یوم آزادی کا تقاضا :خود احتسابی
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ہمارے مسائل اور زبوں حالی پروہ آیت پورے طور پر منطبق ہوتی ہے جو سورۃ النحل میں آئی ہے۔ اس آیت میں ہمیں آئینہ دکھا یا گیا ہے۔فرمایا :’’اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی۔ ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا ۔مگر ان لوگوں نیھ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہناکر (ناشکری کا) مزہ چکھایا۔‘‘اللہ نے پاکستان کو ہر قسم کے وسائل سے مالامال کیا۔پاکستان میں ہر قسم کے میوے ، پھل ، اناج، غلہ اور سبزیاں مختلف جغرافیائی حالات میں میسر ہیں۔ لیکن اللہ کے اتنے بڑے فضل کے بعد ہم اہل پاکستان نے اللہ کی ان انعامات کی ناشکری کی۔میں عرض کرچکا ہوں کہ قسر ددشناسی کا تقاضا دین کو قائم کرنا اور ایک اسلامی معاشرہ تشکیل دینا تھا۔ لیکن آج وہ سب کچھ کہاں ہے؟ وہ اسلامی سماجی اقدار کہاں ہیں؟ آج ہم تہذیبی حوالے سے جس حال میں ہیں اس سے تو پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ بسنت کو ہم ان سے زیادہ اہتمام سے مناتے ہیں۔ بے حیائی ، فحاشی اور عریانی میں ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ کیا یہ ہے اسلامی معاشرہ؟ کیا اس طرز زندگی کے لئے ہم نے آگ اور خون کے دریا عبور کئے تھے۔ اللہ کے انعامات اور احسانات کی ناقدری کا نتیجہ کیا ہوا؟ ’’اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک کا مزہ چکھایا اور خوف کا لباس اوڑھادیابسبب اس کے جو وہ کرتے تھیَ‘‘۔آج اس ملک کے اندر یہ دونوں عذاب پورے طور پر عیاں ہیںجن کو قرآن نے نمایاں کیا۔ ٹھیک ہے ، ہمارے معاشرے میں پندر بیس فیصد لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جنہیں بھوک کا اندیشہ نہیں ہے۔ لیکن جو 80فیصد آبادی ہے اس کو دیکھئے ، وہ کس حال میں ہے ۔دو وقت کی روٹی ان کے لئے مشکل ہوگئی ہے۔ مہنگائی کے سیلاب نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ آئے روز خودکشیوں کے دلدوز واقعات سامنے آتے ہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس کے باوجود ہے کہ اللہ نے پاکستان کو سنا اگلنے والی زمینیں عطا کی ہیں مگر ہم نے اپنی نااہلی کی وجہ سے زراعت کو ترقی نہ دے سکے۔ ہمارے مقابلے میں انڈیا نے اپنی زمین کے ایک ایک انچ کو قابل کاشت بنایا ہیھ۔کسانوں کو جدید زرعی آلات اور مراعات دی ہیں اور یوں ایک بہترین زرعی نظام متعارف کرایا ہے۔ مگر ہمارے حکمراں لوٹ کھسوسٹ میں مشغول رہے۔بھوک کے ساتھ آج ہمیں توانائی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ دوسرا عذاب ہم پر خوف کی صورت میں مسلط ہے۔ یہ خوف کس درجے میں ہے، اس کا چند سال پہلے ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس وقت ہم پرائی آگ میں کود کر اپنے ہی مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں۔ ایک طرف فوجی آپریشنوں سے لوگ جاں بحق ہورہے ہیں ، ڈرون حملوں میں لوگ مارے جارہے ہیںاور دوسری جانب پاکستان کے اقتصادی شہ رگ کراچی بد ترین ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ آئے روز لاشے اٹھتے ہیں مگر حکمراں اقتداری مصلحتوں کی بنا پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ یہ کس قد ر اندوہناک صورتحال ہے کہ مسلمان ہی ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ اس وقت نہ صرف فاٹا اور شمالی علاقہ جات میں بلکہ پورے ملک میں خوف اور دہشت کی فضا ہے۔ ممکنہ خود کش حملوں سے لوگ خوف زدہ ہیں ۔خوف کی یہ کیفیت ہماری ان پالیسیوں کا ردعمل ہے جو ہم نے اختیار کررکھی ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ ہم مسلمان ہوکر اسلام ہی کی جڑوں پر کلہاڑا چلا رہے ہیں۔ ہم نام نہاد دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شیطانی قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑی جارہی ہے۔ ہم نے اپنے لوگوں کو پکڑ پکڑ کرامریکہ کے حوالے کیا ۔یہاں تک کہ جذبہ ٔ ایمانی سے سرشار اور قوم کی غیرتمند بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ڈالروں کے لالچ میں امریکہ کے حوالے کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ یہ قوم طور پر بے غیرتی اور بے حمیتی کی ایک مثال ہے ورنہ نہ جانے ہم نے کتنی بیٹیوں اور بیٹو ں کو ڈالروں کی خاطر امریکی درندوں کے حوالے کیا ہے۔

میرے پیش نظر کوئی مرثیہ کہنا نہیں ہے ، بلکہ اپنی قوم کو جگانا مقصود ہے۔ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ حالات تباہی کی طرف جارہے ہیں ۔اگر ہم اصل منزل کی طر ف پیشقدمی نہیں کریں گے تو حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ بات اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو اور مجموعی طور پر قوم نے اپنا قبلہ درست نہیں کیا تو چہروں کی تبدیلی سے کسی چیز کی توقع نہ رکھئے۔البتہ اگر ہم نے ملک میں شریعت کے نفاذ کی جانب پیشقدمی کی تو آسمان سے بھی برکتیں ہوں گی اور زمین بھی اپنے خزانے اگلے گی جیسا کہ سورۃ المائد ہ میں فرمایا گیا :’’اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں ) ان کے پروردگار کی طر ف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو (ان پر رزق مینہ کی طرح برستا )اپنے اوپر سے اور پائوں کے نیچے سے کھاتے )۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved