رمضان کے بعد کا روزہ
  14  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) روزے اور اُس کے حاصل تقویٰ کے حوالے سے مولانا ابو الحسن علی ندوی نے بڑی پیاری بات اپنے کتابچے ''دو روزے'' میں لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ روزہ دو طرح کا ہے۔ ایک روزہ تو رمضان کا ہے جو آدمی صبح سے شام تک رکھتا ہے۔یہ روزہ رمضان کے ساتھ ہی مکمل ہو جاتا ہے، لیکن ایک دوسرا روزہ بھی ہے۔ یہ رمضان کا روزہ نہیں، پوری زندگی کا روزہ ہے۔ رمضان کے روزے کا افطار روزہ دار شام کے وقت کرتا ہے لیکن پوری زندگی کا روزہ موت پر ہی ختم ہوتا ہے۔ یہ روزہ زندگی کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ اوریہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان پوری زندگی اُن چیزوں سے رُکا رہے جن سے اللہ نے منع کیاہے۔ ماہ رمضان میں آپ صبح سے شام تک کھانے پینے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے بچتے ہیں اور یوں ایک طیب اور جائز کام سے بھی اللہ کی رضا کی خاطر رکتے ہیں۔ رمضان کے روزہ کی یہ ٹریننگ سال کے بقیہ گیارہ مہینے گناہوں اور اللہ کی نا فرمانی سے بچنے کے لئے ہے۔ رمضان کے روزہ کی پابندیاں تو محدود وقت کے لئے ہیں لیکن جو چیزیں شریعت نے حرام کر دی ہیں، وہ مسقلاً حرام ہیں۔ مثلاً موسیقی ہر صورت میں حرام ہے۔ بے پردگی ہر صورت گناہ ہے۔ فحاشی و عریانی ہر صورت میں اللہ کے غضب کو بھڑکانے والی شے ہے، چاہے یہ شادی بیاہ کے موقع پر ہو یاجشن اورتہواروں کے مواقع پر۔ یوں تقویٰ کے حوالے سے رمضان کے روزہ کا پوری زندگی کے ساتھ رشتہ جڑ جاتا ہے۔بہرکیف اگر ہم گناہوں اور منکرات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اللہ نے ہم پر جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں اگراُن کو ادا نہیں کر رہے تو یہ بھی تقویٰ کے منافی ہے۔ اس لئے کہ یہ بھی اللہ کی نا فرمانی ہے۔ مثلاً اللہ نے ہم پر نمازفرض کی ہے۔ ہمیں امر باالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے۔ اُس نے جہاد ہم فرض کیا ہے۔ یعنی راہ حق میں اپنی توانائیاں،اپنی صلاحیتیں، اپنے اوقات اور اپنا جان و مال لگانا۔ جہاد ہی کی بلند ترین منزل قتال ہے، مگریہ ہر وقت فرض نہیں ہوتا۔البتہ جہاد بمعنی جدوجہد ہر وقت فرض ہے۔ قرآن کہتا ہے: ''اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔''(الحج۔٨٧) اگر ہم جہاد نہیں کرتے تو یہ بھی تقویٰ کے خلاف ہے۔ جہاد ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ سورة الحجرات میں فرمایا گیا کہ مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اللہ اور اُس کے رسولۖ پر اور پھر شک میں نہ پڑیں اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں۔(آیت :15 ) یعنی سچے اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کی راہ میں، اُس کے دین کی اشاعت اور نفاذ کے لئے اپنی توانائیاں خرچ کریں، اپنے وسائل خرچ کریں، اس راستے میں سختیاں اور مشکلات برداشت کریں۔ مکی زندگی میں یہی جہاد ہو رہا تھا۔آج مسلمانوں میں عام تصور یہ ہے کہ ہمارے پاس جو وقت ہے یہ دنیا کمانے اور دنیا کو بہتر بنانے کے لئے ہے، مگر ایک بندہ ٔمومن کا تصور یہ نہیں ہوتا۔ اگرچہ تلاش معاش کے لئے بھاگ دوڑ اورتگ ودو وہ بھی کرتا ہے، مگر اُس کی اصل توانائیاں جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت حق کے فریضے کی ادائی میں لگتی ہیں، امربالمعروف و نہی عن المنکر میں خرچ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں یہ کام بہر صورت کرنا ہے۔ پہلے تو یہ کام ہمیںزبان سے کرنا ہے، اور جب طاقت حاصل ہو جائے تو پھر قوت سے برائی اور غلط نظام کا راستہ روکنا ہے۔ یہ ہمارا فرض منصبی ہے۔ افسوس کہ ہم اِس سے غافل ہیں۔ہمیں اس کا شعورہی نہیں۔ چھوٹے چھوٹے مسئلوں تو میں ہم بڑے حساس ہوتے ہیں۔ مثلاً نماز میں ہاتھ کہاں باندھناہیں۔رفع یدین کرنا ہے یا نہیں؟ تراویح کی کتنی رکعات ہیں ؟لیکن اپنی اصل ذمہ داری اوربحیثیت امت اپنے مشن کی جانب ہماری کوئی توجہ نہیں۔ مسلمانان پاکستان ہی کے حال پر غور کرلیجئے کہ پوری قوم بغاوت کے راستے پر چل رہی ہے، مگر ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں۔ پوری قوم نے سودی معیشت اختیار کر کے اللہ اور اس کے رسولۖ سے جنگ چھیڑ رکھی ہے، لیکن ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مشن اور ذمہ داریوں کا شعور حاصل کریں ۔لوگوں تک دین کا پیغام پہنچائیں، غلبۂ دین حق کے لئے اپنی صلاحیتیں لگائیں۔ راہ حق میں جدوجہد کا آغاز دعوت سے ہو گا، اگرچہ پھر وہ مرحلہ بھی آئے گا جب یہ جدوجہد تصادم تک بھی پہنچے گی، لیکن پہلے ہی مرحلے میں تلوار ہاتھ میں لے لینا، یاآج کے دور میں بغیر تیاری کے عوامی تحریک برپا کردینا صحیح نہ ہو گا۔ نبی اکرمۖ کی حیات طیبہ کے مکی دورمیں جو دعوت کا دور ہے ہمیں قرآن کے ذریعے جہاد نظر آتا ہے۔ آپۖ کو حکم تھا کہ (وَ جَا ھِدْ ھُمْ بِہ جِھَادًا کَبِیْرًاo)(الفرقان :52 ) یعنی ''اُن سے اِس قرآن کے ذریعے بڑا جہاد کریں۔'' تو ہمیں بھی غلبۂ دین کی جدوجہد کے پہلے مرحلے میں دعوت دینی ہے، اور قرآن کے ذریعے جہاد کرنا ہے۔قرآن کے ذریعے لوگوں پر واضح ہو گا کہ اُن کی دینی ذمہ داریاں کیا ہیںاور مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس بات پرتو خوش ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ ہمیں قرآن میں ''خیرامت ''کہا گیا ہے، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ کتاب اللہ میں جہاں ہمیں یہ لقب دیا گیا ہے وہیں ہماری ذمہ داری امر بالمعروف و نہی عن المنکربھی بتائی گئی ہے۔آج مسلمان اِس سے بے گانہ ہیں،بلکہ انہیں اس کا شعور ہی نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ منبر و محراب سے بھی مسلمانوں کو اُن کی ذمہ داریاں یاد نہیں کرائی جاتیں۔ ہم اس بات کے تو امید وار بنتے ہیں کہ حضورۖ ہماری شفاعت فرمائیںگے لیکن وہ عظیم مشن جو آپۖ نے ہمارے حوالے کیا ہے، اُس سے مجرمانہ غفلت کوہم نے شعار بنا رکھا ہے'اور اللہ کے دین اوررسول اکرم ۖ کی لائی ہوئی شریعت کو پائوں تلے روند رہے ہیں۔ یہ عجیب بات ہو گی کہ ہم اپنا سارا وقت، صلاحیتیں، دنیا کمانے میں لگائیں اور دجالی فتنے کے سیلاب میں بہہ کر دنیا داری ہی کو اپنا مقصد حیات بنا لیں اور اس خیال سے کہ ہماری شفاعت ہو جائے گی، نیک بننے اوربحیثیت امت اپنے مشن کو ادا کرنے کی چنداں ضرورت محسوس نہ کریں۔ یہودی یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور لاڈلے ہیں۔لہٰذا جنت ہمارے ہی لئے ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگرفی الواقع ان کو اس بات کا یقین ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کریں، لیکن یہ ایسا ہر گز نہ کریں گے۔ یہ لٹمس ٹیسٹ ہمارے لئے بھی ہے۔ہمیں دنیا کی بجائے آخرت کی فوز و فلاح کو مقصد بنانا ہوگا۔ اگر ہمارے دل میں اللہ سے ملاقات کا شوق ہے، اور ہم دینی ذمہ داریوں کو ادا کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے فی الواقع آخرت کو مطلوب بنایا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے،تو پھر اپنے آپ کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ (جاری ہے)

آئیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی سے حرام، کو باہر نکال دیں گے۔ معیشت ،معاشرت اور معاملات میں منکرات سے بچیں گے، ہم سے دینی ذمہ داریوں کی ادائی میں جو کوتاہی ہو رہی ہے اس کا ازالہ کر کے ان کی ادائی کی کوشش شروع کر دیں گے۔ہمارے جسم و جان اور مال و اوقات کا ایک حصہ دین کے لئے لگے گا۔بحیثیت امت ہمیں شہادت علی الناس کا جو مشن سونپا گیا ہے اُس کو آگے بڑھانے اور دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں عملاً شریک ہوں گے۔ چونکہ یہ مشن رسول اکرمۖ کا تھا' لہٰذا اس کی ادائی اللہ کے ساتھ ساتھ اُس کے رسولۖ سے بھی وفا داری کا تقاضا ہے۔ ماہ رمضان کے روزے کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے۔ اللہ کرے کہ ہم اس رُخ پر سوچنے پر تیار ہو جائیں۔ اس موقع پر میں ایک اور غلط فہمی بھی دور کر دینا چاہتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے وہ متقین ہیں۔ جنت اہل تقویٰ کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ بات جو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ ایک کلمہ گو شخص جس کا گناہوں کا پلڑا جھک گیا، اپنے گناہوں کی بقدر سزا پا کر بالآخر جنت میں داخل ہو جائے گا اگرچہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے،لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کس چیز کو کامیابی قرار دیتا ہے۔آگ میں کچھ دیر کے لئے بھی ڈالا جاناسخت خسارے کی بات ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ''جو شخص (جہنم کی) آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا حقیقت میں وہ کامیاب ہے۔ ''(آل عمران۔٥٨١)یعنی کامیاب شخص وہ ہے جو ایک لحظے کے لئے بھی آگ میں نہ ڈالا جائے، ایسے شخص کو اُس کانامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ جوشخص ایک لمحے کے لئے بھی جہنم میں ڈال دیا گیا، اُس کاتو سب کچھ برباد ہو گیا۔ جہنم کی آگ کا عذاب اس قدر سخت ہے کہ اِسے کوئی برادشت نہیں کر سکتا۔ حدیث کے مطابق ایک شخص کو تھوڑی دیر کے لئے جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا تو وہ دنیا کا سارا آرام و آسائش بھول جائے گا۔پھر یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ گناہ گاروں کو نہ جانے کتنا عرصہ آگ میں جلناپڑے۔ ہم میں سے بہت سے مسلمان اِسی پر قناعت کئے بیٹھے ہیں کہ چلو بالآخر تو جنت میں پہنچ ہی جائیں گے۔حالانکہ ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ جیسے بھی ہو کہ ہم جہنم میں جانے سے بچ جائیں، ہمیں آگ میں ڈالاہی نہ جائے۔ قرآن میں کفار کے بارے میں کہا گیا کہ کفار جنہیں جہنم کی بار بار وعیدیں سنائی جا رہی ہیں،کسی طور ایمان لانے کو تیار نہیں۔ یہ کتنے جگرے والے ہیں کہ جہنم سے بچنے کی انہیںکوئی فکر نہیں ہے۔ (بقرہ:٥٧١) بہر کیف ہمیں نار جہنم سے بچنے کی فکر کرنی اور اُس راستے پر چلنا ہے جو ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں لے جائے۔ یہ راستہ ایمان اور تقویٰ والا راستہ ہے۔ یعنی ہمارے دل میں پختہ یقین ہو، اور ہم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی کریں۔ ماہ رمضان کے بعد ہمیں اس رُخ پر سوچنا چاہیے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved