جنرل مزمل موقف'کالا باغ ڈیم' کچھ ماضی کے واقعات
  12  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

کالا باغ ڈیم کی باسی ہانڈی میں پھر ابال آیا ہے۔ چیئرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے سامنے ڈیم کے حوالے سے بلوچستان میں پانی قتل کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ اخبارات میں یہ بریفنگ شائع ہوگئی ہے لہٰذا اس طرف جانا غیر ضروری ہے مگر مجھے نوشہرہ کے ڈوبنے جیسے اندیشوں و وٹوک مسترد کرنے والے غیرت مند پشتون انجینئر اور سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک کی عظمت' فکر اور تدبر کو سلام عقیدت پیش کرنا ہے جو نوشہرہ سے تعلق رکھنے کے باوجود پشتون ہونے کے باوجود بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے پرجوش حامی اور مئوید رہے ہیں۔ پختونخوا سے پہلے جب یہ صوبہ سرحد کہلاتا تھا تو اس میں مرحوم ولی خان خاندان اور ان کے حواری مثلاً بلور خاندان ہی کالا باغ ڈیم کے مخالف تھے۔ ولی خان تو مخصوص پشتون سیاسی پروگرام کے گدی نشین تھے لہٰذا وہ کالا باغ کو مسئلہ بناکر پشتونوں میں اپنی اہمیت پیدا رکھتے تھے۔ ان کے حلقہ سیاست میں بلور خاندان اصلاً پشتون ہے ہی نہیں۔ یہ خاندان ماضی بعید میں سرگودھا سے ہجرت کرکے روزی روٹی کے لئے پشاور میں آکر آباد ہوا' یہ بات مجھے مرحوم عبدالغفور ہوتی نے تفصیل سے بتائی تھی کہ کس طرح دوکانداری اور اشیاء ضروریات کی خریدو فروخت کرتا کرتا مالدار ہوا اور پھر خود کو مالی سطح پر مضبوط کرتے ہوئے سیاسی طور پر ولی خان سیاست کے ساتھ ملحق ہوا۔ ولی خاندان کو یہ فائدہ ہوا کہ تاجر اور دوکاندار خاندان نے ان کی سیاست میں ''سرمایہ کاری'' شروع کر دی اور بلور خاندان کو یہ فائدہ ہوا کہ سرگودھا کے پنجابی پس منظر کی ''گرد'' دفن ہوگئی اور وہ پشتونوں کی سیاست پر اتنا قابض ہوگیا کہ پورا خاندان اسمبلیوں' سینٹ میں دوامی نشستوں کا حامل رہا۔ مجھے بلور خاندان' سرگودھا پس منظر' کو سلام پیش کرنا ہے کہ انہوں نے اپنی ذہانت سے سیاست اور تجارت سے ناممکن کو ممکن بناکر اے این پی پر عملاً قبضہ کیے رکھا۔ اس قبضے کے استحکام کے لئے بلور خاندان نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کو بھی زندگی موت کا مسئلہ بنائے رکھا ہے۔ بلور خاندان تو پنجابی سرگودھا والے ہیں مگر کیا شمس الملک کوئی پنجابی ہے؟ جو چیئرمین واپڈا عہد سے بڑھاپے تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا پرجوش حامی ہے جبکہ مشہور سیف اللہ خاندان جو جنوبی اضلاع کے پختون خوا سیاسی کردار کا نام ہے۔ کیا یہ خاندان یعنی انور سیف اللہ' سلیم سیف اللہ' انجینئر ہمایوں سیف اللہ پنجابی ہیں؟ جی نہیں بالکل پکے لکی مروت کے پشتون مگر یہ خاندان کالا باغ ڈیم کا کیوں پرجوش حامی ہے پشتون ہوکر بھی؟سابق سینیٹر زاہد کالا باغ کے خلاف بول رہے تھے میں ہنستا رہا کہ سینیٹر زاہد کی اہلیہ پنجابی ڈاکٹر ہیں اور پنجاب کے خلاف ولی خان کے ماضی بعید کی طرح سینیٹر زاہد بھی ارشادات فرماتے ہیں۔ کالا باغ پر الزام ہے کہ پشتون ڈوب جائیں گے اور پنجاب کو پانی ملے گا۔

حیرت ہے پنجابی ڈاکٹر خاتون کے شوہر کس دلیرانہ انداز میں کاروبار منافقت فرمایا کرتے تھے؟ کالا باغ ڈیم میں ایک عہد ایسا تھا کہ میر ظفر اللہ جمالی بلوچ ہوکر بھی آج تک کالا باغ ڈیم کے حامی ہیں ۔ سندھی مرحوم پیر پگاڑا کالا باغ ڈیم کے مکمل حامی تھے۔ معترضین کے جواب میں کہتے بالا کالا باغ ڈیم بنے گا تو میرے سندھیوں کی زمینوں کو بھی وافر پانی ملے گا۔ کیا پیر پگاڑا کے حامی سندھی نہیں تھے؟ کیا سرائیکی سندھ کے قریب نہیں؟ ایک سینیٹر سومرو کی طرح سندھ سے ڈاکٹر قادر مگسی جو سندھ ترقی پسند پارٹی رکھتے ہیں ' فرماتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا پڑے گا۔ حیرت ہے کہ یہ سب کھاتے پاکستان سے ہیں مگر کام پاکستانی سرزمین کے مفادات کے خلاف کرتے ہیں۔ ابھی محمود اچکزئی کو دیکھ لیں۔ مولانا فضل الرحمن کو دیکھ لیں۔ یہ دونوں بزرگ فاٹا انضمام کے مخالف تھے اور ہیں۔ اب تو محمود اچکزئی نے پشتون تحریک کی حمایت کے لئے واویلا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کا احسان کیا کم تھا کہ پاکستان مخالف اچکزئی خاندان کو اور فضل الرحمن کے مذہبی سیاست کرنے والے پاکستان مخالف خاندانوں کو قبول کیا اور سیاست و اقتدار میںحصہ لیا۔ سرزمین پاکستان کا کتنا حوصلہ ہے؟ فوج اور ریاستی اداروں کا کتنا حوصلہ ہے؟ کالا باغ ڈیم کی صوبہ سرحد میں مخالفت کا اصل سبب جنرل فضل حق گورنر کا ذاتی کچھ معاملات میں جنرل ضیاء الحق کو بلیک میل کرنا تھا۔ وہ ولی باغ سے رابطہ بھی رکھتے اور بیگم نسیم ولی کو بھی مطمئن رکھتے تاکہ ان کی سیاست میں ترقی رہے۔ ان کے کچھ خاندانی معاملات میں مثلاً ان کے بھائی کی کرپشن کے معاملات تھے اس پر جنرل ضیاء الحق سخت موقف رکھتے تھے اس احتسابی مصیبت کو ختم کرنے کا آسان طریقہ جنرل فضل حق کا کالا باغ کو متنازعہ بنانا تھا۔ ایک جنرل اقتدار میں دوسرے بڑے جنرل کو ان کے اقتدار میں ہی بلیک میل کرتے ہوئے کالا باغ ڈیم کو متنازعہ بنایا گیا۔ حالانکہ فضل حق سے پہلے نہ ہی بعد میں ان کا عوام یا سیاست سے تعلق تھا۔ فوج کا کھایا' فوج کا اقتدار پایا اور فوج کی حب الوطنی کے سامنے کالا باغ کو متنازعہ بنایا۔ پیپلز پارٹی کی پیدائش لاہور میں ہوئی مگر اس کی گدی لاڑکانہ میں منتقل ہوئی۔ بھٹو اور بے نظیر کالا باغ کے حامی تھے۔ موجودہ جتنا بھی کالا باغ کی فائونڈیشن کا کام ہے وہ بھٹو کا کیا ہوا ہے۔ آصف زرداری نے جو کچھ کمایا اس سے پنجاب میں پی پی پی کا صفایا ہوگیا ہے اس کی ایک وجہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت بھی ہے۔ پنجابی خواہ جنوبی پنجاب کے ہوں یا سینٹرل پنجاب کے ہوں وہ کالا باغ کو قومی اثاثہ سمجھ کر اس کی تعمیر کے حامی ہیں۔ اب منظور وٹو تک آزاد امیدوار بن رہے ہیں اور اعتزاز احسن وغیرہ الیکشن لڑ ہی نہیں سکتے۔ ایسی پارٹی جو جائز ڈیم کی سندھی ہوکر مخالف ہو پنجاب میں اس کو ووٹ کون دے گا؟ چیئرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین نے جو تجاویز دی ہیں اس کی حمایت کرتاہوں ڈیم کا سندھ کو کنٹرول دے دیا جائے تاکہ قوم پرستانہ پی پی پی اور دوسروں کی بلیک میلنگ ختم ہو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved