اور اب آصف زرداری کی پیشی!
  10  جولائی  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بہت سی چیختی چلاتی خبریں اور ایک بے چارہ چھوٹا سا کالم! کسی ترتیب کے بغیر پڑھئے۔ O آواز لگ گئی، آصف زرداری اور فریال تالپور حاضر ہوں۔ O نوازشریف اور مریم نواز کی 13 جولائی کو واپسی، ہوائی اڈے سے سیدھے جیل! O تین گھنٹے بھاگنے کے بعد کیپٹن صفدر پکڑا گیا۔O 29 جعلی اکائونٹس، 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ، تین بینک ملوث، آصف زرداری، فریال تالپور سمیت تمام ملوث افراد کے باہر جانے پر پابندی! O پرویز مشرف کی اربوں کی کرپشن، نیب نے اہلیہ سمیت طلب کر لیا! O پختونخوا ہائوس اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری وغیرہ کی مہمانداری پر 20 کروڑ، 37 لاکھ 784 روپے خرچ ہو گئے۔ اسی جگہ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے انٹرویو کے لئے آنے والی تین رکنی ٹیلی ویژن ٹیم کی مہمان داری، تین پیالی چائے، چند سموسے، بل ایک لاکھ 89 ہزار 153 روپے! Oمالی طور پر بدحال پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تنخواہ 45 لاکھ روپے ماہوار! ٭کس کس واقعہ پر دل کو رویا جائے یا جگر کو پیٹا جائے؟ہر خبر ایک سے ایک بڑھ کر! کیپٹن (ر) صفدر کو عدالت نے قید کی سزا سنائی تو ایک قانون پسند شہری کی طرح خود آ کر گرفتاری دینے کی بجائے کیپٹن صفدر اپنے آبائی گائوں جا کر چھپ گیا۔ نیب والے جگہ جگہ چھاپے مارتے رہے۔ پھر تیسرے دن راولپنڈی آ کر مسلم لیگ کے کچھ کارکن جمع کئے اور تین گھنٹے تک ان کی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے عدلیہ کے خلاف منافرت انگیز تقریریں کیں، بالآخر پکڑا گیا۔ اب عدالت میں پیشی ہو گی، آگے جو کچھ بھی ہو۔ ٭نوازشریف اور مریم نواز نے سزا کا مقابلہ کرنے کے لئے فاتحانہ انداز میں 13 جولائی کی شام کو لاہور آنے کا اعلان کیا ہے۔ ن لیگ نے ایئرپورٹ کے باہر ''عظیم الشان تاریخی استقبال کا اعلان کیا ہے، اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو ہوائی اڈے کے اندر سے ہی ہیلی کاپٹر پر لاہور کی جیل یا اسلام آباد پہنچا دیا جائے گا۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ اڈیالہ یا میانوالی جیل یا بلوچستان کی مچھ جیل میں بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ ان تمام جیلوں میں خاص مہمانوں کے لئے خاص کمرے تیار کئے جا رہے ہیں، صفائی اور آرائش ہو رہی ہے۔ الگ الگ کمروں میں باتھ روم، ٹیلی ویژن، ذاتی بستر، کپڑوں اور ذاتی کھانے کی اجازت ہو گی۔ اخبارات، واٹر کولر اور ایک مشقتی (قیدی خادم) ملے گا۔ قانون کے مطابق سزا کے اعلان کے بعد 10 روز کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ ضمانت پر رہائی کے لئے ملزم کو خود عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ ٭بہت بلکہ بہت ہی اہم خبر آصف زرداری اور بہن فریال تالپور کی 12 جولائی کو سپریم کورٹ میں پیشی کی ہے مگر زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ 29 جعلی اکائونٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں ملوث ان دونوں افراد کو کیس کی تحقیقات کے نتیجے تک ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ اپنی صدارت کے عہد میں آصف زرداری نے ہر دو تین ہفتے بعد دبئی کے درجنوں بلکہ بیسیوں دورے کئے۔ باپ اور بیٹے کے پاس دبئی کے مستقل اقامے ہیں۔ اربوں کھربوں کا ذاتی کاروبار، شارجہ کے فارم ہائوس سے چلایا جا رہا ہے۔ ایک بار کاروبار زیادہ الجھ گیا تو 'بیمار' ہو کر دو ہفتے کے لئے دبئی کے ایک ہسپتال کا پورا فلور ریزرو کرا لیا۔ سارا صدارتی سٹاف وہاں منتقل ہو گیا۔ فلور کا ایک حصہ صدارتی سیکرٹریٹ کے لئے مختص ہو گیا۔ کروڑوں کے اخراجات سرکاری خزانے کے ذمے! زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دبئی جانے پر پابندی لگ گئی ہے۔ یہ قدرت کے کھیل ہیں۔ مکافات عمل! کبھی چھکا کبھی تین کانے! دو سابق صدر پرویز مشرف اور آصف زرداری اور تین سابق وزرائے اعظم، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کی عدالتوں میں پیشیاں، نوازشریف اور اسحاق ڈار کے بیٹے مفرور، اشتہاری اور گرفتاریوں کے وارنٹ! ساری جائدادیں ضبط ہو رہی ہیں، عدالتوں میں بار بار حاضریاں! کیا حاصل ہوا، اندر اور باہر دولت کے انبار لگانے کا؟ حضرت بابا فرید گنج شکر کا بیان کردہ واقعہ یاد آ رہا ہے کہ ایک درویش جنگل میں قہقہے لگا رہا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ کیوں قہقہے لگا رہے ہو؟ کہنے لگا کہ اس لئے کہ دنیا میں نہ میں کسی کا حاکم ہوں، نہ کوئی میرا حاکم ہے! ٭نیب نے مفرور اشتہاری پرویز مشرف اور اس کی اہلیہ کو مختلف تاریخوں میں ناقابل تصور کرپشن کی تحقیقات کے لئے طلب کیا ہے۔ پڑھ کر سر چکرا رہا ہے کہ اس شخص نے ایک ہزار ارب روپے، (10 کھرب) کے انتہائی قیمتی پلاٹ اپنے عزیز و اقارب میں بانٹ دیئے۔ ایک تجزیہ کے مطابق اس رقم سے ایک بڑا ڈیم بن سکتا ہے! ٭سپریم کورٹ میں موجود پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر سے چیف جسٹس نے پوچھا، آپ کی تنخواہ کیا ہے؟اس نے جواب دیا، 37 لاکھ روپے! چیف جسٹس نے حساب لگایا کہ کل تنخواہ 45 لاکھ روپے ماہوار (5 کروڑ 40 لاکھ روپے سالانہ) بنتی ہے۔ پوچھا کہ پی ایس او میں کیسے آئے؟ جواب دیا کہ پہلے ایک نجی کمپنی میں تھا۔ پی ایس او کے لئے درخواست دی، یہاں آ گیا! چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے سے بڑا سرکاری گریڈ 22 واں ہوتا ہے۔ تمہاری تنخواہ اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ غریب عوام کے ٹیکسوں کو اس طرح لوٹا جا رہا ہے! اب پھر پیشی ہو گی!

٭اس بات کا جواب دیانت داری کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عمران خان کو دینا ہے اسلام آباد میں ہر صوبے کے لئے الگ الگ مہمان خانے بنے ہوئے ہیں۔ ایک جیسی عمارتیں، ایک جیسی آرائش و زیبائش اور سہولتیں۔ ان میں ان صوبوں کے گورنر، وزرائے اعلیٰ اور وزراء وغیرہ ٹھہرتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک ٹیلی ویژن کے ایک اینکر پرسن کا کھلا بیان پڑھئے:''میں پختونخوا ہائوس میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا انٹرویو کرنے گیا۔ ہم تین افراد تھے۔ تین پیالی چائے اور چند سموسے اور بسکٹ! مجھے پتہ چلا کہ پختونخوا ہائوس نام کے اس مہمان خانے میں شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری وغیرہ کی مہمان داری پر 20 کروڑ، 37 لاکھ 84 ہزار روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی۔ مجھے معلوم ہوا کہ ایک بل میں میرا نام بھی درج ہے۔ میں نے وہ بل نکلوایا اس پر میرا نام اور ہم تین افراد کو پلائی جانے والی چائے کا بل ایک لاکھ 89 ہزار153 روپے کا وصول کیا گیا تھا! یہ ایک معتبر ذمہ دار اینکر پرسن کا کھلے عام بیان ہے۔ اس ایک واقعہ سے ایک غریب عوام کے ایک صوبے میں ہونے والی اندھا دھند لوٹ مار اور ڈاکوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ استغفار! لوٹ مار کے صرف اس ایک واقعہ پر ہی ان لیڈروں کا عبرتناک مواخذہ ہو سکتا ہے! ان لوگوں نے سرکاری خزانوں کو باپ کا مال سمجھ کر جس طرح لوٹا ہے، اس کا مواخذہ کون کرے گا؟ نوازشریف کو مسلسل کرپشن کے گالی نما طعنے دینے والی تحریک انصاف کی قیادت؟ ''کعبہ کس منہ سے جائو گے غالب؟'' ٭ایک دلچسپ خبر: کراچی میں جرمن سفیر 'مارٹن کوبلر' کہیں سے گزر رہے تھے۔ راستے میں سڑک کنارے ایک کرسی میز لگائے حجام نظر پڑا۔ سفیر وہیں رک گئے اور حجام کی کرسی پر بیٹھ کر حجامت بنوائی۔ اس نے اچھی بھلی حجامت بنا دی۔ سفیر بہت خوش ہوئے۔ حجام کی بہت تعریف کی۔ حجامت کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ حجام بھی بہت خوش تھا۔ اس نے بھی سیلفیاں بنوائیں۔ سفیر مارٹن کوبلر نے کہا کہ وہ اگلی بار بھی کراچی آئیں گے تو اسی حجام سے حجامت بنوائیں گے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمن سفیر کے نام میں کوبلر کا لفظ شامل ہے۔ انگریزی میں کبلر (Cobbler) موچی کو کہتے ہیں۔ حجام لوگ اب اپنے آپ کو ہیرڈریسر اور دکان کو ہیرسیلون کہتے ہیں۔ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر نے حجام کے لئے 'تزئین کار' کا خوبصورت لفظ استعمال کیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved