سعودی عرب اور قبلہ اول سے وفاداری
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

یہ بات ماننے والی ہے کہ پروپیگنڈا ’’برگیڈ‘‘ کو سعودی عرب کے خلاف مجموعی پروپیگنڈا کرنے میں بڑی مہارت حاصل ہے … قبلہ اول کے حوالے سے سعودی عرب اپنے روائتی موقف سے انحراف کرگیا؟ اس جھوٹے الزام میں کتنی صداقت ہے؟ آئیے اس کا جائزہ عبرانی جریدے میں چھپنے والی ایک مصدقہ رپورٹ کی روشنی میں لیتے ہیں … رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کی جانب سے قبل اول کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے حوالے سے بدنام زمانہ امریکی معاہدہ ڈیل آف دی سینچری کو مسترد کرکے امریکہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ قبل اول کو اسرائیلی دارالحکومت بنانا امریکی اور اسرائیلی خواب ہے مگر رپورٹ کے مطابق خادم الحرمین شریفین نے غیر متوقع طور پر اسرائیل کے حق میں ہونے والے فیصلے سے دستبرداری کا فیصلہ کرکے اسرائیل اور امریکہ کو غیر معمولی دھچکا دیا ہے ‘ کہا جاتاہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ کے انکار اور مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر مملکت کے سابقہ موقف پر قائم رہنے کے عزم کے بعد امریکی انتظامیہ نے ڈیل آف دی سینچری پر مزید پیش رفت ملتوی کر دی ہے اور اب امکان یہ ہے کہ اس فائل کو دوبارہ امریکی سینیٹ اور کانگرس کے مڈٹرم انتخابات تک ملتوی رکھا جائے گا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’ڈیل آف سینچری‘‘ اس معاہدے کا نام ہے … جسے امریکہ نے اسرائیل کے دبائو پر مسئلہ فلسطین حل کرنے کے لئے ترتیب دیا ہے‘ جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی قیادت کو پیشکش کی ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دینے کے اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں اور بیت المقدس کی جگہ ابو دیسی نامی بستی کو متبادل دارالحکومت کے طور پر قبول کرلیں… اس کے بدلے امریکہ نئے فلسطینی دارالحکومت کی تعمیر کے تمام اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کو پرکشش مالی امداد بھی فراہم کرے گا‘ فلسطینی قیادت نے اس امریکی پیشکش کو مکمل طور پر مسترد کرکے امت مسلمہ کی لاج رکھ لی … جب فلسطینی قیادت نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کیا تو امریکہ نے ایک دفعہ پھر اپنا منافقانہ پینترا بدلتے ہوئے سعودی عرب‘ اردن اور مصر کو اس خوفناک منصوبے کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوشش کی ‘ امریکی صدر سے لے کر ان کے مشیروں اور وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ان پر دبائو ڈالا کہ وہ فلسطین کی قیادت کو ’’ڈیل آف دی سینچری‘‘ کے نام سے امریکی معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کریں۔ اس دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جب امریکہ کے دورے پر تھے تو ان کی طرف سے امریکی میڈیا نے بعض ایسے الفاظ منسوب کیے کہ جن سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے سعودی عرب فلسطین کے حوالے سے اپنے روایتی موقف سے ہٹ گیا ہو؟ عین اسی وقت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کا یہ بیان منظر عام پر آیا تھا کہ سعودی عرب فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں اپنے روایتی موقف پر نہایت ثابت قدمی سے کھڑا ہے …6دسمبر2017 ء کو امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کا حکم بھی دیا تھا اور پھر14 مئی کو اسرائیل کی70 ویں سالگرہ کے موقع پر امریکہ نے اسرائیلی دارالحکومت تل ایب سے بیت المقدس منتقل کرلیا تھا جس کے خلاف صرف فلسطین میں ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں سخت غم و غصے کی لہر دو ڑ تھی گئی۔

ایران اور سعودی عرب کی آپس کی ’’محبت‘‘ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے … ایرانی میڈیا نے اس پروپیگنڈے کو خوب عام کیا کہ امریکہ جو کچھ کررہا ہے اس میں سعودی عرب کی رضامندی بھی شامل ہے … لیکن رپورٹ کے مطابق ریاض کے انتہائی سینئر سفارت کار کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ سعودی بادشاہ نہ صرف امریکہ کی اس پیشکش کو مسترد کرچکے ہیں … بلکہ ولی عہد کو بھی اس حوالے سے کھلی ہدایات کرچکے ہیں کہ وہ امریکہ کے بیت المقدس سے متعلق کسی فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ سعودی حکومت کے حامی جریدے آن لائن کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے ٹیلی فونک رابطہ کرکے امریکی حکام کو آگاہ کر دیاہے کہ وہ اسرائیل کے حق میں مقبوضہ بیت المقدس سے دستبردار کے لئے کسی قیمت پر تیار نہیں ہیں … امریکہ اگر مسئلہ فلسطین کے حقیقی حل کا خواہاں ہے تو اسے فلسطینی مہاجرین کی بحالی کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدام کرکے مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت بنانے کی ضمانت دینی ہوگی‘ بصورت دیگر سعودی عرب اس معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کے اس جاندار موقف کے بعد سارے عالم اسلام کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل اور فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیلی مظالم سے بچانے کی خاطر کسی مضبوط ایجنڈے پر مل بیٹھیں۔ اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو نت نئے انداز میں فلسطینی مسلمانوں پر مظالم کروا رہا ہے … صیہونی فورسز آئے روز بے گناہ فلسطینیوں پر گولیاں برساکر ان کا قتل عام کررہی ہیں … ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ فلسطین کی مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں پر بھی صیہونی فوج بے گناہ مظالم ڈھا رہی ہے ‘ احمد تمیمی نام کی فلسطین کی ایک بہادر بیٹی کہ جو آٹھ ماہ تک اسرائیل کی قید میں رہی … اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے جارحیت کرنے والے اسرائیلی بدمعاش فوجی کو تھپڑ مارا تھا۔ عفت مآب احد تمیمی نے اپنی رہائی کے بعد اسرائیلی مظالم کی جو خوفناک داستان سنائی ہے … وہ انتہائی درد ناک بھی ہے اور عبرتناک بھی … اللہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بیت المقدس پر ہر قسم کی سودے بازی کو مسترد کرکے قبلہ اول سے وفاداری کا ثبوت دیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved