ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی اور عدلیہ کی عزت؟
  11  جولائی  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

وزارت خارجہ اگر چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں یہ جواب نہ بھجواتی کہ ''عافیہ صدیقی حیات ہیں'' تو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا... ڈاکٹر عافیہ ابھی تک امریکہ کی جیل میں زندہ ہیں' اگر وہ شہید بھی ہوگئیں تو تب بھی... وہ مسلمانوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی... مرے ہوئے تو وہ حکمران' سیاست دان اور دانش فروش ہیں کہ ... جو دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوئی کردار ادا نہ کر سکے۔ نفسیاتی اور اخلاقی طور پر مرا ہوا تو وہ رسوا کن ڈکٹیٹر ہے کہ جس کے تاریک دور میں اس پاکباز بیٹی کو ... ظالم اور درندہ صفت امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا... اور اس قوم کا اجتماعی ضمیر تو اسی دن مردہ ہوگیا تھا کہ جس دن اس نے ایک پاکستانی بیٹی کو امریکہ کے حوالے کئے جانے کی خبریں سنیں... مگر وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کی بجائے... غفلت کی چادر تانے سوئی رہی۔ سنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کی درخواست سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر خارج کر دی کہ ... ''عدالتیں امریکہ میں عافیہ صدیقی کے معاملے پر کردار ادا نہیں کر سکتیں... ہم نے وہ کام کروانے ہیں جو ہم کرسکتے ہیں' ہمارا حکم امریکی عدالت اٹھا کر پھینک دے تو ہماری عدلیہ کی کیا عزت رہ جائے گی؟ بجا ارشاد فرمایا ہوگا چیف جسٹس نے' پاکستان کے حکمرانوں پر امریکہ کے جائز و ناجائز احکامات ماننا لازم ہے... امریکی تو ہماری اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کو بھی گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوتے... باقی جو ''عزت'' کی بات کی گئی ہے کوئی حکمرانوں' سیاستدانوں' دانشوروں' اینکرز اور اینکرنیوں سے ملین ڈالر کا یہ سوال ضرور کرے کہ جس قوم کی ایک بیٹی امریکی جیل میں بے گناہ ہونے کے باوجود 86سال کی قید کاٹ رہی ہو۔ کیا اس قوم کی پھر بھی ''عزت'' باقی رہ جاتی ہے؟... میں گزشتہ 15-16 سالوں سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو پاکستان کے حکمرانوں' اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں... مجھے وہ دن بھی یاد ہے کہ جب وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل نواز شریف نے ان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لانے کا وعدہ کیا تھا... مگر پھر شریفوں کے 5سالہ دور اقتدار میں وہ وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا' میرا فوزیہ صدیقی تک پیغام پہنچے تو ان سے گزارش ہے کہ وہ ان حکمرانوں اور سیاست دانوں کے دروازوں پر مت جائیں ... یہ تو خود امریکی بھیک منگے ہیں۔ جو خود '' منگتے ہوں... وہ آپ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ سے واپس کیسے لا کے دے سکتے ہیں؟ میں مایوس نہیں ہوں... میرا رب سب سے بڑا طاقتور ہے... اگر اسے منطور ہوا تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہائی مل کے رہے گی' وہ اسباب کیسے بنیں گے یہ تو میں نہیں جانتا... لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ مظلوم کی آہ عرش الٰہی کو بھی ہلا ڈالا کرتی ہے۔ امریکیوں نے ایک مجبور' بے بس' بے کس اور لاچار پاکستانی بیٹی پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ کر ... اپنے ''مہذب'' ہونے کے دعوئوں کو تار' تار کر ڈالا' امریکیوں نے دھان' پان اور معصوم سی بیٹی کو صرف اس کے راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کی سزا دی ' کہاں ہیں وہ منافق این جی اوز کہ جنہیں عورتوں کی آزادی اور عورتوں کے حقوق کا بڑا دعویٰ ہے؟ انہیں رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے حکم پر ڈالروں کے عوض فروخت کی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نظر کیوں نہیں آتی؟ اگر پرویز مشرف نے ڈالروں کے عوض ... ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا تو آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اپنے اپنے دور حکومت میں نہ صرف یہ کہ اس پاکستانی بیٹی کی رہائی کے لئے ذرا برابر بھی کوشش نہیں کی... بلکہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے ہاتھ آئے مواقع بھی جان بوجھ کر گنوا دئیے۔ سفارتکاروں کا روپ دھارے دو امریکی یکے بعد دیگرے پاکستانی حکومت کے ہتھے چڑھے... ان دونوں امریکیوں نے تین پاکستانیوں کا قتل کیا تھا... ایک امریکی قاتل لاہور میں پکڑا گیا... اور دوسرے امریکی نے اسلام آباد میں اپنی گاڑی کے نیچے ایک جوان کو کچل کر مار ڈالا تھا... اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت چاہتی تو ان امریکیوں کی رہائی کے عوض ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہائی مل سکتی تھی... مگر افسوس کہ پاکستانی حکام نے یہ دونوں مواقع ضائع کر دئیے' امریکہ میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ٹیکساس جیل میں 23مئی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرنے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کرکے ... حکام کے حوالے کی تھی' جس کے مطابق ملاقات میں عافیہ صدیقی نے دوران حراست اپنے اوپر ہونے والے جنسی اور جسمانی تشدد کو بیان کیا ہے۔ رپورٹ میں عافیہ صدیقی کی بدترین صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے کہ انہیں اپنی عزت و ناموس بچانے کے لیے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں... ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ جیل کے مرد اہلکار ان کے سامان پر پیشاب کردیتے ہیں۔پاکستانی خاتون سفارتکار نے عافیہ صدیقی کی حالت زار کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ جیل میں ہر شخص اور چیز سے خوفزدہ اور ڈری سہمی رہتی ہیں' جیل عملہ ان کی پرائیوسی کی خلاف ورزی کرتا ہے، ان سے ان کی چیزیں چھین لیتا ہے، انہیں ہر وقت جسمانی و جنسی تشدد اور منظم آبروریزی کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

عائشہ فاروقی کے مطابق ملاقات کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی دو گھنٹوں تک بات چیت کرتی رہیں اور تمام سوالات کا جواب دیتی رہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے عائشہ فاروقی کو بتایا کہ جیل کے عملے نے کئی بار ان پر جنسی حملوں کی کوشش کی ہے اور ان کا اسکارف بھی نوچا گیا ہے، جب کہ فروری میں ان کے سپروائزر نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی' ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی ان کی رہائی میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ حسین حقانی اور اس کا معاون خصوصی 2010 میں حکومت پاکستان کی طرف سے ان کے مقدمے کے لیے مختص کی گئی 20 لاکھ ڈالر کی رقم بھی ہڑپ کرگئے۔پاکستانی سفارتکار نے بتایا کہ اس سب کے باوجود انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کو پرعزم، پرامید پایا جن کا اللہ تعالی اور پاکستانی عوام پر ایمان بدستور قائم ہے کہ یقینا وہ ایک نہ ایک دن اپنی بیٹی کی مدد کو آئیں گے اور انہیں آزادی کا سانس لینا نصیب ہوگا۔ کیا اس خوفناک رپورٹ کے بعد بھی پاکستان میں کسی کو ''عزت'' کا دعویٰ کرنا چاہیے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved