تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

بھارتی آبی جارحیت اورکالاباغ ڈیم


چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثارانتہائی سنجیدگی سے پاکستان میں پانی کی قلت کے سدباب کیلئے جہاں بھاشااوردیامیرڈیم کی تعمیرکیلئے شب وروزتگ ودوکر رہے ہیں وہاںپانی کی قلت کودورکرنے کیلئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقادبھی ان کی سنجیدگی کامظہر ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میںپانی کی شدید قلت کااب تک کسی بھی حکومت نے اس قدرسنجیدگی نہ دکھاکرمجرمانہ فعل کاارتکاب کیا ہے۔ اس ضمن میں اگرکچھ کام نظرآتاہے تووہ سابق صدر محمدایوب خان کے دورمیں ہواجب تربیلا،وارسک اور منگلاڈیم تعمیرکیے گئے۔اس زمانے میں کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بھی بنایاگیا،اس کی فیزیبلٹی رپورٹ بھی تیارکرلی گئی تھی لیکن عین انہی دنوں میں سیاسی حالات اس قدر خراب ہوگئے جس کی بنا پرجنرل یحییٰ خان نے اسی طرح ایوب خان کورخصت کردیاجس طرح ایوب خان نے سول حکومت پرقبضہ کیاتھا۔یحییٰ خان بھی دوسال کے عنانِ اقتدارمیں اپنی غلط پالیسیوں اورعالمی سازش کاشکارہوکرتاریخی روسیاہی کاشکارہوکربالآخر وطن عزیزکے دولخت ہونے کے بعداقتدارذوالفقارعلی بھٹوکے سپردکرکے باقی عمراپنے گھرمیں شدیدخطرناک بیماری میں مبتلااورتنہائی کاشکاررہنے کے بعداس دنیا سے رخصت ہوگئے،لیکن ذوالفقارعلی بھٹونے بھی کالا باغ ڈیم پرقطعاً کوئی توجہ نہ د ی ۔اس طرح کالاباغ ڈیم کی فائل دیگرفائلوں کے نیچے دب کرگردآلودہوگئی اور اس کے بعدآج تک کالاباغ ڈیم کی تعمیرکاخواب شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکا۔
بعدازاں آنے والے حکمرانوںنے جب اس کی تعمیرکاارادہ ظاہرکیامگربھارت نے اپنے ایجنٹوں کے توسط سے اس کی تعمیررکوانے کیلئے خزانے کے منہ کھول دیئے اور بھارتی ایجنٹوں نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے لی ہوئی رقوم کوحلال کرنے کیلئے کالاباغ کی ڈیم کی اس حدتک مخالفت کی کہ اس کی تعمیرکیلئے لاشوں کے ڈھیرلگانے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ اس کوبم مارکراڑانے کابھی اعلان کردیا۔ان مخالفین میں وہ گروہ بھی شامل تھے جواپنے آپ کوقوم پرست کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے۔عام ذہن یہ سوچتارہا کہ قوم پرستی یہی ہے کہ اپنی قوم کامستقبل بنجربناکردشمن کے ارادوں کاکامیاب بنایاجائے۔بہرحال حکمرانوں نے یہ صوررتحال دیکھ کرکالاباغ ڈیم کاارادہ ترک کردیابلکہ زرداری حکومت نے توباقاعدہ اس منصوبے کومکمل ختم کرنے کااعلان کرتے ہوئے اس پراجیکٹ کوہمیشہ کیلئے داخل دفترکردیاحالانکہ اس وقت کالاباغ ڈیم انتہائی ارزاں اخراجات سے تعمیرکیاجاسکتاتھا کیونکہ اس کے تین اطراف پہاڑوں کی صورت میں قدرتی دیواریں پہلے سے ہی موجودہیں،صرف ایک جانب دیوارتعمیرکرناتھی اورجہاں تک اس ڈیم کے معترضین کااعتراض تھاکہ پنجاب ،سندھ کاپانی لے جائے گاتوپہلی بات تویہ ہے کہ جیسے آجکل ہمارے دریابہہ رہے ہیں اوران میں آنے والااضافی پانی سیلاب کی صورت میں ہماری قیمتی فصلوں اورزمینوں کوتباہ اورگھروں ،محلوں اورڈھور ڈنگروں حتیٰ کہ انسانوں کوبہالیجاتاہے،اس پانی کوکالا باغ ڈیم میں ڈال کرسندھ کی زمینوں، فصلوں، ڈھور ڈنگروں اور سندھی بھائیوں کی جانوں کوسیلاب کے خطرے سے تحفظ مل جائے گا۔
فرض کرلیں اگریہ فاضل پانی پنجاب استعمال کرتاہے توکیاپنجاب پاکستان کاحصہ نہیں اورپنجاب کے مزیدزمینوں کازرخیزہوناسندھ اورپاکستان کے مفادمیں نہیں،کیایہاں پیداہونے والاغلّہ اورفصلیں صرف اہل پنجاب کے حصے میں نہیں آتیں؟ظاہرہے کہ اب تک پنجاب پورے پاکستان کوگندم،چاول اوردیگراجناس فراہم کررہاہے اوراگریہ تمام فصلیں زیادہ ہوں گی توکیاتمام پاکستانیوں کوفائدہ نہ ہوگاکہ خوراک کم قیمت پرملے گی۔اجناس اگربرآمدہوگی توملنے والے زرمبادلہ سے ملکی معاشی حالت مزیدمضبوط ہوگی جس سے پاکستان اورپاکستانیوں کوفائدہ پہنچے گا۔اس میں صوبائیت کوکیوں سامنے لایاجاتاہے اورستم بالائے ستم کہ اب بھارتی ایجنٹوں نے بھاشاڈیم کی بھی مخالفت شروع کردی ہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ یہ مٹھی بھربھارتی ایجنٹ قوم پرستی کے نام پرسندھ کے ناخواندہ یاکم علم عوام کوجھوٹے اوربے بنیادپروپیگنڈہ سے بہلاپھسلاکروطن دشمنی پراکساتے ہیں اور صوبائیت کے نام پرمخالفت پراکساناشروع کردیتے ہیں۔اگرہم ڈیم بناکرپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائیں گے توبھارت کی چیرہ دستیوں سے نہ صرف خودکوبلکہ اپنی آنے والی نسلوں کوبھی محفوظ کرسکتے ہیں لیکن قوم پرستوں کانام استعمال کرتے ہوئے بھارتی ایجنٹ اب ہراس منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے پرتیار بیٹھے ہیں جس سے قوم کے مستقبل کوغیرمحفوظ اورتباہ کرکے اس خطے میں بھارتی بالادستی کویقینی بنایاجاسکے جس کیلئے اب انہوں نے بھاشادیم کی مخالفت بھی شروع کردی ہے۔
خبروں کے مطابق بھارتی ایجنٹوں نے خودکوقوم پرستوں کانام دیکرکالاباغ ڈیم اوربھاشاڈیم کے خلاف احتجاج شروع کرتے ہوئے کراچی میں تین روزہ سوگ ہڑتال کااعلان کیا اوراس کے علاوہ سندھ بھرمیں بھی مظاہروں کااعلان کردیاگیا جبکہ دوسری طرف بھارتی کی آبی جارحیت پرنظرڈالیں کہ ابھی چندروزقبل اس نے پنجاب میں تین دریاؤں میں پیشگی اطلاع دیئے بغیرپانی چھوڑدیاجس سے یہاں سیلاب کی سی صورت پیداہوگئی جبکہ مون سون موسم کے بعدخشک موسم آتا ہے توبھارت ہماراپانی روک کردریاؤں سے اپنے ڈیم بھرنا شروع کردیتاہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے ایک دونہیں بلکہ سینکڑوں کی تعدادمیں ڈیم بنائے ہوئے ہیںاورڈیموں کی تعمیر کیلئے غیرقانونی اقدام سے گریز نہیں کرتااور ہمارے حق پرڈاکہ ڈالتے ہوئے اس نے ہمارے دریاؤں پربھی ڈیم تعمیرکرلئے ہیں جس سے مستقبل میں ہماراپانی بھارت کے کنٹرول میں چلاجائے گا۔ ( جاری ہے )

پھرجب بھی بھارت پانی چھوڑے گا تب یہاں پانی آئے گا،جب وہ پانی روکے گاتوہم پانی کی ایک ایک بوندکوترسیں گے،یہی وجہ ہے کہ بھارتی انتہاء پسندوں نے میڈیاپربرملاکہناشروع کردیاہے کہ وہ دن دورنہیں جب ہم سارے پاکستان کوصحرامیں تبدیل کردیں گے(خدانخواستہ) ان حالات میں پاکستان میں کسی بھی ڈیم کی تعمیرسے اختلاف میں اس امرکاثبوت نہیںکہ یہ اختلاف کرنے والے ایجنٹ ہیںجومستوجب سزاہیں۔ اس ضمن میں عوام کوہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھ لیناچاہئے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہم نے ہزاروں لاکھوں جانوں عصمتوں ،خوابوں اورنسلوں کی قربانیوں کے بعدحاصل ہواہے اور ۲۷ رمضان المبارک کوپاکستان کی تشکیل میں بھی ربّ ِ کریم کی خاص رضامضمرہے۔
پاکستان میں برصغیرکے مسلمانوں کیلئے اللہ کاانعام ہے اوراس خداوندی انعام کی حفاظت ہم سب کو نہ صرف وطن پرستی کے لحاظ سے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے کہ ہم اللہ کے منعم ہیں اوردیئے گئے انعام کی حفاطت ہمارادینی فریضہ ہے،لہنداکم ازکم قومی منصوبوں یعنی ڈیموں کی تعمیرپر کسی اختلاف سے نہ صرف خودبازرہیں بلکہ ان سے اختلاف کرنے والوں کوسمجھائیں ۔ڈیموں کی تعمیرنہ تولسانی مسئلہ ہے نہ ہی صوبائی کیونکہ ڈیم تعمیرہوں گے توپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اورپانی جمع ہوگاتونہ صرف پاکستان بھرکے عوام استعمال کریں گے بلکہ ہمارے جانوراورپالتو ڈھورڈنگربھی پئیں گے۔
اگراس حقیقت سے آگہی ہوجائے اورہمیں پانی کی اہمیت اورقدروقیمت کااحساس ہوجائے توہمارے ناخواندہ سادہ لوح عوام جوملک دشمنوں اوربھارتی جاسوسوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں ،وہ بھی ان کی زبان بندکرنے لگیں گے۔سادہ لوح اورناخواندہ عوام یادرکھیں گے کہ بھارتی جاسوس اورملک دشمنوں کی ایک شناخت ہے کہ وہ ہراس منصوبے کی مخالفت کریں گے جوتعمیروطن کیلئے ہوگاجس سے پاکستانی عوام،اللہ کے نام لیوااوررسول اکرمﷺکاکلمہ پڑھنے والوں کی زندگی کی سہولت مل سکتی ہویاان کامستقبل محفوط ہوسکتاہو۔تمام سندھی،بلوچ،پشتون اورپنجابی بھائی یادرکھیں کہ ڈیموں کی تعمیرسے کوئی محب وطن فرد،گروہ یاجماعت اختلاف نہیں کرسکتی اورجوبھی اختلاف کرے گاوہ اصلاً غدارِ وطن ہی ہوگا۔یہ بات ظاہرہوگئی ہے کہ اگرہم نے ڈیم تعمیرنہ کئے تو2025ء تک پاکستان میں خشک سالی شروع ہوجائے گی۔
ہم نے صرف خشک سالی کانام سناہے،اس کی تباہی وبربادی نہیں دیکھی۔جب زمین بنجرہوجاتی ہے ،ملک قحط کاشکارہوجاتاہے،کھیت کھلیان سوکھ جاتے ہیں،زمین گندم ،چاول اوردیگرغذائی اجناس اگانے سے انکارکردیتی ہے، ملک میں روٹی اوردیگرکھانے کی چیزیں ناپیدہوجاتی ہیں،پینے کیلئے پانی تک میسرنہیں ہوتا،ذراغورکریں ہم موسم گرمامیں تین تین بارغسل لیتے ہیں اوراگرہمیں کئی کئی ماہ بعدغسل لینا پڑے اوراتناپانی بھی نہ ہوکہ ہم اپنامنہ تک دھوسکیںبلکہ تھوڑے سے پانی میں کپڑاترکرکے اس سے چہرہ رگڑکرصاف کیاجائے توہماری کیفیت کیاہوگی؟ جب صومالیہ اورافریقہ کی طرزپربھوک کی حالت میں ہم زمینوں پرگھاس پھونس تلاش کرتے پھریں اورجانورون کی طرح جہاں سے جوبھی کھانے کوملے اسی کوکھاکرآتش ِشکم بجھانے کی ناکام کوشش کریں ،توکیاان حالات میں ہم زندگی گزارناچاہتے ہیں؟
اگرڈیموں کی تعمیرکی مخالفت جاری رہی توانہی حالات سے دوچارہوناپڑے گا(خدانخواستہ)اوریہ چندمٹھی بھربھارتی ایجنٹ قوم پرستوں کی آڑمیں جس طرح ڈیموں کی مخالفت کر رہے ہیں ،اس کاصاف مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں کوئی ڈیم بنناہی نہیں چاہئے اوربنانے کی کوشش کی گئی توقوم پرستی کے نام پرمخالفت شروع ہوجائے گی لیکن قوم پرستی آخرہے کیا ؟ کیاتمام پاکستانی ایک متحدقوم نہیں؟قوم پرستی کی لعنت کوتوہم کئی بارپہلے ہی مستردکرچکے ہیںلیکن یہ چندمٹھی بھرعناصر جوپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایجنڈے پراس کے وظائف پرپلنے والے اپنے مفادات کی خاطرعلاقائی سیاست کاجھنڈااٹھائے شورمچاناشروع کردیتے ہیں ۔قوم پرستی کے سب سے بڑے دعویدارجی ایم سیدتھے جن کی پارٹی کو کبھی بھی کسی بھی انتخابات میںقوم کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی۔جی ایم سیدنے اپنے افکاراورنظریات میں پاکستان دشمنی کااظہارکیاتوانہوں نے اپنی ناکامیوں کاانتقام لینے کیلئے ایک کتاب بعنوان’’اب پاکستان ٹوٹ جاناچاہئے‘‘بھی لکھ دی تھی۔اب جی ایم سیدکابیٹاجلال محمودشاہ سندھ کے قوم پرستوں کی نمائندگی کررہاہے۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینئیر اورسندھ یونائیٹڈپارٹی کے سربراہ جلال محمودشاہ کافرمان ہے کہ :دریائے سندھ پرکالاباغ ڈیم سمیت کوئی بھی ڈیم بناناسندھ کے خلاف سازش ہے۔ڈیم بنانے کے قومی اخوت کے عزائم رکھنے والوں کے خلاف ہرزہ سرائی کیاحب الوطنی قراردی جاسکتی ہے؟
پچھلے دو ماہ کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ذاتی کوششوں سے ڈیم فنڈز میں دو ارب روپے سے کچھ زائدجمع ہوئے ہیں لیکن یہ رقم فی الحال اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے کیونکہ اس منصوبے پرآنے والی لاگت کاتخمینہ چودہ سو ارب ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم ساڑھے چارہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہاں لوگوں میں اس منصوبے کے بارے میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔یہ ڈیم گلگت بلتستان کے ضلع دیامراور ضلع کوہستان میں بنے گا جہاں دریائے سندھ کشمیر کے راستے گلگت بلتستان میں داخل ہوتا ہے۔ڈیم کی جگہ چلاس شہر سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، پچھلی تین دہائیوں سے یہ منصوبہ التوا کا شکار رہا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہاں کے مقامی لوگ اپنی زمینیں اور گھر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے ۔ پچھلے دس سال میں اس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور اس منصوبے پر تعمیراتی کام اگلے سال سے بھرپور انداز میں شروع ہوسکتا ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کا سنگ بنیاد 2006 ء میں جنرل مشرف نے رکھا لیکن کوئی خاص کام نہ ہوسکا، دوسرا سنگ بنیا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2011 ء میں رکھا اس دور میں ڈیم کے لئے مقامی لوگوں سے زمین خریدنے کا سلسلہ شروع ہوا، اس کام میں مبینہ طور پر بڑے گھپلے ہوئے۔ مقامی انتظامیہ پر بھاری رقوم خوردبرد کرنے کے الزام لگے، بعد میں نوازشریف دور میں شکایات کے ازالے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے۔ آج ڈیم کی تعمیر کیلئے زمین حاصل کرنے کا کام تقریباً مکمل ہے۔مقامی لوگوں کو معاوضے کی مد میں پچپن ارب روپے دیئے جا چکے ہیں ۔ بھاشاڈیم کو بنانے کے لئے بارہ ار ب ڈالر چاہئیں۔ اس ڈیم کی تعمیر نہ صرف پانی و بجلی کے حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ تربیلا اور بعد میں بننے والے دیگر ڈیمز کو بھی سہولت فراہم کرے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے چیئر مین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر)مزمل حسین نے کہا کہ چیف جسٹس اور وزیر اعظم فنڈ سے پانچ سو ارب روپے مل جائیں تو ڈیم کی تعمیر بہت آسا ن ہو جائے گی اوربھاشا ڈیم 9 سال میں تعمیر ہوجائے گا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved