مغرب کی مخالفت کے باوجود طیب اردوان کی کامیابی
  11  جولائی  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

عالم اسلام کے عمومی حالات کے مایوس کن تناظر میں ایک اچھی خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ترکی کے طیب اردوان دوبارہ صدر منتخب ہوگئے ہیں ۔ترکی کا ایک امیج وہ ہے جو ان سے پہلے کے دور تک محدود تھا یعنی یہ بدترین سیکولر ملک تھا۔وہ اس وقت ترکی یورپ کا مرد بیمار تھا ۔اتاترک نے اسے سیکولر ہی نہیں بلکہ ایک مذہب دشمن ریاست میں تبدیل کردیا تھا۔یہاں تک کہ اس نے ملک کے دستور میں سیکولرزم کو شامل کیا تھا اور وہاں مسلمان بن کر زندگی گزارنا بہت مشکل ہوچکا تھا۔اسلام سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھنے والے دیہاتوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ترکی کے شہروں کا حال یہ تھا کہ ان میںاور یورپ کے شہروںمیں کوئی فرق نہیں رہ گیا تھا۔لگتا تھا گویا اسلام یہاں ہے ہی نہیں۔لیکن جو لوگ وہاں جاتے رہے ہیں وہ جب دیہاتوں میں گئے تو انہیں محسوس ہوا کہ وہاں مسلمان بھی ہیں۔ملک کے آئین میں باقاعدہ طور پر تحریر کیا گیا تھا کہ ترکی ایک سیکولر ریاست ہوگی اور اس دستور کی کسٹوڈین فوج کو بنادیا گیا تھا۔گویا کہ وہاں سیکولر کو کوئی ختم بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردوان 2003ء میں برسراقتدار آئے تھے۔انہوں نے بتدریج سیکولرزم کے خلاف اور اسلام کی طرف پیشقدمی کا آغاز کیا تھا جو اب تک مسلسل جاری ہے۔یہ سب کچھ وہ فوج کی مخالفت کے باوجود بھی کررہے ہیں۔گویا وہ بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ان کا ایک اور شاندار کردار یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جہاں کہیں بھی مسلمان مصائب میں مبتلا ہیں جیسے برما اورفلسطین کے مسلمانو ںکے ساتھ جو ظلم جاری ہے وہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والے واحد مسلم حکمراں ہیں ۔وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔لہٰذا مغر ب ان کے خلاف سازشوں میں لگا رہتا ہے۔جولائی 2016ء میں فوج نے بغاوت کی لیکن انہوں نے عوام کے تعاون سے اسے ناکام بنایا۔یہ ایک بہت غیرمعمولی بات تھی ۔اب حالیہ انتخابات کے موقع پر مغرب خصوصاً امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیالیکن انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی اور ان تمام سازشوں سے نبر دآزما ہوتے ہوئے انہوں نے کامیابی حاصل کی ۔یقینا اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی۔ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے لئے پیروی کے اعتبار سے پوری دنیا میں ان کا ایک نمائندہ کردارہے جس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔وہ بھی اس دنیا میں رہ رہے ہیں جن کا امام امریکہ ہے لیکن اس کے باوجود اسلام کے فروغ کے لئے ان کی پیشقدمی سے سبق حاصل کیا جائے ہم ان کے لئے دعاگوہیں کہ انہوں نے جو اسلام کی جہت پر سفر شروع کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی نصیب فرمائے ۔آمین۔

یک چھوٹی سی خبر یہ ہے کہ فروری میں پاکستان کو عارضی طور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اگر منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ سے باز آجائے تو اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔منی لانڈرنگ تو ایک بہت بڑی حقیقت ہے جبکہ ٹیرر فنانسنگ صرف ایک الزام ہے۔یہ الزام وہ اس لئے دے رہیں کہ پاکستان طالبان کو کچلنے میں مددکے لئے آمادہ نہیں جیسے مشرف کے دور میں امریکہ کی مدد کی گئی تھی۔اب اس ادارے نے پاکستان کو پندرہ ماہ دئیے ہیں کہ وہ حالات میں بہتری لائی جائے۔اس میں کوئی شک نہیں پاکستان منی لانڈرنگ کے حوالے سے غلطیوں کا ارتکاب کرتا رہا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی اداروں کا معیار بھی دہرا ہے۔بھارت اور برما میں ہونے والے مسلمانوںپر مظالم کے خلاف یہ کوئی اقدام نہیں کرتے۔مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ سوتیلے پن پر مبنی رہا ہے۔ہمیںعالمی سطح پر اور زیادہ دبائو میں لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اس لئے کہ اللہ کی نصرت ہمیں حاصل نہیں لہٰذا ہم ان کے آگے سربسجود ہونے پر مجبور ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو واضح کردیا تھا کہ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر تم اس سے بیوفائی کروگے تو دنیا میں تمہارے لئے کوئی سہارا نہیں۔ہم اس مقام پر کھڑے ہیں اور اپنے رویئے کو بدلنے کے لئے تیار نہیں لہٰذا ڈو مور کے تقاضوں پر ان کے سامنے جھکتے جارہے ہیں۔علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں ساری بات کہہ دی تھی کہ کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں۔مسلمانوں کی طرف سے انہوں نے اللہ سے شکوہ کیا تھا کہ رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ۔خود اپنے شکوے کا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس شعر میں جواب دے دیا تھا۔محمد ۖ سے وفاداری کا مطلب اللہ اور اس کے دین کے ساتھ وفاداری ہے۔اگر ہم اس شرط کو پوری کردیں تو دنیا و آخرت دونوں میں ہمارے لئے خیر ہی خیر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس شرط کو پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved