تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

احتساب مزید تیز ہوگا، حکومت کہیں نہیں جارہی: وزیراطلاعات


وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن انکشافات سے متعلق اپنا ویڈیوپیغام موخر کردیا ہے یہ پیغام اتوارکو جاری ہوناتھا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت باہر جاکر بھیک مانگ رہی ہے، تو ایسا کرتے ہیں پاکستان کا جو 84 فیصد قرضہ پی پی پی اور ن لیگ نے لیا ہے، وہ ان دونوں خاندانوں سے نکلوالیتے ہیں، ملک کے قرضے کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور ہمیں باہر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، ان کے پاس بہت پیسے ہیں جو پاکستان کے عوام کے ہیں، دیگر جگہوں پر پیسہ نکلوالنے کے جو طریقے آزمائے گئے ہیں، بدقسمتی سے یہاں نہیں کر سکتے، اس لیے دیر لگ رہی ہے۔
لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ڈی جی نیب لاہور نے جیسے ہی شہباز شریف کو گرفتارکیا تو کہا گیا کہ ان کی ڈگری جعلی ہے، اگر ڈگری جعلی تھی تو سابق حکومت نے کیوں کارروائی نہیں کی۔ان کا یہ موقف درست ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نوازشریف سمیت جن لوگوں نے جو قرضے لے رکھے ہیں اگر وہی واپس کردیں تو اس سے بھی ملک کو بیرونی ممالک اور مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ ہماری رائے میں کچھ عرصہ قبل بنکوں سے بھاری قرضے لے کر معاف کرانے والوں کیخلاف اقدامات کا عندیہ دیا گیا تھا اس وقت یہ امید ہوچلی تھی کہ اگر ان معاف کرائے گئے قرضوں کی خطیر رقم جوکہ ڈوبی ہوئی رقم ہے واپس مل جاتی ہے تو اس سے بھی ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملے گی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہوجائے گا۔ امر واقع یہ ہے کہ عام آدمی کی دو چار لاکھ قرضے کی عدم ادائیگی پر اسکی ساری جائیداد قرق کرکے نیلام کردی جاتی ہے یا پھر بنکوں اور دیگر اداروں سے بھاری شرح سود پر قرضہ لینے والا ساری زندگی اس کا سود ہی ادا کرتا رہتا ہے لیکن بڑے کاروباری اداروں اور سیاسی و کاروباری شخصیات کو آنکھیں بند کرکے کروڑوں اربوں کے قرضے دے دئیے جاتے ہیں جن کی سو فیصد عدم واپسی کایقین ہوتا ہے لیکن ملی بھگت سے ایسا کیا جاتا ہے۔ حکومت کیخلاف جاری سازشوں کے ضمن میں وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ اب ہم ہائبرڈ اور آٹومیٹک ہوگئے ہیں حکومت کہیں نہیں جارہی کرپشن پر نرمی دکھائی تو ووٹر سے غداری ہوگی آئندہ دنوں میں احتساب کا عمل مزیدتیز ہوگاجیسے ہی شہباز شریف کو گرفتارکیاگیاتو ڈی جی نیب لاہورکی ڈگری جعلی ہوگئی یہ تو دل گردے کی بات ہے کہ نیب کے افسران اس کارخیر میں حصہ ڈال رہے ہیں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے پیپلزپارٹی کوخود بھی پتہ نہیں کہ خورشیدشاہ کس کس کے ساتھ ہیں۔ ایک فیصلے کے نتیجے میں ملک میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات پر ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ مذہب کے نام پرسیاست کررہے ہیںیہ لوگ مذہب کالبادہ اوڑھ کربحران پیداکررہے ہیںنظریات کی جنگ بندوق سے نہیں دلیل سے جیتی جا سکتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بار بار ایسے بیانئے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عوام اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کے کہنے پر اپنی املاک کا نقصان آئندہ نہیں ہونے دینگے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت پاکستان میں سیاسی نہیں بلکہ فکری بحران ہے مذہبی قیادت کو چاہئے کہ وہ ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے کندھے سے کندھا ملا کر چلے ۔یہ لڑائی نظریات کی لڑائی ہے جو دلیل سے جیتی جاتی ہے‘ یہ تلخ حقیقت ہے دلیل کی بنیاد پر بات کرنے والے علماء کو شہید کیا گیا، صوفیا کرام کے عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے، ماضی میں ریاست نے اس سب کو تماشائی بن کر دیکھا، لیکن اب ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ ریاست لمبے عرصے تک غیر روایتی جنگ میں شریک رہی ہے۔ ہماری رائے میں آسیہ کیس ہو یاتوہین آمیز خاکے، ہمارے دینی اکابرین کو اس نظریاتی جنگ میں اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔نظریات کی لڑائی کو ان ہاتھوں میں جانے سے رکنا چاہئے جوکہ ہمارےدین کی خدمت نہیں کررہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست جب تک تمام مسالک کو برابری کا ماحول نہ دے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ملک کی اسی فیصد غریب آبادی دیہات میں
بستی ہے:عالمی بینک کی چشم کشا رپورٹ
عالمی بینک کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی 80 فیصد غریب آبادی دیہات میں بستی ہے،دیہات آج بھی حقیقی خوشحالی کے منتظر ہیں۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں باقی ملک کے مقابلے میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کی باسٹھ فیصد دیہی آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے البتہ صوبہ سندھ میں شہری اور دیہی علاقوں میں غربت کی شرح کا فرق باقی صوبوں کے مقابلے میں تیس فیصدزیادہ ہے جبکہ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں دیہی اور شہری علاقوں کے فرق کی شرح بالترتیب تیرہ اور پندرہ فیصد ہے۔اسی طرح شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہات میں غربت کی شرح دوگنی ہے جو اٹھارہ کے مقابلے میں چھتیس فیصد بنتی ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کرپشن ،اقربا پروری ،غربت ، جہالت ،بیروزگاری معاشی عدم مساوات اور ترقیاتی فنڈز کا استعمال نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے اسی وجہ سے یہ ساری خرابیاں عوام کا مقدر بنی ہوئی ہیں۔ صرف پنجاب میںہی سوفیصد ترقیاتی بجٹ استعمال ہوتا رہاہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں اس کا ایک بڑا حصہ استعمال ہوئے بغیر واپس خزانے میں جارہا ہے ۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں ترقیاتی کام خال خال ہی دیکھنے کوملتے ہیں اور بعض پسماندہ دیہی علاقوںمیں تعلیم اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ زیادہ تر اسپتال دور دراز علاقوں میں واقع ہیں اس وجہ سے دیہی خواتین کو علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات کے حصول کے لئے ایک لمبی جدوجہد، محنت اور تک و دو کرنا پڑی ہے۔دیہی خواتین کے لئے اسپتالوں تک رسائی بھی باآسانی ممکن نہیں ۔صرف پندرہ فیصد دیہی علاقوں کو بجلی میسر ہے جبکہ قدرتی گیس بھی سو فیصد لوگوں کو دستیاب نہیں بلکہ تریسٹھ فیصد آبادی ہی قدرتی گیس کی سہولت سے فائدہ اٹھا پاتی ہے۔ ہماری رائے میں جس ملک میں بلوچستان کے ایک سیکرٹری اور سندھ میں ایک سابق وزیر کے گھر سے کروڑوں اربوں کی لوٹ مار کی رقم نکلے اور اسے نوٹ گننے کی جدید مشینیں گنتے گنتے عاجز آ جائیں وہاں عالمی ادارے کی رپورٹ سو فیصد سچ معلوم ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بدعنوانی سےملک کو پاک کرکے ہی ان دیرینہ مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم اور پالیسی ساز اداروں کو اس رپورٹ کی روشنی میں اپنی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی اور اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرنا ہوگا ۔سارا ملک ہی غربت کا شکار ہے اور عام آدمی تو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزاررہا ہے ۔
منی لانڈرنگ: 10ممالک سے
700 ارب کی تفصیلات مل گئیں
منی لانڈرنگ کے حوالے سے 10 ممالک سے 700 ارب کی تفصیلات مل گئیں، صرف دبئی میں گزشتہ 10سا ل میں پاکستانیوں کی جانب سے 15ارب ڈالر کی جائیداد بنائی گئی۔ جعلی اکاونٹس کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عدالتی حکم ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے میڈیا پر بات نہ کی جائے۔مشیر احتساب
گزشتہ روزمشیراحتساب شہزاد اکبراور سینیٹرفیصل جاوید اور افتخار درانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ اہم انکشاف کیا کہ حکومت کو باضابطہ طور پر منی لانڈرنگ کے حوالے سے دس مختلف ممالک سے سات سو ارب کی تفصیلات مل گئیں، صرف دبئی میں گزشتہ ایک دہائی میں پاکستانیوں کی جانب سے پندرہ ارب ڈالر کی جائیداد بنائی گئی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں جوکہ مبینہ طور پر لوٹ مار کی کمائی سے بنائی گئی ہیں اب کے بارے میں انکشافات اس ا مر کی طرف واضح اشارہ ہیں کہ کس طرح پچھلے دس سال میں ملک کو انتہائی بے دردی سے لوٹا گیا ہے اور اس میں ملوث بااثر یہ لوگ اقامہ لے کر تحقیقات کے دائرے سے باہر ہوجاتے ہیںاسی لئے جب سے جدید طریقے سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے اور حکومت کی طرف سے ادارے متحرک ہوئے ہیں ،مشیر احتساب کے بقول شہباز شریف، خورشید شاہ اور مولانا فضل الرحمان کے چہروں پر گھبراہٹ ہے۔ منی لانڈرنگ کے دوران پانچ ہزار سے زائد جعلی اکاونٹس ملے جو عام شہریوں کے نام ہیںان کے ذریعے پاکستان سے باہر منی لانڈرنگ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ۔ ہم اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ سب سے مشکل درپیش اقامہ کی ہے جس میںلوگ اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں، اگر کسی نے اپنے مالی ڈرائیور کے نام پر جائیداد بنا رکھی ہے، جب اس شخص کے پیچھے جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت بڑے شخص کا ڈرائیور ہے۔ہماری رائے میں یہ انکشافات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اب ایسے عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے موثر اقدات اٹھائے جائیں تاکہ اگر واقعی یہ دولت مبینہ لوٹ مار کی کمائی سے جمع کی گئی ہے اور ایسے لوگوں کے ذرائع آمدن جائز نہیں ہیں تو انہیں سخت پوچھ گچھ کے عمل سے گزارا جائے ۔دوسری طرف منی لانڈرنگ اور جعلی اکائونٹس کے ضمن میں ہی جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لئے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے جبکہ انور مجید کے بیٹے گرفتاری کاسنتے ہی بیمار پڑ گئے ۔ ہماری رائے میں اب یہ امید ہوچلی ہے کہ جن لوگوں کے مالی معاملات مشکوک تھے یا درست نہیں تھے اب انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا اور سچ اگلنا ہوگا ۔ منی لانڈرنگ کیس میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حکومت سندھ سے مختلف محکموں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کے الزام میں ملوث متحدہ قومی موومنٹ کے 726 رہنمائوں اور کارکنوں کو طلبی کے نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ پچھلے چھ سال میں صوبہ سندھ سے مختلف ترقیاتی اسکیموں کے پراجیکٹ چارٹر ، مختص بجٹ، جاری کردہ رقوم، ریوائز اسکیم کی معلومات اور اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ہماری رائے میں اگر ہمارے ادارے درست تحقیقات کریں اور عدالتیں انکی روشنی میں جزا سزا کے عمل کو آگے بڑھائیں گی تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک میں مالی امور میں شفافیت کو یقینی نہ بنایا جاسکے ۔ملک کرپشن سے پاک ہوگا تو تب ہی ترقی کرے گا ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved