا گیا اور انہیں ان کے علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا۔آپ صلاح الدین ایوبی کا یہ قول یاد رکھیے: میں کیسے ہنسوں، جب کہ اقصی اسیر ہے؟رمضان کے اس پیغام اور وقت کی اس آواز کو توجہ سے سنیے اور اس پر غور کیجیے کہ کیاہم نے اس مہینے کاحق اداکردیا؟ اگرجواب مثبت ہے توآپ کامران و کامیاب ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved