تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرتے توقانون کی حکمرانی ختم ہو جاتی ،وزیر اعظم


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسائل میں الجھے ہوئے پاکستان کی چین اور سعودی عرب نے مدد کی ہے اور پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا،سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے اور حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کا ساتھ نہ دیتے توملک نہ رہتا، عدالتی فیصلوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،فیصلے پر عمل نہ کرتے توقانون کی حکمرانی ختم ہو جاتی ، ہم وسائل نہیں احساس کی کمی کاشکار ہیں، غربت ختم کرنے کیلئے پیکیج لائیں گے، بدعنوانی روکنے کیلئے اقدامات کریں گے اور پاکستان کو دنیا کیلئے مثال بنائیں گے، بے گھروں کیلئے لاہور میں 5پناہ گاہیں بنائی جائیگی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں 5شیلٹر ہوم بنانے کے منصوبے کے تحت پہلے شیلٹر ہوم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر اس کا ساتھ دینے اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کا عندیہ دیا ہے جوکہ اچھی بات ہے گزشتہ روز مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے بھی قوم کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی نظرثانی کے بغیر آسیہ مسیح کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا تو کچھ نہیں پتہ پاکستان میں کتنابڑا طوفان اٹھے گا۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے کہ سپریم کورٹ کی آسیہ کے حوالے سے دیئے گئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کیساتھ کھڑی ہے،اس پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگاقانون کی حکمرانی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے سے ممکن ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل نہ کیا جائے توقانون کی حکمرانی ختم ہو جائے گی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل نہیں ہوگا توریاست نہیں چل سکتی،سپریم کورٹ کے فیصلوں پرمکمل عمل درآمد ہوگا۔ ان باتوں سے اختلاف رائے ممکن نہیں لیکن جہاں اشتباہ پیدا ہوجائے اور سارا ملک بدامنی کا شکار ہوجائے اور معاشرے کے مختلف طبقات میں تشویش پیدا ہوجائے وہاں اس کے تدارک کیلئے اقدامات بھی ضروری ہیں ۔
نظرثانی کا قانون یہ ہے کہ اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کس حد تک صحیح ہے کس حد تک غلط ہے، کہاں ان سے غلطی ہوئی ہے، کہاں انہوں نے صحیح کہا ہے؟ سپریم کورٹ ہی سے کہا جائے کہ وہ اس پر نظرثانی کرے؟ اس مقصد کیلئے لارجر بنچ قائم کیا جائے۔ اگر سبھی مل کر اس پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جرم کے ثبوت میں شبہات ہیں اور جرم پوری طرح ثابت نہیں ہوا تو اس کو رہا کرنا ہو گا، یہ بھی شریعت کا قانون ہے پھر شریعت کے قانون کو سر آنکھوں پر تسلیم کرنا ہو گا۔
ہماری رائے میں موجودہ حالات میں یہ از بس ضروری ہے کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کیلئے رجوع کرے اور سپریم کورٹ لارجر بنچ تشکیل دے کر اس کیس کی دوبارہ سماعت کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرکے اس اپیل پر فیصلہ آنے تک بری کی جانے والی ملزمہ کو ملک میں ہی رکھا جائے ۔ ہماری رائے میں عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنائیںگے۔کتنا بے رحم ہے وہ معاشرہ جہاں لوگ کھلے آسمان تکے بے آسرا رات گزاریں اور حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزاریں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ملک کو مدینہ طرز کی ریاست بنانا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی قوانین کا ملک میں عملی نفاذ کیا جائے اور سب کو اسلامی قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے دی جائے اور کسی کو خلاف قانون اقدامات پر سزا سے نہ بچنے دیا جائے شرعی نظام انصاف کو اپنا یا جائے اور مقدمات کا کم سے کم مدت میںفیصلہ کیا جائے تاکہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے ۔ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے اور اب ملک بحران سے نکل گیا ہے جبکہ ملک میںوسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ نہیں احساس کی کمی ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved