نظامِ احتساب زندہ باد
  11  جولائی  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستانی معاشرہ اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود اگر کھڑا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سب برا نہیں ہے۔ صاحب کردار لوگ اور ثابت قدم رہنے والے بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ تعریف سے زیادہ تنقید کرتا ہے ورنہ برائی کے مقابلے میں اچھائی کا تناسب ہمیشہ زیادہ ہوتا ۔ ہم آدھا گلاس خالی دیکھتے ہیں جب کہ یہ آدھا پانی سے بھرا ہوتا ہے۔ مشہور ہے کہ علی ہجویری لاہور تشریف لائے تو ایک دن شہر کی سیر کو نکلے۔ واپسی پر استغفراللہ استغفراللہ کر رہے تھے۔ فرمایا کہ اتنی برائی اس شہر میں ہے ، اب تک یہ تباہ کیوں نہیں ہوا تھوڑے دنوں بعد دوبارہ شہر کی سیر کو نکلے واپسی ہوئی تو سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد کر رہے تھے فرمایا کہ اس شہر کے لوگ کتنے اچھے ہیں اتنے اچھے اور بہترین لوگ دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں۔ مقام شکر ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں بہتری کی جانب سفر جاری ہے ۔ ایک وقت یوں لگتا تھا کہ انصاف کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ عدالتیں حکومتوں کے زیر اثرتھیں پھر قدرت کو رحم آیا اور بتدریج عدلیہ نے انگڑائی لینا شروع کی۔ افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک جو بعد ازاں عدلیہ بحالی کی صورت اختیار کر گئی نے اس ملک کو آزاد اور خود مختار عدلیہ سے متعارف کرایا۔ایسی عدلیہ جو اپنے فیصلے آپ کرتی ہے اچھے اور برے کی بحث میں جائے بغیر یہ بات طے ہے کہ اب عدلیہ کہیں سے کنٹرول نہیں ہوتی۔ اگر کوئی اس غلط فہمی کا شکار ہے تو وہ اپنی اصلاح کر لے۔ عدلیہ کے فیصلے اپنی آزادی کی کہانی اپنی زبانی سنا رہے ہیں۔ جنرل مشرف بے بس ہوا آصف علی زرداری نے گھٹنے ٹیکے اور اب نواز شریف حکومت عدلیہ کے آزاد منش ججوں کے سامنے ہار گئی ہے۔ پانامہ کا مقدمہ جب عدالت عظمی نے ٹیک اپ کیا تو انور ظہیر جمالی چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔ اگر کوئی ملی بھگت خدانخواستہ ہوتی تو ان کے جانے کی صورت میں کہانی ختم ہو جاتی مگر یہ کہانی رکی نہیں بلکہ آگے بڑھتی رہی۔ عوام کو نواز شریف اور ان کے حواریوں نے گمراہ کیا مگر عدلیہ کے پانچ ججوں نے وہی کیا جو انصاف کا تقاضا تھا۔ یہ جج پاکستان کی تاریخ کے بڑے نام ہیں اور کل کا مورخ ان کی توصیف میں لکھے گا مگر اصل کارنامہ جے آئی ٹی کے ان افسران کا ہے جن کے بارے میں عام بدگمانی تھی کہ یہ کیا کر لیں گے۔ آصف علی زرداری کا بیان تو ریکارڈ پر موجود ہے جس میں آپ نے یہ کہہ کر پاکستانیوں کی حوصلہ شکنی کی کہ جو کام اعلی عدلیہ کے جج نہ کر سکے وہ انیسویں گریڈ کے سرکاری افسر کیسے کر سکیں گے۔

یہ انہونی ہوتے بھی پاکستان کے لوگوں نے دیکھی کہ حکومت کے افسران اپنی ہی حکومت کے سامنے ڈٹ گئے اور انہوں نے وہی کیا جو میرٹ اور ایمانداری کا تقاضا تھا۔ کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ پاکستان میں کبھی ایسے بھی ہو گا۔ یہاں عام سے لے کر خاص تک ایک جملہ مستعمل ہے کچھ نہیں ہونا لیکن یہ کیا ہو گیا جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ارکان جن کے بارے میں نواز شریف طنزیہ ہیروں کا لفظ استعمال کرتے ہیں واقعی سچے ہیرے نکلے۔ ججوں نے بھی سٹینڈ لیا مگر نواز شریف کو فیئر ٹرائل کا پورا موقع دیا گیا۔ انصاف کے تقاضے پورے ہوئے اور آج احتساب عدالت کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے۔ احتساب عدالت کے جج نے تمام تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد جو فیصلہ دیا ہے اس سے مملکت خداداد پاکستان میں عدل و انصاف کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گاہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں امیر اور طاقتور طبقات کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج تو کسی دباو کے تحت ہو جاتا ہے لیکن یہاں طاقتور لوگوں کو سزا نہیں ہوتی اوریہی بات معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ نواز شریف کے خلاف پانامہ مقدمہ اس وقت بنا جب وہ ملک کے وزیر اعظم تھے۔ وہ اثرانداز ہوتے رہے مگر جوڈیشری اور بیوروکریسی نے ایمانداری سے اپنا کام کیا احتساب عدالت کے سر پر ایک نگران جج بٹھا دیا اور یوں روایتی اللے تللوں اور رکاوٹوں کے باوجود قانون نے اپنا راستہ خود بنایا۔ آج نواز شریف اور ان کے حمایتی یہ الزام لگاتے ہیں کہ کبھی پہلے احتساب عدالت کی کارروائی کو نگران جج نے مانیٹر نہیں کیا۔ اس الزام کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ اسی لیے آج تک احتساب عدالتوں نے ایک ٹائم فریم میں اپنا کام مکمل نہ کیا اور طاقتور اپنے انجام سے بچ گئے۔ آصف علی زرداری پر کتنے الزامات تھے لیکن ان کے خلاف کچھ ثابت نہ کیا جا سکا۔ آج وہ کہتے ہیں کہ میں احتساب کے عمل سے سرخرو ہو کر نکلا ہوں تو کسی کی جرات ہے جو ان کے دعوے کی تردید کر سکے۔ نواز شریف اور ان کی فیملی اس وقت احتساب کے شکنجے میں آئے ہیں جب پاکستان میں ان کی حکومت تھی چنانچہ وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ پاکستان میں ایسا ہوا ہے کہ طاقتور احتساب کے نیچے آیا ہے اس سے پاکستان کے عوام کا اپنے قومی اداروں پر اعتماد میں بھی مزید اضافہ ہوا ہو گا ۔ اور اس تاثر کی بھی نفی ہوئی ہے کہ پاکستان میں طاقتور کے لیے الگ بلکہ کوئی قانون نہیں جبکہ غریب معمولی کیسوں میں سالہاسال قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں ۔ اب حقیقت میں پاکستان میں قانون کی بالادستی کا خواب ہم شرمندہ تعبیر ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ چنانچہ یہ اہلِ پاکستان کے لیے خوشی کا دن ہے ۔ عدلیہ زندہ باد نظام احتساب زندہ باد ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved