انتخابات کا گورکھ دھندہ
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

انتخابات ہو چکنے کے بعد طے شدہ طریقے کے مطابق اب مرکز اور صوبوں میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعتیں حکومت قائم کریں گی ۔ ایک آدمی ایک ووٹ (one man one vote ( کے اصول پہ قائم کئے گئے جمہوری نظام میں اکثریت کی رائے کلیدی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس موقعے پہ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارا مروجہ انتخابی نظام اکثریت کی رائے حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو یہ بالکل درست بات ہو گی ۔ یہ غیر متوقع اور چونکا دینے والی حقیقت موجودہ انتخابات کے اعداد و شمار سے ہی عیاں نہیں ہوتی بلکہ گزشتہ تمام انتخابات کا بنظر ِ غائر جائزہ لیا جائے تو یہی تلخ نتیجہ بر آمد ہو تا ہے کہ مجموعی طور پہ اکثریتی رائے کے برخلاف حکومتیں بھی تشکیل پا تی ہیں اور نظام کی خامیوں کی وجہ سے ووٹرز کی رائے غیر مئوثر ہو جاتی ہے ۔ آپ غور فرمائیے ملک میں دس کروڑ انسٹھ لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے پانچ کروڑ انتیس لاکھ ووٹرز نے موجودہ الیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ گویا تقریباً باون فیصد سے بھی کچھ کم ووٹرز پچیس جولائی کو ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلے ۔ بعض حضرات ووٹنگ کی اِس شرح کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہیں ۔ لیکن اِس معاملے کا یہ تشویشناک پہلو بھی کم توجہ طلب نہیں کہ آخر بیالیس فیصد رجسٹرڈ ووٹرز اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے کیوں باہر نہیں آئے ؟ یہ خاموش اکثریت اگر ووٹ ڈالتی تو کیا نتائج وہی ہوتے جو اِس وقت حاصل ہوئے ہیں ؟ کیا پانچ کروڑ سے بھی زیادہ تعداد رکھنے والے یہ ووٹرز موجودہ انتخابی نظام اور سیاسی جماعتوں سے بیزار ہیں ؟ ایک جانب پانچ کروڑ انتیس لاکھ ووٹ بیشتر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں میں تقسیم ہونے کے بعد حکومت سازی کی بنیاد قرار پا رہا ہے جبکہ دوسری جانب تقریباً اتنے ہی ووٹرز کی لا تعلقی یا عدم شرکت پورے نظام کا منہ چڑا رہی ہے ۔ حکومتی بقراطوں سے یہ سُن سُن کے کان پک چُکے ہیں کہ اُن کی حکومت بائیس کروڑ غیور پاکستانیوں کی نمائندہ تھی ۔ آئیے اعداد و شمار کی روشنی میں اِس دعوے کو بھی پرکھ لیں ۔ موجودہ الیکشنز میں پانچ کروڑ انتیس لاکھ سے کچھ اوپر ووٹ ڈالے گئے ۔ اکثریتی جماعت بن کے ابھرنے والی پی ٹی آئی کو ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ووٹ ملے اور تقریباً ایک سو سولہ نشستوں پہ کامیابی ملی ۔ دوسرے نمبر پہ نون لیگ ہے جس کو ایک کروڑانتیس لاکھ ووٹ ملے اور چونسٹھ نشستیں ہاتھ آئیں ۔ تیسرے نمبر پہ پی پی پی ہے جسے ملک بھر میں ووٹ تو انہتر لاکھ ملے لیکن قومی اسمبلی میں چوالیس نشستیں مل گئیں ۔ ایم کیو ایم نے تہتر لاکھ ووٹ لیے اور نشستیں صرف چھ ہی ملیں ۔ ایم ایم اے نے ملک بھر میں ووٹ تو پچیس لاکھ اڑسٹھ ہزار لیا لیکن نشستیں بارہ جیت لیں جبکہ دوسری جانب تحریکِ لبیک نے بائیس لاکھ چونتیس ہزار ووٹ لیا لیکن ایک بھی نشست نہ جیت پائی ۔ یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ انتخابی نظام کے ذریعے نہ تو اکثریتی رائے کا حقیقی اظہار ہوتا ہے اور نہ ہی قومی سطح پہ حقیقی نمائندہ حکومت تشکیل پاتی ہے ۔ غور فرمائیے اکثریتی جماعت کو ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ ملے ہیں جبکہ مجموعی طورپہ ملک بھر میں اُس کے خلاف تین کروڑ اکسٹھ لاکھ اکتیس ہزار ووٹ پڑے ۔ کیا اسے اکثریتی حکومت قرار دیا جانا درست ہوگا ؟ مجموعی طور پہ اکثریتی جماعت نے کُل رجسٹرڈ ووٹوں کا صرف سولہ فیصد ووٹ حاصل کیا ہے ۔ نون لیگ پہ پی ٹی آئی کو تقریباً چالیس لاکھ کے لگ بھگ ووٹوں کی معمولی برتری ہونے کے باوجود باون نشستوں کی غیر معمولی سبقت حاصل ہو گئی ہے ۔ دوسری جانب پی پی پی محض انہتر لاکھ ووٹ لے کے چوالیس نشستوں پہ براجمان ہے جبکہ تہتر لاکھ سے زائد ووٹوں والی ایم کیو ایم کے پاس محض چھ نشستیں ہیں ۔ ایم ایم اے اور تحریک ِ لبیک کا موازنہ بھی غور طلب ہے ۔ پانچ جماعتی اتحاد ایم ایم اے نے ووٹ تو پچیس لاکھ ہی لیے لیکن نشستیں بارہ حاصل کر لیں جبکہ تحریک ِ لبیک نے بائیس لاکھ اکتیس ہزار ووٹ لینے کے باوجود قومی اسمبلی میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کی ۔ درج بالا اعداد و شمار سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ موجودہ فرسودہ نظام اکثریتی رائے حاصل کرنے سے قاصر ہے ۔ حلقہ بندیوں کی غیر منطقی تقسیم کی وجہ سے لاکھوں ووٹ ڈالے جانے کے باوجود نتائج مرتب کرتے ہوئے عملی طور پہ انتخابی عمل میں غیر مئوثر ہو کے ضائع ہو جاتے ہیں ۔ اس پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے لیاری کے حلقے کے نتیجے پہ نگاہ ڈالیے ۔ جیتنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار کو باون ہزار ووٹ ملے ۔ دوسرے نمبر پہ تحریک ِ لبیک کو پینتالیس ہزار ، تیسر ے نمبر پہ پی پی پی چیئر مین کو تینتیس ہزار جبکہ چوتھے نمبر پہ ایم ایم اے کو پچیس ہزار ووٹ ملے ۔ یہ واضح ہے کہ مجموعی طور پہ پی ٹی آئی کے باون ہزار ووٹ کے مقابلے میں پڑنے والے ایک لاکھ تین ہزار سے زائد ووٹ عملی طور پہ ردی کی ٹوکری میں چلے گئے کیونکہ ان ووٹوں کا ہارنے والی جماعتوں کو مجموعی طور پہ کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ یہ ضرور ہے کہ لیاری کے حلقے میں اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پایا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پی پی پی ، ایم ایم اے اور تحریکِ لبیک کو ووٹ ڈالنے والے ایک لاکھ سے زائد ووٹرز قومی سطح پہ نمائندگی سے محروم رہیں گے ۔

ہمیں غور کرنا ہو گا کہ ایک حلقے میں اکثریت کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے یا کہ ملک گیر سطح پہ عوام کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے ؟ اسی طرح لاہور کے مشہور حلقہ این اے ۱۲۰ میں نون لیگ کے جیتنے والے امیدوار نے ایک لاکھ پندرہ ہزار ووٹ لیے جبکہ ہارنے والی پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے ۔ یہ زیادتی ہے کہ ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار تو اسمبلی سے باہر ہو جائیں جبکہ کے پی ، بلوچستان اور اندرونِ سندھ سے پندرہ یا بیس ہزار ووٹ لینے والے اسمبلی میں جا بیٹھیں ۔ قوم کے بائیس ارب اس لیے تو خرچ نہیں کیے گیے لاکھوں ووٹ محض اس لیے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے جائیں کہ الیکشن کمیشن کے بقراطوں اور حکمرانوں نے اپنے مفادات کے تحت حلقہ بندیاں کر رکھی ہیں ۔ الیکشن کے اعداد و شمار سے چند بنیادی نقائص ایک بار پھر اُبھر کے سامنے آئے ہیں۔ اول ، موجودہ نظام قومی سطح پہ اکثریتی رائے حاصل نہیں کر سکتا ۔ دوم ، حلقہ بندیوں کی تقسیم کی وجہ سے ووٹرز کا حقیقی مینڈیٹ مجموعی طور پہ متاثر ہوتا ہے اور لاکھوں ووٹ عملی طور پہ انتخابی نتائج پہ کوئی اثر مرتب کیے بغیر ردی کی ٹوکری کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ مقام ِ افسوس کہ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہورہا ہے جہاں بیالیس فیصد ووٹرز انتخابی عمل سے لاتعلق رہے ۔ سوم ، ملک بھر میں ووٹ بینک رکھنے والی جماعتیں قومی سطح پہ نمائندگی سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ چہارم ، فا تح قرار دی گئی جماعتیں حاصل کیے گیے ووٹوں کے تناسب سے کہیں زیادہ نشستیں حاصل کر کے مصنوعی اکثریت کی بنیاد پہ حکومت بنانے میں کامیاب رہتی ہیں ۔ اختصار کا تقاضہ ہے کہ بات اس مشورے پہ ختم کر دی جائے کہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پہ ایسے انتخابی نظام کی تشکیل کی جائے جس میں ایک بھی ووٹ ضایع نہ ہونے پائے اور ہر جماعت کو جائز نمائندگی حا صل ہو ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved