امریکہ کی پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایران کے صدر حسن روحانی نے چیئرمین تحریک انصاف اورنامزد وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور پاک ایران تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیاجبکہ پاکستان میں متعین قائم مقام امریکی سفیر جان ایف ہو ور کی قیادت میں امریکی سفارتی وفد نے بھی ملاقات کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امورپر تفصیلی تبادلہ خیال اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات پر اتفاق کیاگیا۔ ایرانی صدر نے فون پر پاکستان کے آئندہ وزیر اعظم عمران خان سے بات چیت میںکہا کہ پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کے خواہاں ہیںایرانی صدر نے چیئرمین تحریک انصاف کو ایران کے دورے کی دعوت بھی دی جوکہ انہوں نے قبول کرلی اور یقین دلایا کہ پاکستان میں انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں ممالک کی وزارت خارجہ اس مجوزہ دورے کو حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران سے خصوصی تجار تی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور سفارتی تعلقات میں بھی اضافے کا خواہشمند ہے۔ ہماری رائے میں اب جبکہ پاکستان کی ایران سے قربت مزید بڑھنے اور دوطرفہ تعلقات میں گرمجوشی کا کامظاہرہ کیا جارہا ہے تو امریکی قیادت بھی پاکستان کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی اور خطے میں ہمنوا بھارت کے ہوتے ہوئے بھی اسے پاکستان کی شدت سے ضرورت محسوس ہورہی ہے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستی کا اظہار ہر گز نہیں ہے بلکہ وہ ایران سے پاکستان کو دور رکھنے کیلئے ایک قدم آگے بڑھانا چاہتا ہے اور خیال غالب ہے کہ امریکہ پاک ایران قربتوں کے پیش نظر روکی اور کم یا ختم کی جانے والی امداد بھی بحال کردے کیونکہ اسے یہ تعلق ایک آنکھ نہیں بھائے گا۔ پاکستان کو خطے کے تمام ممالک بشمول بھارت کے ساتھ تنازعات کے آبرومندانہ حل‘ایران کے ساتھ باہمی تجارت سی پیک میں اسکی عملی شمولیت اور چاہ بہار اور گوادر بندرگاہوں کو ایک دوسرے کا معاون بنانے کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔بھارت اگر مسئلہ کشمیر اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے تو اس سے بھی اچھے پڑوسی کے تعلقات رکھے جاسکتے ہیں جبکہ اسے اعتماد سازی کے لئے عملی اقدمات اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے اپنی وقابض اور غاصب فوج کو واپس بلانا ہوگا اور جنگی جرائم‘انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم کو جواب بھی دینا ہوگا جبکہ افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ یہ حقیقت پیش نظررہنی چاہئے کہ ایک طرف امریکی پابندیاں اور دوسری طرف ہمسایہ ملک کی سلامتی کے سوال نے پاکستان کو دوراہے پر کھڑا کردیا جو کہ نئی متوقع پی ٹی آئی حکومت کے لیے عالمی چیلنج کی شکل اختیار کرگیاہے۔ اس بارایران سے تجارت کرنے والے ملک کوبھی پابندیوں کی دھمکی دی گئی ہے‘ان حالات میں پاکستان کی خطے میں اہمیت اضافہ ہونے کیساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھ گئے،اس وقت پاکستان میں جمہوری عمل مکمل ہونے کے بعد نئی حکومت سازی کامرحلہ جاری ہے جبکہ متوقع پی ٹی آئی کی حکومت کو اس حوالے سے شدیدچیلنجز کاسامنا کرنا پڑسکتاہے۔ ہماری رائے میں ایران پر امریکی پابندیوں کے پیش نظر پاک ایران تعلقات ایک مشکل مرحلہ ہونگے اور کسی بھی ممکنہ امریکہ مہم جوئی کی صورت میں ہمیںا پنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہوگا۔ایران کا ساتھ بھی دینا ہوگا اور دنیا کو پاکستان کے اصولی موقف پر قائل بھی کرنا ہوگا ۔ امریکہ کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگ اور قوت کا استعمال پاکستان کے پڑوسی ملک افغا نستا ن کے مسئلے کا حل نہیں افغانستان کا استحکام پاکستان، امریکہ اور خطے کے مفاد میں ہے۔ قائم مقام امریکی سفیر جان ایف ہوورنے وفدکے ہمراہ متوقع وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس کے چند گھنٹوں بعد ایرانی صدر نے عمران خان کو ٹیلی فون کرکے بات چیت کی اس سے حالات کی نزاکت کا اندازہ یہ کیا جاسکتا ہے ماضی میںپاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کو روس نے دعوت دی تو عین اسی موقع پر امریکہ نے بھی بلا لیا اور روسی سردمہری اور تاخیر سے امریکہ نے گرمجوش دوستی کرلی جو بعد میں ایک دھوکہ اور سراب و عذاب ثابت ہوئی ۔ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاک امریکہ تعلقات نے تاریخ میں کئی اتار چڑ ھا ئو دیکھے ، اس کی بنیادی وجہ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ تحریک انصاف امریکہ کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کیلئے پرعزم ہے۔امریکہ کے ساتھ پاکستان مستحکم تجارتی اور معاشی تعلقات کو نہایت اہم سمجھتاہے ۔دوسری طرف پاکستان اور ایران محض ہمسائے ہی نہیں مذہبی اور ثقافتی بندھن سے جڑے ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کی ضرورت ہے ۔ بڑے منصوبوں میں خزانے کو جھونکنے اور پیرس بنانے کے دعویداروں کی قلعی بھی کھولنی ہوگی جوکہ ذاتی سیاست میں عوام کا نام لیکراقتدارمیں آکراپنی ذات کا سوچتے ہیں۔

محمود خان وزیراعلی خیبرپختونخوا نامزد پنجاب کیلئے نوجوان وزیراعلیٰ کانام فائنل تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی کے 9سوات سے منتخب ہونے والے رکن محمود خان کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد کردیا۔نامزد وزیراعلیٰ محمود خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق ان کے پاس 2 ارب 51کروڑ 67 لاکھ کے مکمل اثاثہ ہیں جن میں 4 کروڑ نقدی بینک میں ہے اور 87کنال زرعی اراضی اور 55 کمرشل دکانوں کے مالک ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے نامزدمحمود خان سوات کے علاقے مٹہ کے رہائشی ہیں جنہوں نے 2007 ء میں عملی سیاست کا آغاز کیا اور تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں وزیرکھیل رہ چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں اسپیکر کے فرائض انجام دینے والے اسد قیصر، سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، وزیرتعلیم عاطف خان اور صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے جس شخصیت کا انتخاب کیاہے ان کے پیش نظر خوبیاں اور خامیاںدونوں رہی ہونگی اور یہ ان کی نظر میں درست انتخاب ہوگا لیکن جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو ماڈل مدینہ ریاست بنانے کے متمنی ہیں تو ان سے یہ عرض کی جاسکتی ہے کہ ریاست مدینہ میں ہر ذمہ دار بوریا نشیں تھا اور سادگی کی ایسی مثال کہ دنیا میں کہیں نہیں مل سکے گی ۔ایک ارب پتی رکن اسمبلی کا انتخاب ان کا حسن انتخاب ہوسکتا ہے لیکن کیا وہ خود کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اپنے اثاثوں کے حوالے سے قوم اور ملک کے اداروں کو جوابدہ ہونگے۔ عمران خان کا اجلاس میں کہنا تھا کہ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے، انصاف میرٹ پر کرنا ہے، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور قوم کا پیسا بچانا ہے تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے جب کہ ہم نے پارٹی کو ایک ادارہ بنانا ہے، سب سے زیادہ ذمے داری پنجاب والوں پر ہے‘ ہماری رائے میں ایک درویش،مخلص اور دولت سے رغبت نہ رکھنے والے کو یہ ذمہ داری دی جاتی تو بہتر تھا۔دوسری طرف انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں، یہ نوجوان کلین ہوگا، اس پرکسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں، سب اس نوجوان کو سپورٹ کریں جب کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے، وہاں کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں متحرک ،فعال ،زیرک ،ملک اور قوم کیلئے ایک وثن رکھنے والوں کو ہی ذمہ داریاں دینی چاہئیں جو عوام کی توقعات پر پورا اتر سکیںاور عوامی مسائل کو حل کرسکیں ۔ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنانے کیلئے عمران خان کو،کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات کرنی ہونگی، پنجاب کے اسکولوں اور ہسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنانا ہوگا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved