اپوزیشن کا احتجاجی مظاہرہ
  10  اگست‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اسلام آباد میں انتخابات کے خلاف اپوزیشن کا شو! ن لیگ کے صدر شہبازشریف ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، اے این پی کے صدر اسفندیار ولی، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، آصف زرداری غائب! عمران خان کا پنجاب ہاؤس میں رہنے کا فیصلہ، تنقید شروع!’’پنجاب ہاؤس وزیراعظم ہاؤس سے بھی زیادہ شاندار ہے!‘‘، ایک رپورٹ O...ایک وزیراعلیٰ کی نامزدگی ، دوسرا متوقع، دونوں کے خلاف کیس نکل آئے!O...ایرانی صدر کے فون پر عمران خان نے ایران کے دورے کی دعوت قبول کرلی O...آصف زرداری کے سوس اکاؤنٹس واپس نہیں آسکتے، کیس ختم O...سندھ میں آصف زرداری کی دوبہنوں ، تین رشتہ داروں کی پسند کے مطابق اہم وزارتیں مختص O...ایف اے ٹی ایف کا وفد آرہاہےO...ٹریفک وارڈن نے ایک موٹرسائیکل پر سوار تین پولیس اہلکاروں کے چالان کر دیئے O...بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید چھ حریت پسندشہید کردیئے O...نشتر ہسپتال ملتان کے ایم ایس نے 650غیر قانونی بھرتیاں کیں، تمام برطرف O...پی آئی اے: پیرس میں طیارہ کا اے سی بند، لاہور میں ٹائر پھٹ گیا O...کولمبیا نے فلسطین کو آزادریاست تسلیم کرلیا۔ ٭بعض اوقات اہم خبروں کا اتوار بازار لگ جاتا ہے۔ کسی خاص ترتیب کے بغیر پڑھئے: اسلام آباد میں پاکستان الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کے پہلے احتجاجی شو کا ”دلگداز “ منظر نامہ! بڑی پارٹیوں کے سربراہ غائب! ن لیگ کے شہباز شریف کا عُذر ! موسم خراب ہے، نہیں آسکتا۔لاہور اوراسلام آباد کے درمیان دونوں بڑی سڑکیں کھلی رہیں۔ ہزاروں مسافروں کی آمد ورفت! جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور اے این پی کے صدر اسفند یارولی نہ آئے نہ کوئی بہانہ پیش کیا۔ آصف زرداری کا کوئی بیان نہیںآیا۔بلاول اسلام آباد میں تھے، شرکت نہیں کی۔ محمود اچکزئی نے مختصر تقریر کی اور چلے گئے! باقی رہ گئے مولانا فضل الرحمان اور راجہ ظفر الحق۔ تفصیل اخبارات میں پڑھ لیں ! قارئین خود تبصرہ کرلیں۔ ٭ایران کے صدر حسن روحانی نے عمران خان کو فون کیا۔ ایر ان کے دورہ کی دعوت دی۔ عمران خان نے قبول کرلی۔ وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد پہلادورہ ایران کا کریں گے! ایران نے 1947 میں سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا،1965کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے جنگی طیاروں کے لیے اپنے اڈے پیش کردیئے۔ پاکستان کا سب سے پہلا دورہ شہنشاہ ایران رضا پہلوی نے کیا۔ ایک عرصے کے بعد پاکستان کے بارے میں ایران کا رویہ بدل گیا۔ پاکستان کا سفار ت خانہ جلا دیا گیا۔ ایران نے شام ، یمن اور لبنان کی لڑائیوں میں فوج بھیج رکھی ہے۔پاکستان کے مقابلہ میں بھارت کے ساتھ زیادہ غیر معمولی قریبی تعلقات بنالیے ہیں۔ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ترکی نے اس دھمکی کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا ہے۔ امریکہ کے باج گزار ہونے کے باعث ہم ایسا نہیں کر سکے۔ ٭لاہور کے مضافاتی گاؤں پھلروان میں ایک گروہ نے مخالف فریق کے پانچ افراد قتل کردیئے، متاثرہ فریق نے قاتلوں کے سات گھر جلادیئے۔ پانچ جنازے قبرستان پہنچے تو مخالف گروہ نے شدید ہوائی فائرنگ کردی۔ان تمام واقعات میں پولیس پانچ افراد کے قتل کے بہت دیر بعدپہنچی۔ اس کے سامنے سات گھر جلتے رہے، جنازوں پر فائرنگ ہو تی رہی،48 گھنٹے کے باوجود کوئی گرفتاری نہیںکی۔ مکانات جلنے کو ، جنازوں پر فائرنگ خاموشی سے دیکھتی رہی۔ فائرنگ والے افراد اس کے سامنے بھاگ گئے! پہلے بھی اسی گاؤں میں انہی لوگوں کے چارافراد قتل ہو چکے ہیں۔ پولیس نے مزید کسی کارروائی کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ واقعات کے بعد ڈی آئی جی پولیس کئی گھنٹے بعد پہنچا! کیا تبصرہ کروں؟ ٭سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا شاہانہ راج! ایک خبر: وزیراعلیٰ ہاؤس کے آٹھ سپرنٹنڈنٹ،35اسسٹنٹ، 15 سینئر کلرک، 13 جونیئر کلرک دوسرے محکموں کو واپس کر دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ان کا کوئی کام نہیں تھا۔ یہ 71 ملازمین بنتے ہیں۔ لاکھوں روپے ماہوار تنخواہ! اس پر بھی قارئین خود تبصرہ کر لیں۔ ٭بے نظیر انکم سپورٹ فنڈز میں 33ارب روپے کے گھپلے کاانکشاف! یہ فنڈز وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کی آرائش کے علاوہ اس ادارے کے ”بڑوں“ کی تجوریوں میں چلے گئے۔ آصف زرداری کے دور میں ایک خاتون ان فنڈز کے سیاہ و سفیدکی مختار کل بنی رہی۔کسی کوپوچھ گچھ کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ 33ارب کی کرپشن! استغفار! اس ملک کو کس طرح ظالمانہ طورپر دونوں ہاتھوں سے لوٹاگیا!

٭ایک شائع شدہ رپورٹ کے مطابق عمران خان جس پنجاب ہاؤس میں رہنا چاہتے ہیں، وہ اپنی آرائش و زیبائش اور خوبصورت محل وقوع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس سے کہیں خود خوبصورت اور شاندارہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے وزیراعظم ہاؤس کے بارے میں کچھ تفصیل: وزیراعظم ہاؤس 135 ایکڑ (1080 کنال )کے وسیع رقبہ پر واقع بہت بڑا محل ہے۔ اس میں وزیراعظم کی اعلیٖ رہائش گاہ کے علاوہ پانچ وسیع و عریض پھولوں کے باغیچے ، ایک پھلوں کا باغ، چند سومنگ پول، ایک بڑا تقریباتی ہال، میڈیا سٹاف کے گھر، بڑاکمیٹی روم، پروٹوکول افسروں کے50 دفاتر،300 ملازمین کی رہائش گاہیں۔ ان ملازمین کی سالانہ تنخواہیں70کروڑ روپے اور محل کے اخراجات 28 کروڑ روپے( کل 98 کروڑ روپے) ویسے ایوان صدر کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ اس میں کچھ جنگل بھی شامل ہیں۔اب پنجاب ہاؤس کے بارے میں کچھ باتیں۔ چیف جسٹس ہاؤس کے سامنے ایک بلند پہاڑی پر یہ شاہی محل نما عمارت سابق وزیراعلیٰ میاں منظوروٹو نے کروڑوں روپے خرچ کرکے بنوائی تھی۔موصوف نے اپنی رہائش کے لیے ایوان صدر اوروزیراعظم کی وی وی آئی پی خواب گاہوں سے بھی زیادہ وسیع عالی شان انیکسی بنوائی۔ اسے وزیراعلیٰ ”سوئٹ“ کا نام دیا۔ (شائد خیال ہوگا کہ ہمیشہ اقتدار میں رہنا ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد وزیراعلیٰ کے عہدہ سے فارغ ہو گئے)۔ اسی عمارت میں گورنر پنجاب کی ایک انیکسی بھی ہے جووزیراعلیٰ کی انیکسی کے مقابلہ میں بہت سادہ ہے (بے چارا معصوم بے اختیار گورنر!) عمار ت میں ایک اور انیکسی میں کانفرنس ہال ہے۔ پنجاب ہاؤس کی تین منزلیں ہیں۔ سب سے اوپر والی منزل میں شاہانہ قسم کا وزیراعلیٰ کا ماسٹر بیڈ روم10ہزار مربع فٹ میں پھیلا ہواہے۔ (بنی گالہ کے ماسٹر بیڈروم سے کئی گنا بڑا)۔ یہ ماسٹر بیڈ بلکہ پوری عمارت وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کی آرائش و زیبائش کے مقابلہ میں کہیں زیادہ پرشکوہ اور عالی شان ہے۔ سنٹرل ایئرکنڈیشنڈ اس عمارت میں وزیراعلیٰ کے سوئٹ (رہائش گاہ) کے علاوہ چھ ایگزیکٹو سوئٹ ہیں۔ وزیراعلیٰ کے سوئٹ کے ساتھ بڑا ڈرائنگ روم ، باورچی خانہ، شاندارغسل خانہ بھی ہے۔ داخل ہوتے ہی بڑے ہال میں بہت بڑا فانوس لگا ہواہے( ایسا ایک فانوس ابو ظہبی کے شاہی ملکیت والے انٹر کانٹی نیٹل میں بھی ہےیہ مین گیٹ سے اندر نہیں جا سکتا تھا اسے لگانے کے لیے چھت توڑنی پڑی تھی)۔ اس ہال میں اتنابڑا قالین ہے جو شائد کسی اورسرکاری عمارت میں نہیں۔ اس عمارت کے لیے ملک کے بہترین ڈیزائنروں کا تیار کردہ اعلیٰ اور نادر قسم کاکروڑوں کا فرنیچر بنوایاگیا۔ منظوروٹو تو اس میں زیادہ قیام نہ کرسکے مگر میاں نوازشریف اکثر اسے استعمال کرتے رہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ عظیم الشان عمارت چاروں طر ف سے کھلی ہے۔ اس کی سکیورٹی اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ اس عمارت میں100ملازمین کام کرتے ہیں۔ قارئین کرام! آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ بہت ”سادہ“ سی عمارت ہے جس میں نئے وزیراعظم نے ہفتہ میں پانچ دن قیام کرنا ہے، باقی دو دن وہ بنی گالہ میں رہا کریں گے۔ ٭آصف زرداری کے سوئس اکاؤنٹس کو پاکستان نہیں لایا جا سکتا۔ ان اکاؤنٹس میں جمع تقریباًآٹھ ارب روپے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے ہیں ۔ نیب کے مطابق ماضی میں سوئس حکومت کے ایک کیس کے فیصلے کے بعد تین ماہ کے اندر نظرثانی کی اپیل ضروری تھی جوپاکستان کی حکومت نے نہیں کی۔ اس کی وجہ آسان تھی کہ ان دنوں پاکستان کے صدر خود آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھے۔ ان کے وکیل چودھری اعترازاحسن نے سپریم کورٹ کے باربار احکام کے باوجود وزیراعظم یوسف رضا کو خط نہ لکھنے دیا۔ سپریم کورٹ نے حکم عدولی پر وزیراعظم کو تابرخاست عدالت قید کی سزا کے ساتھ اس عہدہ سے فارغ کردیا۔ ایک وزیراعظم اپنے صدر کے لیے قربان ہوگیا مگر آصف زرداری کے آٹھ ارب روپےاورایک نہایت قیمتی جڑاؤ ہار بچ گیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved