دبئی میںجائیدادیں، ٹیکس ایمنسٹی سکیم : نمائشی اقدامات سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں
  14  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر عدلیہ کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس، اثاثوں اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے جتنے بھی غیرقانونی اکائونٹس اور اثاثے ہیں، وہ واپس لے کر آئیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم پر سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی، ایمنسٹی اسکیم حکومت کی وجہ سے فیل ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک سے کوئی بھی فوجی اور سول حکمران لوٹ مار کے خاتمے کیلئے مخلص نہیں رہا قوم کے کان یہ سن سن کر پک گئے ہیں کہ ابوظہبی ،دبئی ،شارجہ ، لندن ،امریکہ ،سوئٹرزلینڈ اور دنیا بھر کے مہنگے ترین شہروں میں پاکستانیوں کی اربوں کھربوں روپے کی جائیدادیں ہیں جوکہ کالی دولت سے بنائی گئی ہیں لیکن آج تک یہ جائیدادیں ،بنک اکائونٹس ،فیلٹس ، پلازے ،ٹاورز ،کاروباری مراکز ،سرے محل اور سوئس اکائونٹس محض پاکستان میں سیاست کا ایک ہتھیار ثابت ہوئی ہیں جن کی بنیاد پر کبھی پی پی پی اور کبھی ن لیگ باریان بدل کر برسر اقتدار آتی رہی ہیں ۔بیرون ملک سے ایک پیسہ بھی واپس نہیں لایا گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سوئس اکائونٹس میں پاکستانیوں کی نامی اور بے نامی موٹی رقوم پڑی ہیں تو انہیں واپس لایا جائے ان اکاونٹس سے بھی رقوم نکالی جاچکی ہونگی ۔سرے محل بھی ایک حقیقت ایک افسانہ رہا ہے جس پر سیاست کی گئی ہے اب نوازشریف کے لندن فلیٹس زیر بحث ہیں ۔ یہ امر قابل غور ہے کہ جہاں جہاں بھی کرپشن کی بات کی جاتی ہے اس کا تعلق بدقسمتی سے پاکستان سیاستدانوں سے نکلتا ہے اگر کسی کاروباری شخص نے بیرون ملک کوئی جائیداد بنائی ہے تو محنت کی کمائی سے بنائی ہوگی لیکن جیسا کہ سپریم کورٹ میں ایف آئی اے نے بتایا ہے صرف دبئی میں پاکستانیوں کی 4ہزار دو سو 40 ارب روپے کی جائیدادیں موجود ہے، دبئی میں 635 افراد نے جائیداد خرید رکھی ہیں، ان جائیدادوں کی خریداری کے لیے تمام رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھجوائی گئی، دبئی میں جائیداد خریدنے والے 100 افراد کی لسٹ ایف بی آر کو بھجوائی ہے۔ اسی ضمن میںپاکستان سے کی جانے والی منی لانڈرنگ کی رپورٹس کی بھی اگرچہ سابق حکومت نے مبہم انداز میں تردید کرتی رہی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس قدر بڑی رقوم قانونی طریقے سے خلیجی ممالک کو منتقل نہیں ہوئی ہونگی غیر قانونی طریقے استعمال کئے گئے ہونگے ۔ پاکستان پر 243 کھرب روپے قرضہ ہے، گزشتہ پانچ سال میں 38 ارب ڈالرز قرضہ لیا گیا۔ ہماری رائے میں جب تک ملک میںاسلامی نظام جزا و سزا کا عملی اطلاق نہیں کیاجاتا اس وقت تک اس ملک کے عوام لٹتے رہیں گے اور اشرافیہ مزے اڑاتی رہے گی ۔ چیف جسٹس نے درست ریمارکس دئیے کہ قرضے لے کر ہم نے آنے والی پانچ نسلوں کا رزق کھا لیا، ہم آئندہ نسل کو کو کیا دے کر جا رہے ہیں، اسمگلنگ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی، ملکی صنعتوں کو اٹھنے ہی نہیں دیا گیا، قرضوں پر قرضہ لے کر سود دیا جا رہا ہے، پیسے واپس کس نے کرنے ہیں۔ اب کہا جارہا ہے کہ بنک اکائونٹس اور جائیداد کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے 103 ممالک کے ساتھ معاہدہ یکم ستمبر سے نافذ العمل ہو جائے گا، سوئٹزرلینڈ کے ساتھ الگ معاہدہ کیا جارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ دس سال میں یہ معاہدے کیوں نہیں کیے گئے، حکومت نے فارن اکائونٹس کو چیک کیوں نہیں کیا، افسران پاکستان کے مالک تھے، بڑے بڑے عہدوں پر فائز افسران نے کیوں کوئی کام نہیں کیا۔اسی لئے یہ ایک چین بنائی گئی تھی جس کے تمام مہرے ایک ہی قبیلے کے تھے جنہوں نئے جی بھر کر پاکستان کولوٹا ۔ عام شہری کا بال بال ٹیکس میں جکڑا ہوا ہے ،انکم ٹیکس ایف بی آر کے افسران خودٹیکس چوری کے راستے بتاتے ہیں صرف پانچ لاکھ شہری ہی جس ملک کے ٹیکس گزار ہوں وہاںدرآمدات ہی بڑھائی جاسکتی ہیں برآمدات نہیں ۔ ہماری رائے میں اعلیٰ عدلیہ ہو یا حکومت جب تک ٹھوس اور فوری عملی اقدمات نہیںاٹھائے جاتے اور بیرون ملک سے یہ دولت واپس نہیں آتی قوم کسی بات پراعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوگی ۔کڑا احتساب ہی اس ملک کو لٹنے سے بچاسکتا ہے ۔ خواجہ آصف کے بعد ایک اور اہم فیصلہ سپریم کورٹ سے شیخ رشید اہل قرار سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا،جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ایک کے مقابلے میں دو کے تناسب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو اہل قراردے دیا۔ فیصلے کی روسے شیخ رشید 2018 ء کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس معاملے پرفل کورٹ بنایا جائے۔23 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ جسٹس عظمت سعید نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز کی سفارشات مان لیں تو آئندہ انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے ہوجائیں گے۔ امر واقع یہ ہے کہ گزشتہ عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے الیکشن ٹریبونل میں شیخ رشید پر کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا تھا۔سپریم کورٹ کے حالیہ تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کااختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں شیخ رشید احمد کی سیاست کے تذکرے ہوتے ہیں اوران کی سیاسی پیشگوئیاں بھی مشہور ہیں تاہم یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کوئی مکمل پوری نہیں ہوئی اللہ نے انہیںپھر عزت دی ہے اور سرخرو کیا ہے ان کی ساری دولت راولپنڈی کی ہے اور وہ راولپنڈی کے ہی رہائشی ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا راولپنڈی شہرکے گلی محلوں میں ہے شیخ رشید نے شریف برادران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف سن لیں میںآرہا ہوں اور عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بناؤں گا۔ بدمعاشوں، چورلٹیروں، منی لانڈرزکے لیے شیخ رشید سیاسی موت ثابت ہوگا، اانہوں نے اپنا یہ سیاسی چٹکلہ ایک بار دھرایا کہ اگر میرے خلاف بھی فیصلہ آتا تو بھی میں اسے قبول کرتا کیونکہ میں نواز شریف کی طرح نہ تو جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہوں اور نہ ہی میں فوجی نرسری سے پیدا ہوا ہوں۔ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت سے پہلے ن لیگ کے خواجہ آصف کو ریلیف ملا تھا اب شیخ رشید کو ملا ہے سیاسی میدان سب کے لئے کھلا رہنا چاہئے ما سوائے ان لوگوں کے جوکہ معروف اور ثقہ بند لٹیرے ہیں اور انکی عمومی شہرت اچھی نہیں ہے اگر انتخابی اصلاحات ملکی مفاد میں کی جاتیں اور آئین کی پیروی کرتے ہوئے امیدواروں کی اہلیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جاتا تو یہ خرابیاں پیدا نہ ہوتیں جن کا سیاسی اشرافیہ کو اب سامنا کرنا پڑرہاہے ۔عدالتوں سے انصاف کا حصول بھی ایک پیچیدہ معاملہ ہے مذکورہ کیس میں بھی شیخ رشید کی نااہلی سے متعلق کیس اٹھارہ ماہ تک الیکشن ٹریبونل میں چلا جسے چار ماہ میں فیصلہ سنانا تھا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا حصول کتنا مشکل ہے۔آئین کی منشاء کے مطابق اگر نظام کو چلایا جائے تو یہ خرابیاں پیدا نہ ہوں ۔ہمیں توقع ہے کہ تمام محفوظ فیصلے سنائے جائیں گے عدالتیں باوجود اس کے کہ مقدمات کی بھرمار ہے ، فیصلے جلد سے جلد سنائیںگی تاکہ عوام کو ریلیف ملے ۔ باڑ دہشت گردی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے پاک افغان عوام کے درمیان نہیں: آرمی چیف پاک فوج کے سربراہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور اتحادی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن سے ملاقات کی،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ دہشت گردی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں متعدد معاملات بشمول افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال اور داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو جانچنے کے لیے اقدامات اور دہشت گردوں کی جانب سے مشکل سرحدی علاقے کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ داعش یقینی طور پر افغانستان میں پھیل رہی ہے اور اسکے تیزہی سے بڑھتے ہوئے پھیلائو اور دہشت گردانہ اقدامات میں اضافے کی بڑی وجہ بھارتی کی طرف سے اس تنظیم کی مبینہ سرپرستی ہے افغانستان کی حکومت کی چونکہ رٹ ختم ہورہی ہے اور بیشتر افغان صوبوں پر افغان طالبان قابض ہوتے جارہے ہیں اسی لئے امریکی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ،ایک طرف طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی جاتی ہے تو دوسری طرف ان کے خلاف سخت اقدامات کاعندیہ دیا جاتا ہے ۔

ہماری رائے میںپاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے بھرپور کوششیں کرچکا ہے اور بھی یہی چاہتا ہے کہ افغان مسئلے کا پرامن حل نکل آئے ،تاہم امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کوتاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا افغان سرزمین کبھی بھی کسی غیر ملکی تسلط کو قبول کرنے والی نہیں رہی اور قبائلی اقدار کا معاشرہ جبرکوقبول نہیں کرتا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کے لیے نہیں پورے خطے کے لیے امن اور ترقی بہت ضروری ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے ایکشن پلان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور رابطے جاری رہیں گے۔افغان عوامم کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ پاک افغان سرحد پر لگائی جانے والی باڑ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نہیں بلکہ دہشت گردی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ہماری رائے میںپاک افغان دو طرفہ اقدامات بہت ضروری ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ریاستی مفادات کے حصول کے لیے جاری رہنے والا عمل ہے جس کی طرف توجہ دی جانی چاہئے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved