ایک اور تخت کے الٹنے کا قصہ
  9  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭غضب! ستم! سپریم کورٹ نےآصف زرداری کی بیرون ملک جائیداد کی تفصیل طلب کرلی ۔ زرداری کے وکیل نے حکم پر عمل کرنے کا یقین دلادیا!۔ اب کیا ہوگا؟ وکیل نے صاف تسلیم کرلیا کہ آصف زرداری نے الیکشن کے گوشوارے میں بیرونی جائیداد کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ وکیل نے یہ نہیں بتایا کہ موصوف زندگی کا بیشتر حصہ دبئی میں کیوں گزارتے ہیں؟ وہاں کیا ضروری کام ہیں جنہیں جلد نمٹانا ضروری ہوتاہے! ممکن ہے فاضل عدالت یہ بھی پوچھ لے کہ پاکستان میں کراچی ، نوڈیرو، ملتان، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں اتنے سارے بلاول ہاؤس! اور لندن نیویارک(بلجیم میں بھی!)اعلیٰ درجے کے فلیٹس کیسے بن گئے! شاید یہ بھی پوچھ لیا جائے کہ سوس بینکوں میں سات آٹھ ارب روپے کیسے جمع ہوئے؟(عبدالرحمان یعقوب کے سونے کے عالمی سطح کے کاروبارکے ساتھ سوس اکاؤنٹس کا تعلق بھی پوچھ لیاجائے!) پھریہ امریکی سینیٹ کے اجلاس میں موصوف کے خلاف منی لانڈرنگ کی قرار داد کا کیا معاملہ تھا؟ یہ سب کچھ پوچھا جا سکتا ہے، ویسے کوئی بات خفیہ بھی نہیں ۔ آن لائن صرف ایک بٹن دبانے سے سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔ اُردو ، انگریزی میں بہت سے محاورے ہیں۔ ایک دلچسپ ہندی کہاوت بھی یاد آگئی ہے کہ ’’بندہ جوڑے پلی پلی، رام روڑھاوے کُپّا!‘‘( بندہ چلو چلو تیل کا برتن بھرتا ہےمگر قدرت اچانک اسے الٹا دیتی ہے)۔ ممکن ہے فاضل عدالت یہ بات بھی کہہ دے کہ آخری آرام گاہ تو صرف سات فٹ لمبی ، ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی محل ، کوئی پلازہ کیسے لے جائیں گے؟! ٭واپڈا کے چیئرمین کا بیان! پاکستان میں42ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے! پھر کیوں پیدا نہیں ہوئی ؟ کس کا احتساب کیا جائے؟ ن لیگ حکومت نے تو پھر بھی 11ہزار میگاواٹ کاانتظام کیا۔آصف زرداری اور پرویز مشرف نے15برسوں کی شہنشاہی حکمرانی کے دوران ایک میگاواٹ بھی پیدا نہ کی! واضح قومی جرم! کون حساب لے گا؟ ٭یک نہ شُد دوشُد:آصف زرداری کی بیٹی بختاور نے ”تُو مَن شُدم، مَن تُوشُدی “کہتے ہوئے ریحا م خان کی مریدنی ہونے کا اعلان کردیا۔ اسے اپنا مرشد مان کر بیان دیا کہ میں ریحام خان کے تحمل اور برداشت کی اسیر ہوگئی ہوں! تحمل اور برداشت کا قصہ یہ ہے کہ گزشتہ روز لندن میں ریحام خان نے عام لوگوں سے دور ایک پارک کے ویران حصے میں بھارت کے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دینا چاہا۔ اچانک ایک خاتون وہاں پہنچ گئی۔ سخت غصے میں ریحام سے پوچھا کہ لوگوں سے چھپ کر ایک ویران جگہ پر بھارتی ٹی وی کو کیوں انٹرویو دے رہی ہو؟ ریحام خان نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر غصے سے بھری ہوئی خاتون نے مزید بہت سخت سوالات کردیئے۔ اس نے ریحام کو بولنے نہیںدیا۔ ریحام مجبوری کے عالم میں سب کچھ سنتی رہی ۔ بالآخر عاجزآ کر انٹرویو کے بغیر وہاں سے چلی گئی۔ بختاور نے ریحام خان کی اس مجبوری کو تحمل اور برداشت کا نام دیا ہے اوراُسے اپنی گُورو تسلیم کرلیا ہے ( پتہ نہیں گُورو کی مونث کیاہوتی ہے؟) ٭پپلاں کے قصبہ کے نزدیک73کروڑ روپے سے دریائے سندھ پر حفاظتی بند بنایاگیا۔ گزشتہ روز ایک بارش سے بند بہ گیا!! اس جگہ بہت سے پیپل کے درخت ہونے کی بنا پر اس قصبہ کو پپلاں کا نام دیاگیا ۔ نیا نام لیاقت آباد ہے۔73کروڑ روپے کا بند ایک بارش سے بہ گیا!! مجرم کون ؟ اسے کیا سزا ملے گی؟ ٭سعودی عرب میں دو خواتین کو جیل میں بند کیاگیا۔ کینیڈا نے سعودی عرب کو انسانی حقوق کی پاسداری کا مشورہ دے دیا۔ سعودی حکومت اتنی برہم ہوئی کہ کینیڈا کے سفیر کو فوری طورپر ملک سے نکال دیا اور وہاں سے اپنا سفیر واپس بلا کر سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیاہےاور یہ کہ کینیڈا میں زیر تعلیم پانچ ہزار سعودی طلبا اور ان کے سات ہزار والدین اور رشتہ داروں کو کینیڈا سے نکال کرامریکہ اوربرطانیہ میں تعلیم دلائی جائے گی۔اچانک ایسے سخت ردعمل پر دنیا بھر میں حیرت کا اظہار کیاجارہاہے۔ سعودی عرب کامؤقف ہے کہ دونوں خواتین جرائم پیشہ ہیں۔انہیں جیل میں بند کرنا سعودی عرب کاداخلی معاملہ ہے! امریکہ نے اس معاملہ سے لاتعلق رہنے کا اعلان کردیاہے۔ ٭چند برس عمران خان کی پارٹی سڑکوں تھی، ن لیگ کی حکومت تھی۔آج ن لیگ سڑکوں پر ہے اور عنقریب حکمران بننے والی تحریک انصاف تماشا دیکھ رہی ہے! ن لیگ کے ساتھ ہم آغوش پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی اور مولانافضل الرحمان کی جے یو آئی بھی ہیں۔ پچھلے دور میں عوام کی خدمت اور محبت کے نام پر تحریک انصاف ریلیاں نکال کر سڑکیں بند کرتی تھیں۔ ایمبولینسیوں کو بھی راستہ نہیںدیاجاتاتھا۔ لاہور میں ایسے عالم میں ایک بچہ فوت ہوگیا تھا۔ اب یہی کارِ خَیر اپوزیشن پارٹیاں کر رہی ہیں! قوم کے کیسے کیسے خیر خواہ ہیں یہ سارے لوگ!

٭ایک دلچسپ معلوماتی تجزیہ:پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141نشستیں ہیں ان کے لیے منتخب ہونے والے ارکان کی اقسام دیکھئے:31راجپوت،15سید، 14 جاٹ،11 ارائیں، 9 بلوچ،8پٹھان، 6 اعوان،5 کشمیری اور38 بھروانہ، عباسی، اویسی ، ڈوگر، پیرزادہ وغیرہ ! دوبارہ فہرست دیکھی ہے، سید صرف 15!!! ٭عمران خان کےخاص ساتھی زلفی اور زیرحراست سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے ! قدرت کیا کیا رنگ دکھاتی ہے۔ فوا د حسن فواد کبھی اتنے جاہ و جلال کامالک تھا کہ چیف سیکرٹری وغیرہ بھی اس سے ڈرتے تھے۔ اس نے ایک سطر کے حکم کے ساتھ پنجاب کے گورنر کو بیرون ملک علاج (!!) کے لیے 30لاکھ روپے جاری کردیئے تھے!(یہ علاج کب اور کہاں ہوا؟) اب!! تخت سے تختہ! عبرت! عبرت! ٭احمد شمیم کے بارے میں یہ کالم ایک روز کی تاخیر سے لکھ رہاہوں۔ اتفاقیہ سہو ہوگئی۔ کشمیر کا مایہ ناز ،کشمیر کی محبت میں ڈوبا ہوا بہت باکمال شاعر!اس نے کشمیر کے بارے میںبہت اعلیٰ شاعری کی مگراس کی ایک شہرہ آفاق نظم ہی اسے زندہ جاوید کر گئی۔ جولائی1929 میں سری نگر میںپیدا ہونے والے احمد شمیم 7اگست1982 کو 53سال کی عمر میں راولپنڈی میں وفات پا گئے۔ ان کے بارے میں کچھ باتوں سے پہلے ان کی وہ نظم سنئے، کشمیر کی محبت میں نہایت دلگداز نوحہ ہے۔ اسے نیرہ نور نے گہرے پر سوز جذبے کے ساتھ گا کر ہمیشہ کے لیے امر کردیاہے۔ ریت پر سفر کالمحہ: ’’کبھی ہم بھی خوبصورت تھے ...کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت سانس ساکن تھی ...بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے ...پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر ...دُور کی جھیلوں میں بسنے والے ...لوگوں کو سناتے تھے ...جو ہم سے دور تھےلیکن ہمارے پاس رہتے تھے...نئے دن کی مسافت ...جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی ...تو ہم کہتے تھے ...امی! تتلیوں کے پَر بہت ہی خوبصورت ہیں ...ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو ... کہ ہم کو تتلیوں کے ...جگنوؤں کے دیس جانا ہے! ...ہمیں رنگوں کے جگنو ...روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں ...نئے دن کی مسافت ...رنگ میں ڈوبی ہواکے ساتھ ...کھڑکی سے بلاتی ہے ...ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو ...ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو ...!‘‘ احمد شمیم نے اُردو اورانگریزی کے علاوہ کشمیری زبان میں بھی بہت سا کلام کہا۔انہوں نے بھارتی جیل بھی کاٹی۔ کشمیر کی آزادی کے لیے بہت سے اور شعر بھی کہے دوشعر پڑھئے: جب ست رنگی آوازوں کی برکھا برسے بستی پر سارے زخم ہرے ہو جائیں، یاد آئے کشمیر بہت اوربھی ہونگے ملک بہت سے ،ہرے بھرے کھیتوں والے لیکن اس مٹی کی خوشبو پاؤں کی زنجیر بہت !


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved