بنا گر درد کا درماں
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قلمکارواعظ نہیں ہوتے کہ کہ با ربار ایک ہی بات دہراتے چلے جائیں کہ قارئین کے دل و دماغ کی لسّی بنا دیں ،لکھنے والے کو اس انداز اور سلیقے سے بات کرنا ہوتی ہے کہ یکبارگی پڑھنے والے کی لوحِ ذہن پر نقش ہوجائے ،کہ اخبار کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے اور بات وہی ہوتی ہے جو خانہء دل میں کسی تصویر کی طرح سج جائے۔ کچھ دوست آزردہ خاطر ہیں کہ اوپر تلے تین چار کالم پاکستان تحریکِ انصاف کے حق میں لکھ دیئے،میرے ایک دیرینہ دوست جو جنوبی پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرکامیاب ہونے والے ان لوگوں میں شامل ہیں جو ن لیگ کا پرسہ لینے کے لئے جیتے ،ان کے بڑے بھائی نے میری ربع صدی سے زیادہ عرصہ پر مشتمل دوستی کا لحاظ کئے بغیریہاں تک فرما دیا کہ’’کوئی لفافہ کام دکھا رہا ہے ‘‘ محترم یہ ’’اوصاف ‘‘ ہے اور اوصاف کے کسی کارکن پر یہ الزام کبھی نہیں لگا ،یہ پاکستان کا واحد اخبار ہے جس کی صحافیانہ روش پر کوئی داغ نہیں اور یہی اس کا حسن ہے ،آپ یہ جان لیں کہ جو کچھ لکھا گیا ،جتنی بار لکھا گیا وہ تحریکِ انصاف کے لئے نہیں ،ان افتادگانِ خاک کے حق میں لکھا گیا جنہوں نے نصف صدی سے محیط اپنے سروں پر تنے اندھیرے کی دبیز چادر کو پھاڑا،اس دیوار میں شگاف ڈالا جو ،ان کے اور بے حس و سفاک حکمرانوں کے درمیان کھڑی تھی ،اس فاصلے کو مٹانے کی کامئاب سعی کی جو ،حاکم و محکوم کے بیچ حائل تھا،ان افتادگانِ خاک نے فیض احمد فیض کے اس خواب کی تعبیر زندہ کر دکھانے کی کوشش کی کہ جو آج ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم وہ سحَرجس کا فیض صاحب کو انتظار تھا ، وہ ان افتادگانِ خاک نے طلوع کردکھائی،یہ انہی کی تگ و تاز اور جستجو کا ثمر ہے کہ ستر برس بعد ایک ایسی صبح دیکھیں گے جو روشن و درخشاں ہوگی ،جس کے دامن میں ایسے ستارے بھرے ہونگے ،جو نئی نسل کے روشن مستقبل کے امین ہوں گے۔ عمران خان شاہی محلات کی طرز پر بنے وزیرِ اعظم ہائوس میں رہے نہ رہے ،وہ بے بس،بے کس ،نادارو مفلس لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا چکا ہے ،اس کا اندازہ مجھے گزشتہ ہفتے اپنے سیاحتی دورہ ،مانسہرہ،کاغان، ناران، لولو سر ،بابو سراور جھیل سیف الملوک کے دوران ہوا،جب جا بہ جا نوجوانوں کی ٹولیاں اپنی دو رنگے جھنڈے والی گاڑیوں سے نکل کر خٹک ڈانس کرنا شروع کر دیتے،تو پنجاب اور سندھ کے نوجوان بھی اپنے اپنے علاقائی رقص کرنا شروع کر دیتے ،کئی مقامات پر میرے بیٹے انجینئر حسن سرمد نے گاڑی روک کر سرائیکی وسیب کی نمائندگی کرتے ہوئے جھومر ڈالی۔ ہاں یہ سچ ہے کہ دلوں میں بنایا گیا یہ مقام فقط زبانی دعووں سے قائم نہیں رکھا جا سکے گا ،تحریکِ انصاف کے قائد کو وہ سب عملی طور پر کرکے دکھانا ہوگا ،جو اس نے بائیس سال کہا،اس نے کہا ’’ میں سادگی کی روایت قائم کرونگا ،شہ خرچیوں کی رِیت توڑونگا،صاف ستھرے لوگوں سے صاف ستھری سیاست اور حکومت کا رواج ڈالونگا،دہشت گرد ایم کیو ایم نے دہشتگردی چھوڑ دی تو اس سے بھی دوستی کا رشتہ جوڑونگا ،بد عنوانی ،سفارش ،اقربا پروری کے سب دروازے بند کر دونگا، انصاف ہر ایک کی دہلیز تک پہنچائونگا‘‘

قوم سے باندھے یہ سارے عہد نبھائے گا تو لوگوں کے دلوں اور تاریخ کے صفحات میں زندہ رہے گا ،یہ سب یک لخت نہیں آہستہ آہستہ ہوگا ،ہمیں یاد ہونا چاہئے 1988ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم پاکستان بنی تھیں تو انہوں نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا’’ہمارے سامنے فطرت کے اصول ہیں ،جو تبدیلی آہستہ ،آہستہ آتی ہے ،وہی پائیدار ہوتی ہے ،ہم چاہتے ہیں تبدیلی اس طرح آئے جیسے موسم تبدیل ہوتا ہے ،نئی ہوا چلتی ہے ،ہوا کی مہک ذہن اور دل میں بستی چلی جاتی ہے ،اس طرح موسم کی تبدیلی دل کی گہرائی تک اتر جاتی ہے ،کبھی موسم اچانک سے تبدیل ہوجائے تو طوفان برپا ہوجاتا ہے ،زمین کانپ جاتی ہے ،تباہی آجاتی ہے ،ہَوا آہستہ آہستہ چلے ،تاریخ کے اوراق آہستہ آہستہ کھلیں ،اُن پر نئے حروف ،نہایت اعتماد اور اطمینان سے نقش ہوں ،ہمارے نظریات عوام کے ذہن میں ،دل میں ،خوشبو کی طرح اتریں اور ان کی سانسوں کا حصہ بن جائیں ‘‘ آج جب تبدیلی کے سب امکان روشن ہو چکے ہیں مجھے شہید بے نظیر بھٹو بھی بہت یاد آرہی ہیں ،جنہیں بے رحم موت کے سفاک ہاتھوں نے اچانک اُچک لیا ،وہ ہم میں موجود نہیں ،مگراُ ن کی ایک ایک بات آبِ زر سے لکھنے والی ہے ،بلاول نے اچھا کیا کہ آج بھان متی کے کنبے کا حصہ نہیں بنا ،شکست خوردہ لوگوں کے ہجوم میں تبدیلی کے خواب کے راستے کاپتھر بننے والوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی ،سازشی قوتوں کے ہاتھوں کھلونا نہیں بنا ،جمہوریت کا حسن گہنانے والوں کا آلہ کار نہیں بنا۔عمران خان افتادگان خاک کے درد کا درماں بنا تو تبدیلی ضرور آئے گی ،وہ تبدیلی جسکا خواب آنکھوں میں لئے بے نظیر نے جامِ شہادت نوش کیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved