کچھ اچھے لوگوں کی اچھی باتیں!
  12  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سپریم کورٹ نے احتساب عدالت میں شریف خاندان کے ریفرنسوں کی سماعت میں ایک ماہ کی توسیع اور اس مدت میں فیصلہ سنائے جانے کی ہدائت کر دی۔ 9ماہ سے ان ریفرنسوں کے وکیل صفائی خواجہ حارث نے مزید وکالت چھوڑ دی۔O سپریم کوورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کو لندن جانے کی اجازت دے دی اس کے لئے درخواست طلب کر لی۔ نوازشریف نے درخواست دینے سے انکار کر دیا۔O دبئی میں مقیم جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے، میں پاکستان واپسی کے بارے میں بہت کنفیوزڈ ہوں۔ میرے پاس تو پاسپورٹ ہی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال کر دیاO آج سنگا پور میں امریکہ اور شمالی کوریا کے صدور کی ملاقات ہو رہی ہے، اب تک شروع ہو چکی ہو گی۔ O امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈر کو بددیانت اور کمزور قرار دے دیا، جسٹن ٹروڈر نے امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کر دیا۔O چیف جسٹس کے حکم پر 35 شوگر ملوں نے لاکھوں کسانوں کو 20 ارب روپے کے واجبات ادا کر دیئے، باقی دو ملوں کو دو دنوں میں واجبات ادا کرنے کا حکم۔O انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر تحریک انصاف، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا شدید احتجاج، دھرنے، مظاہرےO الیکشن میں حصہ نہیں لوں گا، جاوید ہاشمی (13 ستمبر کو صدر مملکت کی نشست خالی ہو رہی ہے وہی کافی ہے)…فائونٹین ہائوس کو چیف جسٹس کا عطیہ۔ ٭قارئین کرام! بہت سی خبریں اور بھی آ رہی ہیں۔ ایک مختصر سے کالم میں ان سب پر کچھ لکھنا مشکل ہے۔ کسی ترتیب کے بغیر مختصر مختصر پڑھئے۔ شوگر ملوں نے مختلف بہانوں سے طویل عرصے سے گنے کے کسانوں کے اربوں روپے کے واجبات دبا رکھے گھے ان میں نوازشریف، شہباز شریف، آصف زرداری، جہانگیر ترین، ذوالفقار مرزا اور چودھری برادران کی ملیں بھی شامل تھیں۔گنے کے لاکھوں کاشت کار ان ملوں کے پھیرے لگا لگا کر بے حال اور بدحال ہو گئے۔ ان ملوں کے جابر مالکان کو الیکشن لڑنے کے لئے سرمایہ درکار تھا، کسانوں کے واجبات ادا نہ کرنے کے بہانے بناتے رہے۔ ایک روز یہ مجبور، غریب کسان سپریم کورٹ کے باہر پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ نے ڈنڈا پکڑا، چیف جسٹس نے فوری ادائیگی ورنہ جیل کا حکم سنا دیا۔ اور 35 ملوں نے ایک عرصے سے رکے ہوئے 20 ارب روپے ادا کر دیئے۔ باقی دو ملوں کے واجبات بھی ادا ہو چکے ہوں گے۔ ملوں کے مالکان نے بتایا کہ کچھ کسان واجبات لینے نہیں آئے (مایوس لوگ!) چیف جسٹس نے حکم دیا ایسے لوگوں کو گھروں پر جا کر ادائیگیاں کی جائیں۔O کراچی لاکھوں من کچرے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، مراد علی شاہ نے کچھ نہ کر سکے۔ چیف جسٹس نے سخت کارروائی کا انتباہ کیا۔ گزشتہ روز کراچی گئے تو اس کی صفائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کراچی میں چھ ہزار اساتذہ کو کئی طویل رصے سے تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو بلا کر فوری ادائیگی ورنہ سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔ ادائیگیاں شروع ہو گئیںO آخری بات کہ ایک عرصے سے چیف جسٹس اتوار کی چھٹی نہیں کر رہے۔ کراچی اورلاہور میں رات گئے تک عدالت لگتی ہے۔ مختلف مسائل سے دو چار بے شمار افراد کے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم صحافیوں کو تنخواہیں ملنے لگی ہیں (اوصاف میں کبھی تنخواہ نہیں رکی)۔ ٭قارئین کرام! ایک کالم میں بتا چکا ہوں کہ بہت سے دوسرے رفاہی اداروں کی طرح لاہور میں1967ء سے قائم عرصے سے ذہنی معذور افراد کے بلامعاوضہ علاج معالجہ کے قدیم رفاہی ادارے 'فائونٹین ہائوس' سے اب تک 20 ہزار سے زیادہ ایسے افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت اس ادارے میں دماغی طور پر دین و دنیا سے بے خبر تقریباً 550 افراد (150 خواتین) کو بلا معاوضہ رہائش، خوراک اور علاج معالجہ کی سہولتیں میسر ہیں۔ اعلیٰ قابلیت کے ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹرز یہاں کام کرتے ہیں۔ ماضی کی معروف اداکارہ 'روحی بانو' بھی طویل عرصے سے یہاں زیر علاج ہے۔ میں اس ادارے کا اعزازی رکن ہوں۔ کچھ نہ کچھ خدمت کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ گزشتہ روز (اتوار) کو عدالت میں سماعت کا کچھ وقفہ ہوا تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، دوسرے دو ججوں سمیت فائونٹین ہائوس میں زیر علاج مریضوں کا حال دیکھنے پہنچ گئے۔ انہوں نے ان افراد کے مختلف شعبے دیکھے۔ تقریباً 200 افراد رضاکارانہ طور پر مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہی۔ انہیں نہلاتے، کپڑے تبدیل کرتے ہیں اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتوار کے روز چھٹی ہوتی ہے مگر ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب اور دوسرا عملہ چھٹی کے روز بھی موجود تھا۔ چیف جسٹس نے ادارے کے انتظامات اور مریضوں کی دیکھ بھال پر اطمینان کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ وہ عیدالفطر اس ادارے کے ارکان (مریضوں کو ارکان کہا جاتا ہے) کے ساتھ منائیں گے! ایک دلچسپ بات کہ شعبہ خواتین میں ایک خاتون نے چیف جسٹس سے چوڑیوں اور پرفیوم کی فرمائش کر دی۔ چیف جسٹس نے ایک لاکھ روپے کے عطیہ کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زیر علاج تمام خواتین کو عید کے موقع پر چوڑیاں اور پرفیوم کے تحفے دیئے جائیں۔ اس ادارے کے ذریعے دین و دنیا سے بے خبر ان لاچار افراد کی خدمت میں شرکت میرے لئے ہمیشہ باعث اعزازو فخر ہوتی ہے۔ چند عیدیں ان لوگوں کے ساتھ منا چکا ہوں۔

٭فائونڈین ہائوس کی بات کچھ لمبی ہو گئی مگر کیا ملک بھر میں فساد انگیز بے ہودہ سیاست اور ملک کے وسائل نئے سرے سے استحصال کرنے کے خواہاں برے بڑے جاگیردار لٹیروں کی باتیں دہرانے سے یہ بہتر نہیں کہ اچھے لوگوں کی اچھی باتیں کی جائیں۔ اسی ملک میں جہاں ملک کو لوٹنے اور بیرون ملک اربوں کھربوں کے اثاثے بنانے والے عدالتوں میں عبرت انگیز پیشیاں بھگت رہے ہیں، ملک کے اسی شہر لاہور میں آنکھوں کے سپیشلٹ ڈاکٹر پروفیسر انتظار حسین بٹ، ہر سال ملک کے اندر اور الجزائر، سری لنکا، اردن اور افریقہ کے دوسرے ممالک میں اپنے کچھ انسان دوست ڈاکٹر ساتھیوں کے ہمراہ کیمپ لگا کر غریبوں لوگوں کا بالکل مفت علاج کرتے ہیں، آنکھوں کے آپریشن کرتے ہیں اور انہیں نظر کی عینکیں بھی مفت فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انتظار حسین نے بتایا ہے کہ اب تک ملک کے اندر اور باہر 60 ہزار سے زیادہ غریب لوگوں کی خدمت کر چکے ہیں۔ اسی شہر لاہور میں مشہور آبی انجینئر بی اے ملک (مرحوم) بھی تھے۔ وہ آخری دنوں میں اپنی عمر بھر کی جمع پونجی'چھ کروڑ روپے' شوکت خانم ہسپتال سمیت مختلف ہسپتالوں کو عطیہ میں دے گئے۔ اپنی ملک صاحب کے بیٹے نفسیات کے مشہور سپیشلسٹ ڈاکٹر پروفیسر سعد بشیر لاہور سے باہر مختلف شہروں، نارووال، وہاڑی، بوریوالہ وغیرہ کے دیہات میں کیمپ لگا کر نفسیاتی مریضوں کا بلا معاوضہ علاج کرتے ہیں۔ بہت سے اور ادارے بھی ہیں۔ اور اسمبلیوں میں پورے خاندان سمیت گھسنے اور حکمرانی کے لئے دیوانہ ہونے والوں کو سبق دے رہے ہیں کہ آخری آرام گاہ صرف ساڑھے چھ فٹ لمبی اور ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے، اس میں کوئی سٹیل ملز، کوئی پلازہ، کوئی فلیٹ ساتھ نہیں جا سکتا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved