ٹھپے پہ ٹھپا
  14  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

یہ کمال پاکستان کی سیاست میں ہی ممکن ہے کہ پانچ سال شیر کے قصیدے پڑھنے والے پہلوان راتوں رات بیٹ والی جماعت کا ٹکٹ دانتوں میں دبائے لنگوٹ کس کے انتخابی اکھاڑے میں ڈنڈ پیلتے نظر آرہے ہیں ۔ یہ کام دوسرے کریں تو چالاکی اگر اپنی پارٹی کرے تو حکمتِ عملی ۔ عملی سیاست اسی قسم کی چالاکیوں اور موقع پرستی پہ یقین رکھنے والوں کا کھیل ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو نظریاتی کارکن حزبِ اختلاف کے خشک و بنجر صحرا میں دھکے کھاتے ہوئے ہی یاد آتے ہیں ۔ اِن نظریاتی پٹھوں سے پہلوانوں کی مالش تو کروائی جاتی ہے لیکن کبھی انتخابی اکھاڑے میں نہیں اُتارا جاتا ۔ ظاہر ہے کمزور پٹھا اکھاڑے میں اپنے بھی کُھنے سکواتا ہے اور اپنی پارٹی کو بھی چاروں شانے چت کروادیتا ہے ۔ پی ٹی آئی گزشتہ انتخابات میں پڑنے والی کُٹ کے بعد آج تک دُکھنے والی جگہوں پہ سکائی میں مصروف ہے ۔ ٹکٹوں کی تقسیم پہ واویلا مچانے والے ماضی میں ہونے والی تاریخی انتخابی دُھلائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود پہ اور قبلہ چیئر مین پہ رحم فرمائیں ۔ چئیر مین صاحب اِس عمر میں نظریاتی کارکنوں کی ضمانتیں ضبط ہونے کے صدمے اور مزید پانچ سال ایوانِ وزیرِ اعظم سے دوری جیسے دکھ سہنے کی تاب نہیں رکھتے ۔ تمام نظریاتی کارکنوں سے ہمدردانہ گزارش ہے کہ پار ٹی کے ٹکٹ ہولڈر پہلوانوں کی دل لگا کے مالش کریں اور قبلہ چئیر مین کی سیاسی چالاکی کو حقیقت پسندانہ انتخابی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا کے محاز پہ سیاسی مخالفین کی بینڈ بجاتے ہوئے نئے پاکستان کی جانب کوئیک مارچ شروع کریں ۔ انور مسعود صاحب کی رباعی یاد آگئی :۔ شاعرانہ اور ظریفانہ ہو گر ذوقِ نظر زندگی میں جا بجا دلچسپ تشبیہیں بھی ہیں ریل گاڑی اور الیکشن میں ہے اک شے مشترک لوگ بے ٹکٹے کئی اِس میں بھی ہیں اُس میں بھی ہیں ٭٭٭٭٭٭ بڑے میاں صاھب کے وکیل ِ محترم مقدمے کی پیروی سے انکاری ہیں ۔ اِس عجیب و غریب حرکت کی وجہ اُن کے بقول نہایت معنی خیز ہے ۔ وکیلِ محترم نے عدلیہ کی جانب سے دبائو کی شکایت کی ہے ۔ عدلیہ نے چھے ہفتوں میں زیرِ التواء مقدموں کے فیصلے صادر کرنے اور اِس مقصد کے لیے ہفتے اتوار کے دنوں میں بھی عدالت لگانے کی ہدایت جاری کی ۔ ویک اینڈ پہ عدالت میں پیشی محترم وکیل صاحب کی طبع نازک پہ گراں گزری اور موصوف وکالت نامہ واپس لے کے اپنے موکل کو دشتِ عدالت میں بے یار و مددگار چھوڑ گئے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انصاف کی خاطر ویک اینڈ کی حُرمت کی پامالی ہمیں بھی اچھی نہیں لگی ۔ اِس معاملے میں عدلیہ ہتھ ہولا رکھے ۔ موکل اور وکیل کو ویک اینڈ انجوائے کرنے دے کیونکہ یہ ان دونوں حضرات کا بنیادی آئینی حق ہے ۔ رہ گئی بات احتساب اور انصاف کی تو اُس کی خیر ہے ۔ چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ! ہمیں گمانِ غالب ہے کہ ویک اینڈ پہ عدالت لگا کے نیب کے جج صاحبان بھی خوش نہیں ہوں گے اور دل ہی دل میں میاں صاحب کے وکیلِ محترم کی باغیانہ پُھرتی پہ خوش بھی ہوں گے کہ چلو کوئی مردِ جری تو ویک اینڈ کو عزت دینے کے لیے آواز اُٹھا رہا ہے ۔ ورنہ اِس معاملے پہ خود نیب کی حالت بھی کچھ ایسی ہے کہ مجبور ہیں اُف اﷲ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔ ٭٭٭٭٭٭ مودی جی کو ایک مرتبہ پھر بڑی زور سے سی پیک کا مروڑ اُٹھا ہے ! یہ تازہ وقوعہ چین میں ہوا جہاں شنگھائی کانفرنس کے موقعے پہ درد سے بلبلاتے ہوئے مودی جی چلائے کہ سی پیک منصوبہ بھارت کی سالمیت کے خلاف ہے ۔ کانفرنس میں ہمارے صدرِ محترم ممنون حسین صاحب بھی تشریف فرما تھے ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق قبلہ صدر صاحب نے مودی جی سے مختصر گفتگو فرماتے ہوئے خیریت دریافت کی اور نون لیگی روایات کے عین مطابق مقبوضہ کشمیر سمیت ایل او سی پہ بھارتی جارحیت کے تزکرے سے مکمل پرہیز فرمایا ۔ بھارت کی دہشت گردی اور پاکستان دشمنی پہ نون لیگی قیادت کی رضا کارانہ زباں بندی پہ طویل عرصے سے لعن طعن جاری ہے ۔ امریکہ بہادر کی شہہ کے بغیر شنگھائی کانفرنس جیسے فورم پہ مودی سی پیک کو ہدف بنا کے پاکستان اور چین کو واضح دھمکی نہیں دے سکتا ۔ بھارت سے دو طرفہ تعلقات سمیت پاکستان کی سلامتی کو لا حق خطرات کے حوالے سے نون لیگ سمیت تمام بڑی جماعتوں کو واضح پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے ۔ خصوصاً نون لیگ کو آئیندہ الیکشن میں بھارت کے متعلق اپنی پالیسی عوام کے سامنے ضرور لانی چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آخر وہ کیا نادرِ روزگار حکمتِ عملی یا فیصلے ہیں جن پہ نون لیگ کو اسٹیبلشمنٹ نے کام نہیں کرنے دیا ۔ ٭٭٭٭٭٭

انتخابات کے لیے امیدواروں کی تلاش میں سندھ کے علاوہ ملک بھر میں پی پی پی کا وہی حال ہو رہا ہے جو کسی عمر رسیدہ شخص کا رشتے کی تلاش میں ہوتا ہے ۔ چند ایک حلقوں کو چھوڑ کے بالآخر ٹکٹ دینے کے بعد مجبوری کی حالت میں کیے گیئے اُس رشتے کی سی کیفیت ہو گی جس میں دونوں فریق کہتے ہیں کہ تینوں کوئی لیندا نئیں تے مینوں کوئی دیندا نئیں ( تجھے کوئی لیتا نہیں اور مجھے کوئی دیتا نہیں ) ۔ پی پی پی باقی تین صوبوں میں کارکردگی کے جھنجھٹ میں پڑنے کے بجائے جوڑ توڑ کا جگاڑ لگانے پہ زیادہ توجہ دے گی ۔ صوبہ سندھ میں معاملہ کافی دلچسپ بھی ہے اور سنگین ہے ۔ ہمارے یارِ خاص تبریز میاں کا خیال ہے کہ دیہی سندھ کے عوام اُس وقت تک پی پی پی کو ووٹ دیتے رہیں گے کہ جب تک یہ جماعت حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت شروع کر کے کرپشن سے توبہ نہ کر لے یا عالمِ بالا سے کوئی بھٹو بنفسِ نفیس اپنے نام پہ ہونے والی سیاسی دو نمبری روکنے کے لیے اپنے فوت ہو جانے کا ایفی ڈیویٹ نہ بھجوا دے ۔ چونکہ مستقبل قریب میں ایسی انہونی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں لہٰذا بحالتِ مجبوری سندھ کے ووٹر نہایت مستقل مزاجی سے پی پی پی کے حق میں ٹھپے پہ ٹھپہ لگا تے رہیں گے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved