مشرق وسطیٰ اور عمران خان کا نیا پاکستان
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

متوقع وزیراعظم عمران خان کی واضح سیاسی فتح کی مبارک باد سب سے پہلے سعودی سفیر نواف المالکی کے ذریعے سعودی شاہ سلمان آل سعود کی طرف سے موصول ہوئی ہے شاہ سلمان یا ولی العہد کے متوقع دورے کی بات بھی انہوں نے کی ہے۔ کیا سعودیہ پاکستانی سیاست میں اس قدر ’’دخیل‘‘ ہے یا محض دلچسپی تک محدود ہے؟ چونکہ نواز شریف خاندان کے ساتھ سعودیہ کا تعلق خاص معاملہ رہا ہے لہٰذا تصور کیا جاتا ہے کہ سعودی فیصلہ ساز صرف شریف خاندان سے وابستہ ہیں۔ حالانکہ حقیقت حال اس سے مختلف ہے وہ یہ کہ سعودی فیصلہ ساز صرف ریاست پاکستان کے ساتھ محبت کو وابستہ کرتے ہیں کسی بھی ایک خاندان اور ایک سیاسی جماعت سے نہیں۔ اگرچہ جناب نواف المالکی کے حوالے سے شہرت رہی تھی کہ وہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کے لئے ریاض میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے رہے تھے مگر میرے خیال میں اگر یہ کوشش تھی بھی تو پاکستانی مفاد اور مسلم لیگ کے مفاد میں تھی اکیلے شہباز کے حوالے سے ہرگز نہیں تھی۔ پھر نواف المالکی نے نہایت تدبر سے عمران خان کے لئے بھی جگہ بنائی ہے جو عمرہ کے دوران سعودی پروٹوکول کا میسر آنا اور مکہ مکرمہ میں شاہی رہائش گاہ میں عمران خان کا قیام تھا۔ یہ سب کچھ نواف المالکی کی ’’تدبیریں‘‘ تھیں گویا جناب نواف المالکی کے تدبر و فراست نے تحریک انصاف کے لئے ریاض و جدہ کے دل و دماغ کو بروقت بیدار کرکے دونوں ممالک سے اپنے محبت و خلوص کا ثبوت دیا تھا۔ عمران خان سے بعدازاں متحدہ عرب امارات کے سفیر محترم حمد عبیدابراہیم سالم الزعابی نے ملاقات کی اور متحدہ عرب امارات کے حکمران کی طرف سے ہدیہ تبریک و تعاون پیش کیا ہے قطر کی طرف سے بھی خوش آمدید اور تعاون کی پیشکش عمران خا ن کو موصول ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودیہ ہی آج کل مشرق وسطیٰ میں اپنے ولی عہدوں کے ذریعے قائدانہ کردار ادا کر تے ہیں۔ دونوں کے اشتراک ہی سے قطر کے پیدا کردہ مسائل کا علاج بھی دریافت کیا جاتا رہا ہے۔ سعودیہ پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ’’دوستانہ طور‘‘پر رکھتا ہے۔ لہٰذا سعودیہ ہی متوقع وزیراعظم عمران خان کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ حلف اٹھانے کے بعد عمران خان کو فوراً عمرہ کی ادائیگی کے بعد سعودی شاہ سے ملاقات کرکے ان کی محبت اور تبریک کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج کل کینیڈا سے سعودیہ کی شدید کشیدگی ہے ان لمحوں میں متوقع وزیراعظم کا سعودیہ جانا پاکستان کے لئے معاشی طور پر بھی نہایت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جبکہ نہایت متحرک ایرانی سفیر ہزدوست مہدی نے بھی عمران خان سے ملاقات کی اور بعدازاں ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ دونوں ممالک میں تجارت اور قریبی رابطے کی ضرورت کا اعتراف ہوا ہے۔ عمران خان کو ایرانی دورے کی دعوت بھی ایرانی صدر نے دی ہے ایران سے تعلق بطور پڑوسی کا مکمل اعتراف ہے مگر یہ بھی غور میں لائیں کہ ایرانی عوام آج مفلسی اور غربت کے جس جہنم میں ہیں اس کا اصل سبب تو وہ حسن روحانی صدر کو نہیں بلکہ ولایت فقہیہ شہنشایت (آیت اللہ علی خامنائی) کو تصور کرتے ہیں جس نے ایرانی عوام کی دولت کو شام و عراق و یمن اور لبنانی حزب اللہ پر پانی کی طرح بہایا ہے۔ ایرانی عوام اس توسیع پسندی سے متنفر ہیں اور پڑوسیوں سے فوراًصلح چاہتے ہیں اوپر سے امریکی معاشی پابندیوں کا نیا عذاب نازل ہے ۔ عمران خان کو ایران کے حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے ان نازک معاملات کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ چلتے چلتے یہ بھی زیر بحث لے آئوں کہ خلیج عربی جسے ماضی میں خلیج فارس کہا جاتا ہے سے سعودیہ‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات وعیرہ کا تیل دنیا کو میسر آتا ہے۔ یہ عرب تیل خلیج عربی سے ایران کے زیر قبضہ متحدہ عرب امارات کے دو جزیروں (1) الطنب الکبریٰ( 2) الطنب الصغریٰ) کے راستے کی موجودگی میں بحراحمر سے ہوتا ہوا نہر سویز کے ذریعے مغرب کو جاتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحیرہ عرب و بحر ہند کے ذریعے مشرقی ممالک کو جاتا ہے۔ حال ہی میں ایران تیل کی بندش کی دھمکی دے چکا ہے الحدیدہ بندرگاہ حوثیوں کے قبضہ میں ہے جہاں سے ایران حوثی عنصر کے ذریعے تیل اور تجارت کی رسد میں موثر کردار اپنائے ہوئے ہے جنکہ متحدہ عرب امارات اور سعودیہ کی مشترکہ عسکری قوت الصعدہ ائیرپورٹ پر قبضہ کر چکی ہیں اور اہم پہاڑی علاقوں کو حوثیوں سے خالی کرا چکی ہیں صرف الصعدہ سٹی حوثیوں کے قبضے میں ہے یا الحدید بندرگاہ جو مستقبل قریب میں سعودی و متحدہ عرب امارات کے قبضہ میں ائیں گی۔ لہٰذا مستقبل قریب میں حوثیوں کی شکست فاش سے ایرانی غلبہ باب المندب سے ختم ہونے کے امکانات واضح ہیں۔

اب ذرا امارات کے دو جزیروں الطنب الکبریٰ ‘ الطنب الصغریٰ کے اسٹریٹجک محل وقوع کو ملاحظہ کریں۔ شاہ ایران نے امارات کے ان جزیروں پر قبضہ کیا تھا۔ اگر یہ دونوں جزیرے واپس امارات کی ملکیت میں چلے جاتے ہیں تو خلیج عربی سے عرب ریاستوں اور سعودیہ کے تیل کی سپلائی لائن جو عدن‘ باب المندب الحدیدہ بندرگاہ سے بحراحمر کے ذریعے مغربی ممالک کو میسر ہے وہ ایران سے مکمل طور پر آزاد ہو جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے امارات کا موقف پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ امارات کے دونوں جزیرے واپس امارات کو ایران سے دلائے جائیں۔ پاکستان کو ان معاملات میں الجھنے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔ ایران سے بطور پڑوسی ملک جو فطری تعلقات ہیں وہ از خود مضبوط ہوتے جائیں گے۔ لہٰذا عمران خان کو جذباتی طور پر ایران و سعودیہ میں صلح کے لئے وقف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایران نہ ہی معاشی طور پر پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے نہ ہی سیاسی طور پر‘ جبکہ سعودیہ و چین پاکستان کے لئے سیاسی‘ معاشی‘ اسٹریٹجک طور پر اہم ترین ہیں۔ ہم نے یہ تحریر خالصتہ جناب متوقع وزیراعظم عمران خان کے لئے لکھی ہے تاکہ وہ اقتدار میں آنے سے پہلے تلخ زمینی حقائق کا ادراک کرلیں ہم ہرگز یہ نہیں کہہ رہے کہ عمران خان پاکستان کو ایرانی دشمنی میں مبتلا کر دیں ۔ہرگز نہیں ایرانی عوام اور ایرانی سرزمین حقیقت ثابتہ ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved