کہانی زَر ،زن ،زمین کی
  11  جولائی  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ارض پاک کی سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، سیاست کی گرما گرمی کے ساتھ ساتھ چند بڑے مقدمات کے فیصلے، عدلیہ کی آزادانہ روش اور افواج کے سیاست سے الگ رہنے کے متواتر اعلانات غرض چہار سو بھاگ دوڑ کی سی صورتحال ہے، ملکی معیشت کی زبوں حالی اور پانی کی کمی ان سب سے بڑھ کر اہمیت کے حامل ہیں مگر فی الحال یہ پس پشت بلکہ پس پردہ ڈال دئیے گئے ہیں۔ نواز شریف کیخلاف تین میں سے ایک ریفرنس لندن کے فلیٹس کا فیصلہ آچکا۔ اس مقدمے کا کیا فیصلہ ہونا چاہئے تھا یہ جاننے کیلئے کسی قانونی ڈگری لینے کی ضرورت نہیں، نواز شریف اپنے دفاع میں نہ منی ٹریل لاسکے نہ کوئی قانونی ثبوت اور نہ ہی کوئی دفاعی گواہ۔ یہاں تک کہ انھوں نے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے گواہی دینے سے پہلے حلف اٹھانے سے بھی انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ بیان حلفیہ دیں تو اس پر جرح کی جاسکتی ہے، نواز شریف کا دفاع تو خود اُن کی اور ان کی صاحبزادی کی اس حرکت کے بعد ہی ختم ہوگیا تھا۔ پیسہ کہاں سے آیا؟ جواب ندارد، ایک قطری شہزادے کا خط پیش کیا گیا تو شہزادے نے بھی اس معاملے سے ہاتھ اٹھالئے اور خط خود ہی سوالیہ نشان بن گیا۔ پیسہ باہر کیسے گیا؟ جواب ندارد۔ مریم بی بی نے ایک معاہدہ پیش کیا جس پر گواہ کے دستخط ان کے شوہر نامدار نے کئے تھے۔ معاہدہ پچھلی تاریخوں میں لکھا گیا مگر جسCalibri Font کا استعمال معاہدہ کی تحریر میں ہوا وہ بازار میں2007 عیسوی میں آیا تھا جبکہ معاہدہ اس سے پہلے کی تاریخوں میں تھا مریم اور صفدر کو ایک ایک سال سزا قید بامشقّت اسی فراڈ کرنے پر دی گئی۔ مریم کو سات سال قید اور نواز شریف کو دس سال قید ایون فیلڈ کے اوپر بیان کردہ جرائم کے سلسلے میں دی گئیں۔ نواز شریف کو ان کے وکلاء نے پیشگی اطلاع دے دی تھی کہ وہ یہ مقدمہ ہار چکے ہیں۔ موصوف کے ساتھ جو ذہنی مسائل ہیں وہ Low IQ کے ساتھ ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے جس کو Psychiatry کی زبان میںMegalo Mania کہتے ہیں اس مرض میں مریض اپنے آپ کو دوسرے تمام انسانوں سے اعلیٰ اور برتر سمجھتا ہے یہاں تک کہ اس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا وہ قانون، اخلاقیات سب سے بالاتر ہے اور وہ پیدا ہی دوسروں پر حکم چلانے کیلئے ہوا ہے۔ یہی بیماری جنرل پرویز مشرف کو بھی لاحق ہے۔ مگر جو ہرزہ سرائی نواز شریف ملکی اداروں بالخصوص فوج اور عدلیہ پر کررہے ہیں وہ محض کسی نفسیاتی بیماری کی واحد وجہ سے نہیں ہے۔ یاد رہے کہ موصوف کی نواسی کی شادی میں بھارتی وزیر اعظم مودی بھی تشریف لائے تھے، نواز شریف کے بھارتی اسٹیل انڈسٹری کے بڑے بڑے کرتا دھرتائوں سے قریبی تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی فیکٹریوں میں بھارتی انجینئرز بھاری تنخواہوں پر کام کررہے ہیں۔ واللہ اعلم! ان حالات میں نواز شریف اگر فوج، عدلیہ، نیب اور دیگر اداروں کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے، باقی رہا ملکی مفاد تو جب آپ کے ذاتی مفادات ملک کی سرحدیں پار کرکے'' بین الاقوامی'' ہوجاتے ہیں تو پھر ملکی مفاد نظر ہی نہیں آتے، اس وقت نواز شریف اور ان کے خاندان کے تمام افراد (جن میں وہ بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر ہیں) اسی ذہنی خلفشار کا شکار ہیں۔ عمران خان سے کسی کو لاکھ سیاسی اختلافات سہی مگر ان سے یہ کریڈٹ کوئی نہیں چھین سکتا کہ انھوں نے نہایت دل جمعی سے پاکستان سے کرپشن کو اکھاڑ پھینکنے کے جہاد کا پہلا مرحلہ جیت لیا ہے، یہ عمران خان کی دن رات کی محنت اور جدوجہد ہی ہے جس کی وجہ سے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی نام نہاد'' بڑے'' کو اور اس کے بچوں کو سزا ملی ہے، یہ تو صرف شروعات ہیں۔ نواز شریف کیخلاف دو مزید ریفرنس کے مقدمات آخری مراحل میں ہیں، مزید ریفرنس بھی آسکتے ہیں۔ مگر عمران خان کے اپنے ذہنی مسائل اور سماجی روّئیے ہیں جو وقت بوقت سر اٹھاتے رہتے ہیں، سنا ہے عمران کو ریحام خان سے شادی کرنے کیلئے'' معتبران'' نے منع کیا تھا مگر اس وقت کپتان پر عشق کا بھوت سوار تھا، پھر کیا ہوا یہ سب کے سامنے ہے، پیر بی بی سے شادی پر بھی لوگ حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی۔

عمران خان کا ننگے پیر مزاروں پر جانا، پھول بکھیرنا اور تبّرک تقسیم کرنا تو عوام وخواص کو پھر بھی ہضم ہوجاتا مگر ان کا مزار کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنا؟ الامان والحفیظ! مذہب سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ شریعت محمدی سے پہلے سجدہ تعظیم جائز تھا۔ حضورۖ کی بعشت کے بعد یہ حرام ٹھہرا۔ عمران شکر ادا کریں کہ اوّل تو ہمارے لوگوں کو اپنے مذہب کا علم نہیں دوئم یہ کہ اُن کے سیاسی مخالفین کو اپنی ہی مصیبتیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ اس غلطی اور گناہ کے بارے میں زیادہ سوچ ہی نہیں سکے۔ تیسری سیاسی جماعت وہ ہے جس کے قائد زرداری اورShow Piece بلاول زرداری ہیں، زرداری صاحب کے نہایت نزدیکی ساتھی نیب کے نشانے پر ہی نہیں نیب کے قابو میں ہیں۔ بلاول پر پتھر برس رہے ہیں اور زرداری صاحب پر شاید ہُن برسنا بند ہوجائے۔بقول شاعر ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved