رمضان کے بعد کا روزہ
  15  جون‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس بات پرتو خوش ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ ہمیں قرآن میں ’’خیرامت ‘‘کہا گیا ہے، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ کتاب اللہ میں جہاں ہمیں یہ لقب دیا گیا ہے وہیں ہماری ذمہ داری امر بالمعروف و نہی عن المنکربھی بتائی گئی ہے۔آج مسلمان اِس سے بے گانہ ہیں،بلکہ انہیں اس کا شعور ہی نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ منبر و محراب سے بھی مسلمانوں کو اُن کی ذمہ داریاں یاد نہیں کرائی جاتیں۔ ہم اس بات کے تو امید وار بنتے ہیں کہ حضورﷺ ہماری شفاعت فرمائیں گے لیکن وہ عظیم مشن جو آپؐ نے ہمارے حوالے کیا ہے، اُس سے مجرمانہ غفلت کوہم نے شعار بنا رکھا ہے‘اور اللہ کے دین اوررسول اکرم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ یہ عجیب بات ہو گی کہ ہم اپنا سارا وقت، صلاحیتیں، دنیا کمانے میں لگائیں اور دجالی فتنے کے سیلاب میں بہہ کر دنیا داری ہی کو اپنا مقصد حیات بنا لیں اور اس خیال سے کہ ہماری شفاعت ہو جائے گی، نیک بننے اوربحیثیت امت اپنے مشن کو ادا کرنے کی چنداں ضرورت محسوس نہ کریں۔ یہودی یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور لاڈلے ہیں۔لہٰذا جنت ہمارے ہی لئے ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگرفی الواقع ان کو اس بات کا یقین ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کریں، لیکن یہ ایسا ہر گز نہ کریں گے۔ یہ لٹمس ٹیسٹ ہمارے لئے بھی ہے۔ہمیں دنیا کی بجائے آخرت کی فوز و فلاح کو مقصد بنانا ہوگا۔ اگر ہمارے دل میں اللہ سے ملاقات کا شوق ہے، اور ہم دینی ذمہ داریوں کو ادا کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے فی الواقع آخرت کو مطلوب بنایا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے،تو پھر اپنے آپ کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ آئیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی سے حرام، کو باہر نکال دیں گے۔ معیشت ،معاشرت اور معاملات میں منکرات سے بچیں گے، ہم سے دینی ذمہ داریوں کی ادائی میں جو کوتاہی ہو رہی ہے اس کا ازالہ کر کے ان کی ادائی کی کوشش شروع کر دیں گے۔ہمارے جسم و جان اور مال و اوقات کا ایک حصہ دین کے لئے لگے گا۔بحیثیت امت ہمیں شہادت علی الناس کا جو مشن سونپا گیا ہے اُس کو آگے بڑھانے اور دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں عملاً شریک ہوں گے۔ چونکہ یہ مشن رسول اکرمﷺ کا تھا‘ لہٰذا اس کی ادائی اللہ کے ساتھ ساتھ اُس کے رسولﷺ سے بھی وفا داری کا تقاضا ہے۔ ماہ رمضان کے روزے کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے۔ اللہ کرے کہ ہم اس رُخ پر سوچنے پر تیار ہو جائیں۔ اس موقع پر میں ایک اور غلط فہمی بھی دور کر دینا چاہتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے وہ متقین ہیں۔ جنت اہل تقویٰ کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ بات جو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ ایک کلمہ گو شخص جس کا گناہوں کا پلڑا جھک گیا، اپنے گناہوں کی بقدر سزا پا کر بالآخر جنت میں داخل ہو جائے گا اگرچہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے،لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کس چیز کو کامیابی قرار دیتا ہے۔آگ میں کچھ دیر کے لئے بھی ڈالا جاناسخت خسارے کی بات ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ’’جو شخص (جہنم کی) آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا حقیقت میں وہ کامیاب ہے۔ ‘‘(آل عمران۔۵۸۱)یعنی کامیاب شخص وہ ہے جو ایک لحظے کے لئے بھی آگ میں نہ ڈالا جائے، ایسے شخص کو اُس کانامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ جوشخص ایک لمحے کے لئے بھی جہنم میں ڈال دیا گیا، اُس کاتو سب کچھ برباد ہو گیا۔ جہنم کی آگ کا عذاب اس قدر سخت ہے کہ اِسے کوئی برادشت نہیں کر سکتا۔ حدیث کے مطابق ایک شخص کو تھوڑی دیر کے لئے جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا تو وہ دنیا کا سارا آرام و آسائش بھول جائے گا۔پھر یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ گناہ گاروں کو نہ جانے کتنا عرصہ آگ میں جلناپڑے۔ ہم میں سے بہت سے مسلمان اِسی پر قناعت کئے بیٹھے ہیں کہ چلو بالآخر تو جنت میں پہنچ ہی جائیں گے۔حالانکہ ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ جیسے بھی ہو کہ ہم جہنم میں جانے سے بچ جائیں، ہمیں آگ میں ڈالاہی نہ جائے۔ قرآن میں کفار کے بارے میں کہا گیا کہ کفار جنہیں جہنم کی بار بار وعیدیں سنائی جا رہی ہیں،کسی طور ایمان لانے کو تیار نہیں۔ یہ کتنے جگرے والے ہیں کہ جہنم سے بچنے کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ (بقرہ:۵۷۱) بہر کیف ہمیں نار جہنم سے بچنے کی فکر کرنی اور اُس راستے پر چلنا ہے جو ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں لے جائے۔ یہ راستہ ایمان اور تقویٰ والا راستہ ہے۔ یعنی ہمارے دل میں پختہ یقین ہو، اور ہم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی کریں۔ ماہ رمضان کے بعد ہمیں اس رُخ پر سوچنا چاہیے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved