مقبوضہ کشمیر : جنگ بندی کا ڈرامہ فلاپ' بھارتی فوج کے ہاتھوں چھ نوجوان شہید
  12  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج نے دراندازی کا الزام عائد کر کے مزید چھ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے جس پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا ہے ،بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں ایک بار پھر بھارتی فوج نے کارروائی کی ہے اور چھ نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے جن پر دراندازی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔بھارتی فوج کے حکام کے مطابق بھارتی فوج اور مبینہ مجاہدین کے درمیان جھڑپ ہفتہ کی شام کو شروع ہوئی جو رات بھر جاری رہنے کے بعد اتوار کو اختتام پزیر ہوئی جس میں 6جنگجوئوں کو شہید کیا گیا ہے جو کنٹرول لائن عبور کر کے کیرن سیکٹر میں داخل ہوئے تھے۔کارروائی میں بھارتی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یہ آپریشن بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں فوج کی گشتی پارٹیوں پر حملوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ایک چرواہے کی نشاندہی پر کشمیری نوجوان کی تشدد زدہ لاش بھی ملی تھی جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے بھی بھارتی فوج نے تشدد کا نشانہ بناکر شہید کیا۔ جنت نظیر وادی میں 1989 ء سے جاری قابض بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کے دوران 70 ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی چالوں میں آکر کوئی کشمیری نہ تو بھارتی مراعات کو قبول کرنے پر تیار ہے نہ ہی حریت قیادت بھارتی مذاکرات کاروں کو منہ لگانا چاہتی ہے جس بہیمانہ انداز میں آئے روز بے گناہ نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کیا جاتا ہے اس سے بھارتی فورسز کیخلاف نہتے کشمیریوں کی نفرت میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور وہ بھارتی بربریت،انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں ،لوٹ مار خواتین کی بے حرمتی کیخلاف سراپا احتجاج بن کر دنیا کی توجہ اس انسانی مسئلے کی طرف دلاتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی ایسے ہی واقعے میں بے گناہ نوجوانوں کو درانداز قرار دے کر شہید کیا گیا ۔بھارت کے علاقے میں سیکورٹی کے اس قدر سخت انتظامات ہیں اور کنٹرول لائن کو کسی بھی جگہ سے عبور کرنا ناممکن ہے ۔خار دار تاروں ،روشنی کے ٹاورز اور اسرائیلی ساختہ جدیدآلات سے ممکن ہی نہیں کہ کوئی بھی شخص پاکستانی علاقے سے بھارتی مقبوضہ علاقے میں داخل ہوسکے، اسکے باوجود بھی دنیا کے سامنے منفی پروپیگنڈہ کرتے ہوئے حیلے بہانوں سے آزادی کا حق مانگنے والوں کو شہید کیا جارہا ہے ۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیااور فوری طور پر دکانیں اور بازار بند ہو گئے۔مظاہرین نے بھارتی فورسز پر پتھرائوکیا جس کے جواب میں بھارتی فورسز نے آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیلٹ گنوں کو استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔مقامی لوگوں کے مطابق بھارتی فوج جھڑپوں کا ڈرامہ رچا کر نوجوانوں کو شہید کر رہی ہے۔اس واقعہ سے بھارتی فو ج کا جنگ بندی کا ڈرامہ بھی فلاپ ہو گیا اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آشکار ہوا ہے۔ بارہمولہ میں ہارون ، یمبرزلواری اور دیگر دیہات کے سینکڑوں لوگوں نے انجینئر رشید کی سربراہی میں فوج کی چیرہ دستیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور علاقہ میں زیادتیاں بند کرنے کا فوری مطالبہ کیا۔ امر واقع یہ ہے کہ ماہ صیام کا بھی احترام نہیں کیا جارہا ہے اور شمالی کشمیر کے بارہ مولا ضلع میں ہارون ' یمبرزلواری اور دیگر دیہات کو بھارتی فوج نے جیل میں بدل دیا ہے۔ان دیہات کی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ پیدل چلنے والوں کو بلا لحاظ عمر و جنس فوجی کیمپوں میں انٹری کرانی پڑتی ہے۔ہماری رائے میں نام نہاد سرچ آپریشن کشمیریوں کی نسل کشی کا منصوبہ ہے اور کالے قوانین کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مخدوش ہی رہے گی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ا قوم متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،یہ سیکرٹری جنرل اقوم متحدہی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے فوج کے انخلاء پر مجبور کریں وہاں امن دستے تعینات کئے جائیں اقوام متحدہ رائے شماری ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر کرے جوکہ رائے شماری کرائے ۔ اعلیٰ بیوروکریسی میں تبادلے : نچلی سطح تک اکھاڑ پچھاڑ کرکے انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے وفاقی اور صوبائی اعلیٰ بیوروکریسی میں تبادلوں کے لئے فہرستیں نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کو ارسال کردی گئی ہیں' وزیراعظم آفس وفاقی بیوروکریسی اور بالخصوص صوبوں کے پولیس سربراہان اور چیف سیکرٹریز کے تبادلوں سے متعلق مشاورت کررہا ہے۔ آنے والے دنوں میں صوبائی نگران حکومتوں کی مشاورت سے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کے تبادلے کردیئے جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر جانے والی حکومت اپنے ورثے میں ایسے لاڈلے اور چہیتے منہ زور افسران کو چھوڑ جاتی ہے جوکہ اس حکمران جماعت کی کارستانیوں کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں اور اپنا کھایا پیا بھی ہضم کرتے ہیں عام انتخابات میں اپنی انتظامی طاقت کا وزن اپنی فیورٹ جماعت کے پلڑے میںدال دیتے ہیں ۔ یہ بات نگران وزیر اعظم کو اچھی طرح معلوم ہوگی کہ ایک تھانیدار اور پٹواری کسی بھی حلقے میں اثر انداز ہوکر انتخابی نتائج کو اپنے مہربانوں کے حق میں کروادیتا ہے ۔بیوروکریسی کے مہرے اور کل پرزے انتخابات کی شفافیت پراثر انداز ہوتے ہیں ۔یہ وزیر اعظم ناصر الملک کا صائب فیصلہ ہے کہ وہ اس طرف توجہ دے رہے ہیں ۔بتایا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گزشتہ ہفتے وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی میں تبادلوں کے لئے پولیس سروس آف پاکستان ' ایڈمنسٹریٹیو سروس اور سیکرٹریٹ گروپ کے سینئر افسروں کے ناموں پر مشتمل فہرستیں وزیراعظم آفس کو بھجوائیںجن کی روشنی میں وزیراعظم آفس وفاقی بیوروکریسی بالخصوص وزارت داخلہ ' اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اہم ڈویژنوں کے سیکرٹریوں کے تبادلوں پر غور کررہا ہے جبکہ صوبوں میں چیف سیکرٹریوں اور پولیس سربراہوں کے تبادلوں پر بھی مشاورت جاری ہے تاہم صوبائی بیوروکریسی کے تبادلے نگران وزیراعظم نگران وزراء اعلیٰ کی مشاورت سے کریں گے۔ ہماری رائے میں انتخابات میں شفافیت اور آزادانہ و منصفانہ انداز میں ووڑنگ کو یقینی بنانے کیلئے وہ تمام اقدامات اٹھائے جائیں جو اس ذیل میں ناگزیر ہیں تاکہ کل کوئی بھی جماعت ان کی حیثیت کو مشکوک نہ بنا سکے ۔یہ نگران وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے انتخابات پرکسی بھی قوت کو اثر انداز نہ ہونے دیں ،اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں جملہ اقدامات کو یقینی بنائیںالیکشن سے قبل اور اس روز بھی بعض علاقوں میں گھوسٹ پولنگ اسٹیشنوں کا بھی انکشاف ہوتا ہے جہاں مہریں ٹھپے فراخدلی سے لگائے جاتے ہیں ایسے ہی گھوسٹ پولنگ اسٹیشنوں بارے بھی خبریں آچکی ہیں ملک بھی میں جہاں بھی ایسے گھوسٹ پولنگ اسٹیشنوں کاکوئی ثبوت ملے ان کا خاتمہ کیا جائے ۔ ماضی میں عوامی مینڈیٹ چرانے کے نتیجے میں شخصی آمریتیں قائم ہونے سے ملک میں جہاں بدترین لوٹ مار کی گئی وہاں عوام کو جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے محروم کردیا گیا ۔ترقی کے نام پر تنزلی ہی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال، بلکہ ضیاع کیا گیا ہے ۔امیدواروں کی بھی اچھی چھان بین کی جائے۔ کسی بھی سرکاری افسر اور ملازم کو انتخانی عمل اور عوامی رائے پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے ۔

رمضان کا آخری عشرہ اور عید کی آمد فول پروف سیکورٹی یقینی بنائی جائے رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی اپنی انتہا کے قریب ہے اور عید سعید کی پراز برکت ساعتیں قریب سے قریب تر ہوتے جا رہی ہیں ، اس روز سعید کی مناسبت سے ہر طبقہ حیات کے لوگ ، اپنی اپنی بساط کے مطابق خریداری میں مصروف ہیں ، بازار بھرے ہوئے ہیں ، ٹرانسپورٹ اڈوں پر کھوے سے کھوا چھلتا ہے ،سڑکوں پر ہجوم ِبے پناہ کے سبب اژدھام کی سی کیفیت ہے ، ہر امیر اور غریب مقدور بھر کوشش میں ہے کہ امت مسلمہ کے لئے رب کی طرف سے طے کردہ روز سعید پر اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹ سکے ، ایسے میں چونکہ رش کے سبب سیکیورٹی کا وہ معیار قائم رکھنا ممکن نہیں رہتا جو حفاظت کی یقینی ضمانت بن سکے اس لیئے امن اور انسانیت کے دشمن دہشت گرد فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں ، اس بار بھی سیکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے تنبیبہ موجود ہے کہ ملک کے بڑے شہروں کے پر رونق بازاروں میں دہشت گردوں کی وارداتوں کا خطرہ ہے ، اس حوالہ سے ملکی سلاتی کے ادارے تو الرٹ ہیںہی ، پولیس بھی سیاسی ڈیوٹیوں سے جتنی ایک نفری بچتی ہے اس کے ساتھ اپنے فرض کی ادائیگی میںکمر بستہ ہے ، اطلاعات ہیں کہ مشکوک علاقوں میں گشت بڑھا دیا گیا ہے ، نفری میں اضافہ ہوگیا ہے اور چوکسی بھی فزوں تر کردی گئی ہے ۔ اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ نفری پر انحصار کے بجائے از خود بھی موقع پر رہیں اور جوانوں کو فرنٹ سے لیڈ کرنے کی اپنی روائت کو برقرار رکھیں تاکہ دشمن کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ایسی خبتریں بھی سوشل میڈیا پر اسیکورٹی الرٹ کے طور پر چل رہی ہیں جن سے خیر کا پہلو نہیں نکل رہا ۔یقینی طور پر پاکستان کا ازلی دشمن نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن رہے جو مقبوضہ کشمیر میںماہ صیام میں آزادی کے متوالوں کوق شہید کرسکتا ہے وہ پاکستان میں عوم کو کس طرخ شاداں و فرحاں دیکھ سکتا ہے ۔ ؟ المیہ یہ ہے کہ دشمن کو ہمارے اندر سے ہی کئی ہاتھ دستیاب ہیں اور یہی بدقسمتی ہے جس کے سبب بعض اوقات چوک ہوجاتی ہے اور بدبختی اپنا وار کرجاتی ہے ، اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بطور قوم سارے کام فورسز پر نہ ڈالیں ، کچھ کام ایسے ہیں جو صرف ہمارے کرنے کے ہیں وہ فورسز نہیں کرسکتیں ، انہی کاموں میں سے سب سے اہم اپنے ارد گرد نگاہ رکھنا اور کسی بھی مشکوک کردار کو اپنے تعلق واسطے سے ماوریٰ ہوکر اس کے انجام تک پہنچانا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ رکھنا شروع کردیں تو دہشت گردی کے واقعات میں ستر فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved