انسانی حقوق اور مغرب کا منافقانہ کردار
  14  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکہ اور یورپ کے حکمران طاقتور اورڈالروں کے زور پر اگر دنیا سے انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کا اعزاز وصو ل کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی … وگرنہ روئے زمین پر رہنے والا ہر باشعور شخص یہ بات جانتا بھی ہے اور مانتا بھی کہ دنیا میں انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار دین اسلام ہے … امریکہ اور یورپ انسانی حقوق کے حوالے سے منافقانہ کردارکے حامل ہیں۔ ملالہ یوسفزئی کو معمولی زخمی کرتی ہوئی گولی گزر گئی … پورا یورپ اور امریکہ چیخ اٹھے … ملالہ کو لندن پہنچایا گیا ' علاج کے بہانے اسے وہیں روک لیا گیا … پھر یورپ کے مختلف ممالک نے نوبیل انعا م سے لے کر مختلف اسناد اور اعزازات کا بوجھ اس پر لادنا شروع کر دیا … پھر ایک تنازعہ خاتون صحافی کی لکھی ہوئی کتاب کو ملالہ کی طرف منسوب کر دیا گیا' اس کتاب میں عورتوں کے حقوق کاحوالہ ہو یا گستاخانہ رسولۖ کا حوالہ … ان حوالوں سے اسلام سے متصادم نظریات کااظہار کیا گیا… سوات کی وہی ملالہ زخمی ہونے کے بعد پوری قوم جس کی مظلومیت کے ساتھ تھی اس متنازعہ اور شرانگیز کتاب کے بعد اس سے متنفر ہوگئی … مگر امریکہ' اقوام متحدہ اور یورپ کی نوازشات آج تک ''ملالہ'' پر جاری ہیں۔ اس کے مقابلے میں چند ہفتے قبل17 سالہ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے ہائی سکول میں ایک امریکی طالب علم کی دہشت گردی کا نشانہ بنی … اس حملے میں مزید 9 طلباء ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ سال رواں کے چند مہینوں میں امریکی سکولوں میں اس قسم کے 22 دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں… جس میں سینکڑوں طلبا و طالبات مارے بھی گئے اور زخمی بھی ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ او ر یورپ نے سوات کی ملالہ یوسف زئی اور کراچی کی سبیکا شیخ کے درمیان فرق کیوں روا رکھا؟پاکستانی سوات میں اگر کسی لڑکی کو گولیٹچ کرکے بھی گزر جائے (میرے نزدیک یہ بھی ظلم ہے) تو امریکہ اور یورپ کے حکمران اور وہاں کا میڈیا تڑپ اٹھتا ہے لیکن پاکستانی کراچی کی رہنے والی لڑکی اگر امریکی دہشت گرد کی گولیوں کا نشان ہ بن کر جان بھی ہار دے تو تب بھی امریکہ اور یورپ میں ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں ہوتا تو کیوں؟ سوات میں اگر ملالہ پر حملہ ہو(نہیں ہونا چاہیے تھا) تو امریکہ ' یورپ اور پاکستان میں موجود امریکی پٹاری کے دانش فروش قرآن و سنت پر بڑھ بڑھ کر حملہ آور ہوتے ہیں' دینی مدارس' مساجد اور پھر مولویوں کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنا شروع کر دیں۔ مدارس کے نصاب تعلیم کو تبدیل کرنے کے لئے چیخ و پکار شروع ہو جائے … مگر امریکہ کے شہروں میں اگر امریکی دہشت گرد گنیں ہاتھوں میں تھامے وہاں کے سکولوں کے طلباء و طالبات کے خون سے ہولی کھیلیں… تو نہ کوئی امریکہ میں جاری اس دہشت گردی کو ''صلیب'' کی طرف منسوب کرے ' امریکہ میں پھیلے ہوئے اس گن کلچر کی وجہ سے نہ کوئی امریکی نصاب میں تبدیلی کی بات کرے … نہ ''چرچوں'' کے خلاف بدزبانی کرے اور نہ ہی کسی پوپ' پادری کے خلاف زبان درازی کرے۔ یہ سب امریکہ' یورپ اور ان کے گماشتوں کا منافقانہ کردار نہیں تو پھر اور کیا ہے؟دسمبر1948 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی منشور منظور کیا … اس سے قبل … اہل مغرب ''انسانی حقوق'' کے نام سے کس قدر واقف تھے … اور اگر واقف تھے تو انسانی حقوق کی کتنی پاسداری کرتے تھے؟ اس کا اندازہ جنگ عظیم دوم میں ہونے والے کروڑوں انسانوں کے قتل عام سے لگایا جاسکتا ہے۔ دسمبر1948 ء سے لے کر دسمبر2014ء تک ان66سالوں میں اقوام متحدہ کہ جس نے خود انسانی حقوق کا عالمی منشور منظور کیا تھا … دنیا بھر میں ''انسانیت'' کو قتل کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ثابت ہوا … امریکہ ' برطانیہ ' اسرائیل ' بھارت کے حکمران اور ''انسانی حقوق'' کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ یہ دنیا چونکہ ڈالر پرستوں کی جنت ہے … اس لئے یہا ں انہی این جی اوز نے ''انسانی حقوق'' کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے کہ جن کے پیچھے … فرنگی سامراج یا پھر صیہونی لابی کے ڈالر اور پاونڈز ہیں … اقوام متحدہ' امریکہ اور اس کے حواری کبھی انسانی حقوق کا عالمی دن منائیں گے اور کبھی انسانی حقوق کی پامالی کا عالمی دن منانے کا ڈرامہ رچائیں گے۔لیکن ''انسانیت'' کو رسوا کرنے ' بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے سے نہ گھبرائیں گے اور نہ ہی ذرا برابر بھی شرمائیں گے ' مذہب اسلام نے سوا چودہ سو سال قبل کائنات میں انسانی حقوق متعارف کروائے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب ہم اسلام میں انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو اس کے معنی دراصل یہ ہوتے ہیں کہ یہ حقوق خدا نے دئیے ہیں یہ کسی بادشاہ یا کسی مجلس قانون ساز کے دئیے ہوئے نہیں ہیں۔ بادشاہوں اور قانون سازوں کے دئیے ہوئے حقوق جس طرح دئیے جاتے ہیں اسی طرح جب وہ چاہیں واپس بھی لے سکتے ہیں۔ لیکن اسلام میں انسان کے جو حقوق ہیں وہ خدا کے دئیے ہوئے ہیں۔ دنیا کی کوئی مجلس قانون ساز اور دنیا کی کوئی حکومت ان کے اندر تبدیلی کرنے کی مجاز نہیں ہے ان کو واپس لینے یا منسوخ کر دینے کا کوئی حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ (جاری ہے) سب سے پہلی چیز جو اس مسئلے کے اندر ہمیں ملتی ہے کہ اسلام بجائے خود انسان بحیثیت انسان کے کچھ حقوق مقرر کرتا ہے' دوسرے لفظوں میں اس کو اس طرح سمجھے کہ ہر انسان خواہ وہ کسی بھی نسل' مذہب' قوم ملک کا ہو' کسی جنگل کا رہنے والا ہو یا کسی صحراء میں پایا جاتا ہو' بہرحال محض انسان ہونے کی حیثیت سے اس کے کچھ حقوق ہیں جن کو ایک مسلمان لازماً ادا کرے گا اور اس کا دینی فرض ہے کہ وہ انہیں ادا کرے۔ ان میں سب سے اولین چیز زندہ رہنے کا حق ہے اور انسانی جان کے احترام کا فرض ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے۔ترجمہ: جس شخص نے کسی ایک انسان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس سے کسی جان کا بدلہ لینا ہو یا وہ زمین میں فساد برپا کرنے کا مجرم ہو' اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ (المائدہ 5,32:) ترجمہ: کسی جان کو حق کے بغیر قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے جینے کا حق انسان کو صرف اسلام نے دیا ہے۔ (الانعام6,151:) اب اب اندازہ لگائیں کہ جو لوگ حقوق انسانی کا نام لیتے ہیں انہوں نے اپنے دستوروں میں یا اعلانات میں کہیں حقوق انسانی کا ذکر کیا ہے تو فی الحقیقت اس میں یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ یہ حقوق یا تو ان کے شہریوں کے ہیں یا پھر وہ ان کو سفید نسل والوں کے لئے مخصوص سمجھتے ہیں جیسا کہ امریکہ میں وہاں کے پرانے باشندوں کی نسل کشی کی گئی اور بقیہ کو مخصوص علاقوں میں مقید کر دیا گیا اور افریقہ کو مختلف علاقوں میں گھروں میں گھس کر انسانوں کو جانوروں کی طرح ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسانی جان کا بحیثیت ''انسان'' ان کے دل میں کوئی احترام نہیں ہے۔ اگر کوئی احترام ہے تو اپنی قوم یا اپنی نسل کی بنیاد پر ہے نہ کہ انسان ہونے کی بنیاد پر لیکن اسلام تمام انسانوں کے لئے اس حق کو تسلیم کرتا ہے اگر کوئی شخص وحشی قبائل سے تعلق رکھتا ہے تو اس کو بھی اسلام انسان ہی سمجھتا ہے اور اس کو اس کا پورا پورا حق دیتا ہے۔ ارشاد ہے:ترجمہ: جس نے کسی نفس کو بچایا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخشی ہے۔ اب موت سے بچانے کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایک آدمی بیمار یا زخمی ہے اس سے قطع نظر کہ وہ کس نسل یا کس قوم کا ہے اگر اس کو آپ نے بیمار یا زخمی حالت میں پایا تو آپ اس کے علاج کی فکر کریں۔ تیسری اہم چیز اسلام کے دئیے ہوئے انسانی حقوق میں یہ ہے کہ عورت کی عصمت بہرحال محترم ہے چاہے وہ کسی بھی قوم و مذہب وعلاقے کی ہو' مسلمان کسی بھی حالت میں اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ اس لئے کہ زنا کو مطلقاً حرام کیا گیا ہے چاہے اس کا ارتکاب کسی بھی عورت سے کیا جائے۔ قرآن کے الفاظ ہیں۔ ترجمہ: زنا کے قریب مت جائو' اور یہی نہیں بلکہ باقاعدہ اس فعل کے ارتکاب کرنے واکے لئے سزا مقرر کر دی گئی ہے۔ عورت کی عصمت کے احترام کا یہ تصور سوائے اسلام کے کہیں نہیں پایا جاتا۔ قرآن مجید میں ہے :ترجمہ: اور مسلمانوں کے مالوں میں مدد مانگنے والے اور محروم رہ جانے والوں کا حق ہے یہ حکم جو دیا گیا ہے وہ مطلق ہے اور دوسرا یہ حکم مکے میں دیا گیا تھا جہاں ابھی کوئی معاشرہ ابھی تک باقاعدہ نہیں بنا تھا' اور عام طور پر مسلمانوں کے معاملات غیر مسلموں سے ہی پیش آتے تھے۔ اس لئے اس آیت کا مطلب صاف ہے کہ مسلمانوں کے مال پر ہر مدد مانگنے والے اور محروم کا حق ہے۔ اسلام میں کسی آزاد انسان کو پکڑ کر غلام بنانا یا اسے بیچ ڈالنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضورۖ کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگ ہیں جن کے خلاف قیامت کے روز میں خود مستغیث (استغاثہ پیش کرنے والا) ہوں گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی آزاد انسان کو بیچے اور اس کی قسمت کھائے۔ اس حدیث کے الفاظ بھی عام ہیں۔ ان کو کسی قوم یا ملک یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا اہل مغرب کو بڑا فخر ہے کہ انہوں نے غلامی کا انسداد کیا ہے حالانکہ انہیں یہ قدم اٹھانے کی توفیق (انیسیویں) صدی کے وسط میں ہوئی۔ اس سے پہلے یہ لوگ افریقہ میں آزاد انسانوں کو پکڑ کر اپنی نوآبادیوں میں لے جاتے رہے ہیں اور ان سے جانوروں سے بدتر سلوک کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک بڑا حق ہے جو اسلام نے انسان کو بحیثیت انسان عطا کیا ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے : ترجمہ: اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشعل نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو' انصاف کرو یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ (المائدہ5,8) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ترجمہ: اے ایمان والو! انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو۔ معلوم ہوا کہ عام انسان ہی نہیں دشمنوں تک سے انصاف کرنا چاہیے۔ اسلام نہ صرف یہ کہ کسی امتیاز رنگ و نسل کے بغیر تمام انسانوں کے درمیان مساوات کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اسے ایک اہم اصول حقیقت قرار دیتا ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے:ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہنچانو۔ (الحجرات69,13) مطلب یہ ہے کہ تمام انسان اصل میں بھائی بھائی ہیں ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ کی اولاد ہیں لیکن قوموں اور قبیلوں میں تقسیم یہ ایک دوسرے کے پہنچاننے کے لئے ہے کہ ایک قبیلے کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے واقف ہوں اور باہم تعاون کریں۔ اس لئے نہیں کہ ایک قوم دوسری قوم پر فخر کرے یا تکبر کرے اور دوسرے کو ذلیل سمجھے اور اس کے حقوق پر ڈٰاکہ مارے۔ حضورۖ کا ارشاد ہے :ترجمہ: کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں' نہ گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گوارے پر فضیلت حاصل ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔

اسلام نے تمام نوع انسانی میں مساوات قائم کی۔ اور رنگ و نسل زبان اور قومیت کی بناء پر سارے امتیازات کی جڑ کاٹ دی۔ امریکہ کے افریقی النسل لوگوں کا مشہور لیڈر میلکم ایکس جو سیاہ نسل کے باشندوں کی حمایت میں سفید نسل والوں کے خلاف مدتوں کشمکش کرتا رہا جب مسلمان ہونے کے بعد حج کے لئے گیا تو وہاں اس نے دیکھا کہ ایشیائ' افریقہ' یورپ' امریکہ غرض ہر جگہ کے اور ہر رنگ و نسل کے مسلمان ایک ہی لباس میں ایک خدا کے گھر کی طرف چلے آرہے ہیں اور ایک ہی گھر کا طواف کر رہے ہیں۔ ایک ہی ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں ان میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہے تو وہ پکار اٹھا کہ یہ ہے رنگ و نسل کے مسئلے کا حل نہ کہ وہ جو ہم اپنے ملک میں ابھی تک کرتے رہے ہیں۔ آج خود وہ غیر مسلم مفکرین جو اندھے تعصب میں مبتلا نہیں ہیں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو جس کامیابی کے ساتھ اسلام نے حل کیا ہے کوئی دوسرا مذہب حل نہیں کر سکتا۔ آج اگر ہم نظر ڈالیں تو ہم اسلامی ملک کے اندر رہتے ہوئے ان حقوق کو جس طرح سے پامال کر رہے ہیں لہٰذا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھ رہا ہے اور انارکی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان اس بات کو یاد رکھیں کہ یہ ذکر کردہ اصول اسلام نے وضع کئے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ ان اصولوں پر اپنی زندگی میں عمل کرے اگر ان اصولوں پر عمل کیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہم ایک اچھا اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved