تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

تعلیم‘ حیا‘ عورتیں اور انسانی حقوق؟


جیسے ہی یہ خبر آئی کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی مشیر تعلیم نے زنانہ سکولوں‘ کالجز اور زنانہ یونیورسٹیز میں مردوں کا داخلہ بند کر دیا ہے اور یہ بھی کہ خواتین کے کھیل میں مرد حضرات نہیں دیکھ پائیں گے تو ایسے لگا کہ جیسے دجالی میڈیا اور سیکولر انتہا پسندوں کی دنیا میں کہرام برپا ہوگیا ہو‘ اس فیصلے کے حوالے سے سیکولر فاشٹ اینکرز اور بعض ا ینکرنیوں نے اپنے پروگراموں میں ایسے ایسے سوالات اٹھائے کہ الامان و الحفیظ‘ وزیروں ‘ مشیروں‘گورنروں‘چیئرمینوںاوردیگر مردوں کا خواتین کے کالجز‘ یونیورسٹیوں اور کھیلوں میں پابندی کے فیصلے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کافروں کی تہذیب و تمدن کو اپنانا ‘ ان کے میڈیا اور ڈالر خور این جی وز کے پھیلائے ہوئے دام فریب میں الجھ کر گلیمر اور رومانس کی دنیا میں کھوکر اپنی حقیقت کو بھی بھلا بیٹھنا کیا یہ انسانی حقوق کے زمرے میں آتاہے؟
شرم و حیاء و صفت ہے کہ جو انسانوں میں پائی جاتی ہے‘ حیوانوں میں نہیں۔ شرم و حیاء کرنا ‘ شرم و حیاء کی دعوت دینا‘ شرم و حیاء کی پابندی کروانے کے لئے حکومتی فیصلے کرنا‘ کیا اسے انسانی حقوق کے مخالف قراردیا جاسکتا ہے؟
مخلوط تعلیم گاہوں میں تعلیم کی آڑ میں پروان چڑھتا ہوا رومانس‘ تعلیم حاصل کرنے کیلئے آنے والی حوازادیوںکے ساتھ بعض پروفیسرز اور پرنسپلز کے شیطانی رویئے‘ قومی اجلاسوں اورسماجی تقریبات میں رقص و سرود کی مخلوط محفلیں کیا یہ سب انسانی حقوق کے عین مطابق ہوتا ہے؟
کوئی ان ڈالر خور این جی اوز کے خرکاروں اور لبرل فاشسٹوں سے پوچھے کہ عورتوں کی یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور کھیلوں میں مردوں کے آنے پر پابندی لگانے سے عورتوں کے کون کون سے انسانی حقوق پامال ہوں گے۔ ذرا اس پر بھی وہ کھل کر روشنی ڈالیں۔
جس میں شرم و حیا کا مادہ نہ ہو وہ توانسانیت کی معراج سے ہی گر جاتا ہے۔ اللہ کے آخری نبیﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’پس حیا ایمان کا جزو ہے‘‘ (مشکوٰۃ) شرم و حیا انسان کے اندر موجود اس صفت کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایسے قبیح اور ناپسندیدہ کام کہ جن کی وجہ سے معاشرے میں فساد بڑھنے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں ‘ یعنی بے حیائی‘ بے غیرتی‘ بے شرمی کی وجہ سے ملک میں نہ صرف فساد پھیلتا ہے بلکہ معاشرہ بے سکونی اور پریشانیوں کا بھی شکار ہو جاتاہے ‘ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بے حیائی‘ بے غیرتی‘ بے شرمی کرنے والے انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بنتے ہیں۔ فحاشی اور عریانی کو پھیلانا بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتاہے‘ انسان جس قدر باحیا ہوگا معاشرے کے لئے اتنا ہی مفید اور مثبت ثابت ہوگا۔
شرم و حیا خیر اور بھلائی کی زمین سے پھوٹتی ہے ‘ جو دل شرم و حیا سے خالی ہوگا‘ وہاں خیر اور بھلائی کا تصور ابھر ہی نہیں سکتا۔باحیا اور غیرت مند ہونا صرف دنیامیں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا زینہ ثابت ہوتاہے۔بھلا وہ بھی کوئی انسان ہے کہ جس میںحیا نہیں؟جب حیاء سے عاری انسان غیر انسانی حرکتوں کا ارتکاب کرتا ہے تو پھر اس کے ’’انسانی حقوق‘‘ کیسے؟ کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والی قوم کی بیٹوں کا یہ ’’حق‘‘ ہے کہ انہیں مکمل باپردہ اور مردوں سے پاک ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
کرکٹ‘ ہاکی یا فٹ بال کھیلنے کی شوقین عورتوں کا یہ حق ہے کہ انہیں مردوں کی ہوس بھری نگاہوں سے پاک اور محفو ظ ماحول میں کھیلنے کے موقع مہیا کیے جائیں ‘ لیکن امریکی پٹاری کے بعض دانش فروش اور این جی او مارکہ اینکرز اور اینکرنیاں مردوں کو عورتوں کی کھیلوں اور یونیورسٹیوں میں گھسا کر نہ جانے انسانی حقوق کے کون سے ضابطے پورے کرنا چاہتی ہیں۔ سچ فرمایا کسی اللہ والے نے کہ بے حیائی انسان سے بصیرت بھی چھین لیتی ہے‘ بے شرمی انسان کو کمینگی کے انتہائی درجے پر پہنچا دیتی ہے‘ امریکی پٹاری کی این جی اوز کے خرکاروں اور لبرل فاشسٹوں کے شور و غوغے کا جائزہ لیا جائے تو یہ ثابت ہوتاہے کہ جیسے ان کے نزدیک عورتوں میں ذہانت کی کمی ہے یا یہ کہ گرلز کالجوں‘ گرلز سکولوں ‘ گرلز یونیورسٹیوں میں منعقدہ تقریبات میں چیف گیسٹ بننے یا بنانے کے قابل عورتیں ہیں ہی نہیں‘ حالانکہ یہ بات غلط ہے آج کی عورتیں اور بچیاں پڑھائی میں مردوں سے زیادہ تیز ہیں۔ ابھی حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے زیراہتمام سالانہ امتحانات میں بی اے پارٹ ون او ر پارٹ ٹو میں چار پوزیشنز اقراء روضتہ الاطفال کی طالبات نے حاصل کیں۔ کراچی یونیورسٹی کے زیراہتمام بی اے (پارٹ ٹو) کے امتحان میں اول پوزیشن حافظہ حفصہ بنت انور علی‘ حافظہ بشائیر بنت مفتی مزمل کاپڑیا اور حافظہ عائشہ الیاس نے مشترکہ طور پر دوسری اور حافظ حفصہ بنت قمر نے تیسری پوزیشن حاصل کرکے ثابت کیا کہ ہماری خواتین اور بیٹیاں تعلیمی میدان میں سب سے آگے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ یہ چاروں بچیاں قرآن پاک کی حافظہ اور قاریہ بھی ہیں‘ میرا یہ موقف ہے کہ بچیوں کی تقریبات میں صرف عورتوں کو ہی شریک ہونا چاہیے یہی معیار کا تقاضا بھی ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved