پرویز مشرف کو انتباہ
  14  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پرویز مشرف آج دو بجے تک پاکستان نہ آئے تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ! O پچیس جولائی کے الیکشن کے لیے 1050 نشستوں کے امیدوار کی تعداد21ہزار482 ہوگئی۔Oلاہور ، کراچی، اسلام آباد میں اپنی پارٹیوں کی ٹکٹیں نہ ملنے والے امیدواروں کے دھرنے' خواتین کے سیاپے! 500 ارب سے تعمیر ہونے والے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کا ایک اور سنگین مسئلہ ابھر آیا کہ اترنے والے طیاروں کے کاک پٹ اور کھڑکیوں سے ہوائی اڈے پر بنے ہوئے بیت الخلاؤں کا سارا اندرونی منظر دکھائی دیتا ہے!!O سپریم کورٹ نے شیخ رشید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، سہ رکنی بنچ کا اکثریتی فیصلہ، جسٹس فائز نے اختلاف کیا۔ ٭فاضل چیف جسٹس نے پرویز مشرف سے کہاہے کہ خودکو بہادر کمانڈو کہتے ہوتو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال ہونے اور ہوائی اڈے پر گرفتاری نہ ہونے کے حکم کے بعد پاکستان آ کر قانون اور عدالتوں کاسامنا کرو،پاکستان آنے کی باربار گردان بندکرو۔ آج دو بجے دوپہر تک پاکستان نہ پہنچے تو الیکشن کے دفاتر کو آپ کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے سے روک دیاجائے گا۔پرویز مشرف کے وکیل نے اس پر کہا کہ پرویز مشرف کے ہاتھوں میں رعشہ ہے (کانپ رہے ہیں!) اس کے لیے وہاں میڈیکل بورڈ بنے گا (پاکستان میں معائنہ نہیں ہوسکتا!)۔ پہلے کہا جارہا تھا کہ کمر کی تکلیف ہے، اب رعشہ دریافت ہو گیاہے !کمر کی شدید تکلیف اور ہاتھوں میں رعشہ کے ساتھ انتخابات کیسے لڑے جائیں گے؟ چیف جسٹس نے واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ ہوائی اڈے سے عدالت تک کوئی گرفتار نہیں ہوگی مگر مقدمات کے بارے میں کوئی تحریری ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ امکان دکھائی دے رہاہے کہ پرویز مشرف واپس نہیں آئے گا۔ اس کے خلاف آئین توڑنے کی غداری کے علاوہ دوسرے مقدمات بھی چل رہے ہیں۔ ان میں اسے مفرور اشتہاری ملزم قرار دیا جا چکا ہے اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں !! ٭مجھے ایک باتصویر خبر نے خوش گوار مسرت سے دوچار کردیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مدینہ منورہ میں مسجدنبوی میں نماز اور حضور نبی کریمۖ کے روضہ اقدس میں حاضری کے لیے اپنی قیام گاہ سے ننگے پاؤں روانہ ہوئے ! یہ سرور کائنات سید الانبیائۖ کے ساتھ انتہائی عقیدت و تعظیم کا اچھا اندازتھا۔ میرے دل میں خان صاحب کے لیے ستائش کے بہت سے جذبات ابھر آئے مگر … !مگر …! ساتھ ہی ایک دوسری خبر میرے لیے صدمہ کا باعث بن گئی کہ آپ نے مدینہ منورہ میں اپنے کارکنوں اور صحافیوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے سیاسی مخالفین خاص طورپر میاں نوازشریف پر چڑھائی کردی۔ انہیں چور تک کہہ دیا۔ خان صاحب ! مجھے آپ کے طرز عمل پر دکھ ہوا ہے ۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ دنیا کے عظیم اور مقدس شہر ہیں جہاں جانے کے لیے دنیا بھر کے مسلمان عمر بھر تڑپتے اور دعائیں مانگتے ہیں۔ ان شہروں میں پہنچ کر انسان اپنے ذاتی کاروبار، سیاست حتیٰ کہ خون کی قریبی رشتہ داریاں بھول جاتاہے، صرف خانہ کعبہ اور روضہ اقدس کے مناظر اوران سے عقیدت اور محبت باقی رہ جاتی ہے۔ مجھے حیرت اور افسوس ہورہاہے کہ خان صاحب! آ پ نے صرف دو دن ان مقدس مقامات پر گزارنے تھے مگر ان دو دنوں میں خود کو ہمہ وقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور رسوۖل کریم کے لیے عقیدت و عبادات کے لیے وقف کردینے کی بجائے اس قیمتی اورنایاب وقت کا ایک حصہ پاکستان کی بے ڈھنگی سیاست اور اپنے مخالفین کے لیے سخت کلامی پر ضائع کر دیا! پاکستان کو یاد کرنا ہی تھا تو خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے کہ وہ آپ کوپاکستان مزید ہسپتال اور یونیورسٹیاں قائم کرنے کی توفیق اور استطاعت دے۔ مگر !مگر! ۔ مجھے اس پر دُکھ اور افسوس ہورہاہے کہ آپ کے روضہ اقدس کی طرف ننگے پاؤں چلنے سے میرے اندر جو خوشگوار ستائشی کیفیت پیدا ہوئی تھی اسے آپ نے بہت نقصان پہنچا یا ہے ! ٭سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے شیخ رشید کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ یہ دوججوں کااکثر یتی فیصلہ تھا جو51صفحات پر مشتمل تھا۔ تیسرے جج جسٹس فائز نے 21صفحات پر اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے اور چیف جسٹس کو سات سوالات بھی بھیجے ہیں۔ اپنے حق میں فیصلے کا اعلان ہونے پر لال حویلی نے للکارے اور بڑھکیں مارنی شروع کردیں۔ ''نوازشریف میں آرہا ہوں ، تیار ہوجاؤ''۔ کل بڑھک ماری تھی کہ میں عمران خان کے ساتھ حکومت بنانے آرہا ہوں (رات دن ، اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے، وزارت کے خواب دیکھتا ہوں)ایک بار پہلے بھی لکھا تھا کہ شیخ رشید نے اپنی سوانح عمری 'فرزند پاکستان' میں صفحہ 135 پر لکھا ہوا ہے کہ ''نوازشریف کو اس کا سگا بھائی شہبازشریف چھوڑ سکتا ہے، شیخ رشید کبھی ایسا نہیں کرے گا، وہ خاندانی آدمی ہے، وفا کرنی جانتاہے''۔ اور ہوا کیا؟ جنرل پرویز مشرف نے جس دن نوازشریف کو وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کرکے گرفتار کیا،شیخ رشید نے نوازشریف سے منہ موڑ کر پرویز مشرف کے دستر خوان کا رخ کرلیااور پھر امریکی سفارت خانے کو خوش کرنے کے لیے وزیر اطلاعات کی حیثیت سے بیان دے دیا کہ 9/11 کے بعد ہم طالبان کے خلاف امریکہ کا حکم نہ مانتے تو اس نے ہمارا آملیٹ بنادینا تھا! بہت سی باتیں اوربھی ہیں۔ چھوڑدیئے ! ٭بلاول زرداری نے عمران خان کے بارے میں تمسخرانہ ریمارکس دیئے ہیں کہ خان صاحب موروثی سیاست کے مخالف بیانات دیتے رہے اور اب ایک ایک خاندان کے متعدد افراد کو ٹکٹیں دے دی ہیں۔ اس بیان سے شائد بلاول یہ کہناچاہتا ہے کہ وہ اس کے والد، دو بہنوں، دو پھوپیوں اورایک پھو پھا نے قومی وصوبائی اسمبلی کے لیے بیک وقت د و دو نشستوں پر جو قبضہ کیا ہے وہ ہمارا موروثی حق ہے! ٭مریم نواز نے پھر کہاہے کہ دوبارآئین توڑنے والے پرویز مشرف کورعائتیں دی جاری رہیں،الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے اورنوازشریف کو روک دیا گیا ہے۔ ہر وقت بے تکے بیان دینے کی عادت اپنی جگہ ، مگر کون سمجھائے کہ بی بی ، نوازشریف سزا یافتہ سیاست دان ہے، وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ پرویزمشرف کو ابھی تک کسی کیس میں سزانہیں ہوئی اسے نہیں روکا جاسکتا۔اس کالم میں درج پرویز مشرف کو فوراً حاضر ہونے کا انتباہ بھی پڑھ لیں ۔ کبھی ایسا سخت بیان نوازشریف کے بارے میں بھی دیا گیا ؟ آپ خود ایک اہم مقدمے میں ملوث ہیں، پرویز مشرف کے کاغذات پر اعتراض اور اپنے کاغذات جمع کرارہی ہیں!!

٭ایس ایم ایس: میرے بھائی کو کینسر ہے۔ لاہور میں ڈاکٹروں نے ایک لاکھ روپے کے اخراجات بتائے ہیں۔ ہم لوگ انتہائی غریب ہیں ہماری مدد کی اپیل چھاپ دیں۔ ماسٹر علی اعجاز (03347090331 )(کسی قسم کی امداد سے پہلے ذاتی تحقیق ضروری ہے) ٭قوم ہر سال کی طرح عید منانے جارہی ہے اور ہم کئی سال سے پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ بہت اپیلیں کیں ، کچھ نہیں ہوا۔ اب تو ہم نے مایوس ہونا بھی چھوڑ دیا۔ شاہد نور وزیر(سرائے نورنگ)،(کسی سابق رکن اسمبلی کو اپنے علاقہ میں نہ آنے دیں۔ صرف اس کووٹ دیں جوانتخابات سے پہلے آپ کاپانی کا مسئلہ حل کردے)۔ ٭جنوری2016ء میں خیبر پختونخوا میں1122 کی بھرتیوں کا اشتہار چھپا ۔2017ء میں پشاور میں جسمانی اور تحریری ٹیسٹ اور نٹرویو ہوئے۔ آج تک کوئی رزلٹ نہیں آیا۔ نجیب اللہ خان ، بنوں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved