اب مشرف خاندان بھی نیب میں طلب: انصاف کے پلڑے برابر رکھے جائیں
  11  جولائی  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قومی احتساب بیورو(نیب)نے پرویزمشرف کے بیٹے بلال،بیٹی عائلہ اوردامادعاصم کو آج طلب کر لیا ہے،پرویزمشرف اور ان کی اہلیہ صہبا مشرف کو پہلے ہی طلبی کانوٹس بھجوایا جا چکاہے۔ سابق آرمی چیف جنرل(ر)پرویز مشرف کے خلاف بدعنوانی اور اربوں روپے کے اثاثے بنانے کا الزام ہے، پرویز مشرف کے خلاف کرنل(ر)انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے درخواست دی تھی۔دوسری طرف پانی سکینڈل میں نیب لاہور کے ہاتھوں گرفتار مسلم لیگ ن کے رہنماء اور راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے امیدوارانجینئر قمرالاسلام کے اہل خانہ کو الیکشن مہم پر آنے والے اخراجات کیلئے پیسے نکلوانے کی اجازت دینے کیلئے ان کی درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی گئی ۔ صاف پانی کرپشن کیس میں سابق صوبائی وزیر ہائوسنگ تنویر اسلم نیب میں پیش ہوگئے جبکہ پی ٹی آئی رہنما عبدالعلیم خان کو بھی نیب لاہور نے دوبارہ طلب کر لیا۔ نیب لاہور نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور سابق ڈپٹی وزیراعظم چوہدری پرویزالٰہی کے صاحبزادے چوہدری مونس الٰہی کو آف شور کمپنی کیس میں 13 جولائی کو طلب کر لیا۔ ہم نے کڑے اور یکساں سب کے احتساب کیلئے اوصاف کے اداریوں میں کئی بار حکام کی توجہ دلائی ہے اور چھ سات ماہ قبل یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایسا احتساب کیا جائے جس پر کسی کو بھی انگلی اٹھانے اور مظلوم بننے کا موقع نہ مل سکے جس نے بھی اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے انتہائی بے رحمی اور بے دردی سے لوٹا ہے اسے احتساب کے شکنجے میں جکڑا جائے ۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف انکے خاندان کو سزا کے بعد،سابق صدر آصف علی زرداری ،انکی ہمشیرہ اور سابق صدر پرویز مشرف اور انکے اہلخانہ سمیت سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے کو بھی نیب میں طلب کیا گیا ہے۔ ہماری رائے میں نیب کے ہاتھوں گرفتاریاں اور عدالتوں سے سزائوں کے باوجود بھی پاکستان سے غیرقانونی طور پر باہر بھجوائی گئی رقم کی واپسی ایک سراب نظر آرہی ہے جب تک ملزمان کی کالی دولت ضبط نہیں کی جاتی اور ان کے اثاثے بیچ کر اور اکائونٹس سے خواہ وہ انکے فرنٹ مینوں کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں انکی واپسی کو قومی خزانے میں یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک قوم مطمئن نہیںہوگی۔ ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب تک لوٹی گئی اور غیر قانونی ذرائع سے کمائی اور بیرون ملک بھجوائی گئی ارب کھربوں کی دولت کو پاکستان لاکر غیر ملکی قرضے اتارنے اور نئے ڈیمز بنانے پر جب تک خرچ نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک اور قوم کی تقدید نہیں بدلی جاسکتی نہ ہی کوئی بہتری آسکتی ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ قوم اب سیاسی اشرافیہ کی تیسری نسل کی غلامی میں جارہی ہے۔ نوازشریف کے بعد انکی بیٹی شہباز شریف کے بیٹے ،آصف زرداری کے بیٹے ،پرویز الٰہی کے صاحبزادے غرض کہ تما م معروف سیاستدانوں کی اولاد ہی حکمرانی سنبھال رہی ہے اور قوم صرف نعرے لگاکر انہیںپھر لانے پر مجبور ہے ۔ یہ قوم کا مقدر نہیں اگر کوئی اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر ایمانداری اور دیانت کے ذریعے آتا ہے تو وہ دوسری بات ہے لیکن حق حکمرانی اپنے خاندانوں کے نام لکھوانے والے ان جاگیرداروں،سرمایہ داروں اورکارخانے داروںکا عوام ہی کڑا احتساب کرسکتے ہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جو ووٹرز ان عوامی نمائندوںکا اچھی طرح سے گھیرا تنگ کررہے ہیں ان سے پوچھتے ہیں' کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں ان کا احتساب کرتے ہیں' یہ عوامی شعور کی بیداری کا عکاس ہے اور ان عوامی نمائندوں کو حق نمائندگی ملنے کے بعد بھی عوام کو جوابدہ ہونا چاہئے ۔ ہم اللہ کے حضور دست بہ دعا ہیں کہ وہ انصاف کا ترازو تھامنے والوں کو استقامت عطاء فرمائے کہ وہ انصاف کے ترازوکاتوازن برقرار رکھ سکیں۔ خاندانوں کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا روپ دھارنے والوں کو عوام بھی نظر انداز کریںاور آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا اترنے والوں کو ہی اپنے اعتماد سے نوازیں ایسے امیدواروں کی کوئی کمی نہیں جوکہ خوف خدا بھی رکھتے ہیں اور ملک و قوم سے مخلص اور دیانتدار بھی ہیں جہاں تک کروڑ اور ارب پتی امیدواروں کا معاملہ ہے تو اگر وہ اپنی آدھی دولت نہ سہی دس بیس فیصد بھی ڈیمز بنانے کیلئے عطیہ کریں تو انہیں بھی نمائندگی کا حق دیا جائے ۔ بھاشا' مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے مہم کو پوری قوم کو آگے بڑھ کر کامیاب بنانا ہوگا مسلح افواج نے ڈیموں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاک فوج دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم میں حصہ ڈال رہی ہے۔ پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے تمام افسر اس قومی کاز کیلئے دودن جبکہ تینوں مسلح افواج کے جوان ایک دن کی تنخواہ فنڈ میں جمع کرائیں گے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں ڈیم بنائو پاکستان بچائو مہم شروع کرنے کا جودلیرانہ اور حقیقت پسندانہ قدم اٹھایا تھا اس پر قوم نے لبیک کہا ہے اور پاک فوج کے علاوہ اہم شخصیات اور عام لوگ بھی چندہ دینا شروع ہوگئے ہیں تاکہ ان ڈیموں کی تعمیر کو یقینی بناکر قوم کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکالا اور زراعت کے فروغ ،پانی کی شدید قلت کے مسئلے سے نمٹنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ اگرچہ سیاسی اشرافیہ اور بھارتی بولی بولنے والوں کی طرف سے ڈیمز کی تعمیر پر عملی اقدمات اٹھانے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو ہدف تنقید بھی بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ کام سیاستدانوں اور حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن قوم ان سے سوال کرتی ہے کہ تیس چالیس سال میں کون سا ایسا بڑا ڈیم بنایاگیا ہے جس سے ملک کو فائدہ ہوا ہو کالاباغ ڈیم کو بھی بھارتی ٹکوں کے عوض متنازعہ بناکر لاشیں گرانے کی دھمکیوںکی سیاست کی گئی اور اس ڈیم کو اب تک نہیں بنایا جاسکا۔ اس کے مقابلے میں بھارت نے آبی دہشت گردی کرتے ہوئے کئی ایک متنازعہ ڈیم بنالئے جس سے پاکستان کے حصے کا پانی بھی روک لیا گیا لیکن سابق حکومت بھارتی حکمرانوں کی محبت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ بھارتی کشن گنگا ڈیم سے دگنی لاگت پر اورنج ٹرین منصوبہ بنایا گیا جو کہ ابھی ادھورا پڑا ہے ۔سابق وفاقی حکومت پہلے ہی اس مقصد کے لئے اگلے بجٹ میں 23ارب اور دو ارب پی ایس ڈی پی کے لئے مختص کرچکی ہے۔ گزشتہ 18سالوں میں تقریباًہر حکومت کا سربراہ دونوں ڈیمز کا سنگ بنیاد رکھ چکا ہے مگر کام شروع نہیں ہوسکا اس کے علاوہ اربوں روپے اراضی کی حصول کے لئے خرچ کئے جاچکے ہیں مگر کوئی بھی ٹھوس کام نہیں ہوسکا۔ اب جبکہ چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر مملکت صادق سنجرانی نے بھی پندرہ لاکھ ذاتی حیثیت میں عطیہ کئے ہیں اور ملک کے طول و ارض سے فنڈز جمع کرنے کی مہم میں تیزی آرہی ہے تواس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر ہی نہیں بلکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اسی ضمن میں نگراں وزیر اعظم ناصر المک کو ایک اجلاس میںچیئرمین واپڈا کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ بھاشااور مہمند ڈیم کی تعمیر رواں سال شروع ہوجائے گی۔وزیر اعظم جسٹس (ر) نا صر الملک نے کہا کہ ملک کو درپیش پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے مر بوط کوششوں کی ضرورت ہے ۔

کشمیریوں کی جدوجہد کو کسی صورت دہشت گردی کیساتھ جوڑا نہیں جا سکتا دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کا مسلسل قتل عام کر رہا ہے، بھارتی فورسز کے مظالم سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے عالمی دنیا کی توجہ ایک بار پھر ہٹ گئی ہے اور اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی رپورٹ کے بعد بھارتی ہٹ دھرمی برقرار ہے عالمی اداروں کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی نہ دیئے جانے سے وہاں قابض بھارت افواج اور کٹھ پتلی ریاستی انتظامیہ کی ایماء پر مظالم کا سلسلہ مزید تیز ہوگیا ہے ستر سال سے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں غیر مسلح ہوکر دنیا کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف دلانے والے کشمیروں کو چوتھی پانچویں نسل جان ومال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہی ہے ۔ دنیا بھر میں مجبور اور مقہور اقوام کو آزادی مل چکی ہے لیکن کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمان آج بھی آزادی کے بنیادی اور آفاقی حق کے حصول کیلئے بھارت اور اسرائیل کے مظالم کا پامردی سے مقابلہ کرہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک بڑی عالمی طاقتیں ان دونوں اقوام کے مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہیں دیں گی مظلوموں کا خون ناحق بہتا رہے گا ۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع کپواڑہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے بعد مزید بارہ حریت رہنمائوں کے خلاف بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کارروائی کرے گی۔ ان کے خلاف مقدمہ کا اندراج اور ان کی نئی دہلی منتقلی کا امکان ہے۔ہماری رائے میں سیکرٹری جنرل اقوام متحددہ کو بھارت کی کارروائیوں کا نوٹس لینا ہوگا اور سلامتی کونسل کا اجلاس بلاکر بھارتی حکومت کو سخت اقدامات بارے آگاہ کرنا ہوگا ۔اگر اسی طرح مجرمانہ خاموشی برتی جاتی رہی تو اس سے عالمی امن کو لاحق خطرات کا خاتمہ کسی صورت نہیں ہوسکے گا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved