پانی کو عزت دو
  12  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سپریم کورٹ نے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں قرار دیا پانی کے مسئلہ سے ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کراچی رجسٹری سے مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا پانی کا مسئلہ قوم کے لئے عذاب بن جائے گا، میری خواہش ہے کاش میں پنجابی نہ ہوتا کاش میں بلوچی یا سندھی ہوتا، سندھی کی نظر سے دیکھتا تو مسئلے کی کچھ سمجھ آتی، نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا۔ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرناہو گا چیف جسٹس نے کہا پانی کی کمی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں ہیں اور جو چھوڑ کر گئے ہیں، زرداری اور نواز شریف آکر بتائیں پانی کے لیے کیا کیا، کیوں نہ ان لوگوں پر پانی کے مسئلے کی ذمہ داری ڈالی جائے۔ جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پانی کی قلت پر از خود نوٹس کی سماعت کی، اس موقع پر میٹروپولیٹن حکام اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے ، عدالت کے استفسارپرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا دارالحکومت کو اس وقت 58.7 ملین گیلن پانی سپلائی کیاجارہا ہے، جبکہ پانی کی طلب 120 ملین گیلن سے بھی زائد ہے، جس پرچیف جسٹس نے کہا آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے کراچی کے بعد اب اسلام آباد میں بھی ٹینکرز کا پانی فروخت ہورہا ہے، دارالحکومت میں 1500 روپے کا ٹینکر فروخت ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سملی ڈیم میں پانی نہیں جارہا، پرتوجہ دی جاتی توکسی حد تک معاملہ بہترہوسکتا تھا لیکن گزشتہ 2 حکومتوں نے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اس وقت پورے ملک میں پانی کی پکار پڑی ہوئی ہے ایسے میں وفاقی دارالحکومت اس سے کیسے مبر ا رہ سکتا ہے پانی نہیں تو بجلی نہیں کبھی گیس نہیں تو کبھی میٹرو سروس نہیں ڈرائیورز کی ہڑتال' کہا جارہا ہے کہ اسلام آباد میں پانی کی قلت پرقابوپانے کیلئے تربیلا سے پانی لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، یہ 70 ارب روپے کا منصوبہ ہے، جس کیلئے صرف 500 ملین جاری کئے گئے ہیں، پانی کب تک آئے گا کسی کو پتہ نہیں ، کالاباغ ڈیم کب بنے گا سیاسی ڈھکوسلوں سے اسے موخر کیا جارہا ہے ۔کیابھارتی ایجنٹ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ اس منصوبے کو مکمل نہ ہونے دیں۔ کیا قوم اس قدر کمزور ہے کہ وہ اس ڈیم کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور نہ کرسکے ۔؟ ایسا نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا حکومتوں نے پانی کے ایشو کومد نظررکھتے ہوئے اس کیلئے فنڈز کا بندوبست کیا پانی کے مسئلے کے ذمہ دار صاحب اقتدار لوگ ہیں، دوسری جانب درخت لگانے کا کام بھی صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے، پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیاگیا، لیکن ہم کیا کریں روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کرسکتے، ووٹ کوعزت دو کا مطلب یہ ہے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں، لیکن یہا ں ایسی صورتحال نہیں ، تاہم ہم پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اربوں روپے کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندر میں ضائع کر رہے ہیں، اگر اس معاملے پرتوجہ نہ دی گئی تو پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگرپانی نہ ہوا تو ہماری زمین بنجر ہو جائے گی،اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پانی کے تحفظ کے لئے ملک بھرمیں پانی کے ذخیرے بننے چاہئیں، چیف جسٹس نے کہا ذخیرہ بننے چاہیں لیکن پانی کون ذخیرہ کرے گا۔؟ ووٹ کی عزت یہ ہے کہ لوگوں کو بنیادی حقوق دیں۔ووٹ کی یہ عزت ہے عوام کو صاف پانی اور ہوا دیں۔ اربوں روپے کا پانی سمندر میں جاتا ہے ۔زندگی کا وجود پانی کے ساتھ ہے۔ بھارت کی وجہ سے نیلم دریا بھی ختم ہو جائے گا۔ پانی کے مسئلے کو بطور قوم حل کرنا پڑے گا۔سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک کوبھی میں نے پانی کے مسئلے پر بلایا ہے۔

یہ کس قدر ظلم اور تعصب ہے کہ اتفاق پیدا ہوجائے تو کالاباغ کا پانی چاروں صوبوں کا پانی ہے، کالاباغ ڈیم کا نام سنتے ہی سندھ اور کے پی میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے۔مسائل سے لڑ کر ہی ان کا حل نکالا جاتا ہے اعتراز احسن کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اتفاق رائے کے بغیر کالاباغ ڈیم بننے سے وفاق کمزور ہوگا،میرے خیال میں یہ محض ڈراوا دینے کی باتیں ہیں کہ جیسے کہا گیا کہ پاکستان کو تورا بورا بنادیا جائے گا ،اس سے قبل کہاگیا کہ بھارت کے سامنے اگر ایٹمی دھماکے کئے تو ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا ،ہوا کیا ،سب دھمکیاں جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں۔اب بھی ڈرایا جارہا ہے 'وفاق کوئی کانچ کی چوڑی نہیں کہ جو کالا باغ ڈیم بننے سے ٹوٹ جائے گی ۔ دریائے راوی میں گندا پانی ڈالا جا رہا ہے۔ حالیہ بارش نہ ہوتی تو 15 دن بعد یہاں پانی نہ ہوتا، مون سون کی بارشوں کا پانی زیادہ ہو جاتا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کا کام تب ہوگا جب دل میں درد ہو گا۔آئندہ نسلوں کو بچانے کے لئے ایک نسل کو قربانی دینی پڑتی ہے، لگژری گاڑیاں خرید لیں، بڑے بڑے محلات بنالیں ،آسمان پر اڑتے پھریں اگر پانی نہیں تو زندگی نہیں ۔ووٹ کو نہیں ووٹرکو اور اب اس سے پہلے۔پانی کو عزت دو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved