تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

نبی اکرم ﷺ بحیثیت رحمۃ لِلعالمین


۱۲ربیع الاول کو برصغیر پاک وہند کے مسلمان نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کے اظہار کے طور پر مناتے ہیں۔ میں یہ عرض کروں گا کہ اگر اس دن نبی اکرمﷺ سے عقیدت اور محبت کے جذبے سے آپ ﷺکی سیرتِ مبارکہ پر گفتگو ہو‘ آپﷺ کی ۲۳سالہ جاں گسل جدوجہد‘جس کے نتیجے میں آپﷺ نے اللہ کے دین کو قائم و غالب کیا‘ کا تذکرہ ہو اور اضافی طور پر آنحضور ﷺ کے مناقب اور فضائل کا بھی ذکر ہو تو یہ اپنی جگہ مفید مقصد ہے۔اور اس کے لیے سال کا کوئی ایک دن مختص نہیںکرنا چاہیے‘ بلکہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کے سامنے بار بار یہ باتیںلائی جائیں‘لہٰذاسال بھر سیرتِ مصطفیﷺ کاتذکرہ ہوتے رہنا چاہیے تاکہ یہ باتیں ہمارے ذہنوں سے محو نہ ہونے پائیں۔
ہم مسلمانوں کا بجاطور پر دعویٰ ہے کہ محمد ٌرسول اللہﷺ نہ صرف تمام انبیاء و رسل کے سردار ہیں‘بلکہ جملہ مخلوقات میں آپﷺ کا مقام و مرتبہ سب سے بلند ہے ۔ممکن ہے کہ یہی دعویٰ یہودی حضرت موسیٰؑ کے بارے میںرکھتے ہوں اور اس کابھی امکان ہے کہ عیسائی یہی مقام حضرت مسیح کو دیتے ہوں‘بلکہ ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کو الوہیت میں شریک کرکے اللہ کے برابر لابٹھایا ہے اور تثلیث کے عقیدے کے ذریعے انہیں توحید اور الوہیت کا ایک جزو بنا دیا ہے۔انہوں نے توحید کو پہلے تین حصوں میں تقسیم کیا اور پھر تینوں کو جوڑ کر کہتے ہیں کہ یہ ایک ہے‘یعنی ’’ایک میں تین اور تین میں ایک‘‘۔ گویا : ع ’’اِک معمہ ہے سمجھنے کا‘ نہ سمجھانے کا!‘‘بہرحال عیسائی اپنے نبی اور رسول سے عقیدت و محبت میں اس حد تک افراط کا شکار ہوئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر الوہیت میں شریک کردیا۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر:
اصل بات یہ ہے کہ مخلوقا ت میں سب سے اونچا مقام کس کو ملا ہے‘ یہ کون بتلائے گا؟ویسے بھی کسی عظیم المرتبت شخصیت کے مقام کا تعین تو وہی ہستی کرسکتی ہے جو خود اس شخصیت کی عظمت و مقام سے پوری طرح باخبر ہو۔کسی اچھے ادیب اور شاعر کے مقام ومرتبہ کاتعین وہی کرسکتا ہے جو خود بلند پایہ ادیب و شاعر‘ بہت بڑا صاحب فن اور بلند پائے کا نقاد ہو۔اب سوال یہ ہے کہ کیا انسانوں میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو نبی اکرمﷺ کے مقام ومرتبہ کا درست تعین کرسکے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ کسی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔یہ بات غالبؔ نے بڑے خوبصورت انداز سے کہی ہے
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ است!
یعنی سرور عالمﷺ کے فضائل و مناقب ہم کیا بیان کریں ‘ یہ چیز ہم نے خود اللہ پر چھوڑدی ہے‘ اس لیے کہ وہی واحد ہستی ہے جو محمد ﷺ کے مرتبے سے کما حقہ واقف ہے۔ چنانچہ اُس ذاتِ پاک نے اپنے کلام پاک میں واضح کیا ہے کہ تمام مخلوقات میں بلند ترین مقام حضرت محمدمصطفی ﷺ کو حاصل ہے۔ آپﷺ کے مناقب اورفضائل کا ذکرقرآن مجید میں جا بجاہوا ہے‘لیکن قرآن کا و ہ مقام جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مخلوقات میں حضرت محمد مصطفیﷺ کو بلند ترین مقام حاصل ہے‘وہ سورۃ الانبیاء کی یہ آیت ہے ’’(اے نبیﷺ !) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر مبعوث فرمایا‘‘۔ ان تمام جہانوں میں یہ عالم بھی آگیا اور وہ عالم بھی‘بلکہ اس کائنات میں موجود تمام عالم آگئے‘نیزجن و انس اور ملائکہ سمیت جملہ مخلوقات بھی آگئیں۔ یہ وہ بلند ترین مقام اور اعلیٰ ترین منصب ہے جو جملہ مخلوقات میں سے کسی اور کو عطا نہیں ہوا۔ چنانچہ شیخ سعدی نے اسی بنیاد پر بڑے خوبصورت انداز سے یہ بات کہی ہے ع ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!‘‘وہ رباعی جس کا یہ مصرع ہے ‘ بڑی پیاری ہے:
یا صاحبَ الجَمَالِ وَیا سَیِّدَ البَشر
مِن وَجْہِکَ المُنیرِ لقد نوّر القَمر
لا یُمکنُ الثّناء کما کان حَقُّہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!
جو ذات خود سراپا رحمت ہے‘اس نے حضرت محمدٌ رسول اللہ ﷺ کو رحمۃٌ للعالمین قرار دیا ہے‘ چنانچہ اسی نسبت سے آج کا موضوع ’’حضور ﷺ بحیثیت رحمۃ للعالمین‘‘ہے۔
اے خاصہ ٔخاصانِ رسل وقت ِدعا ہے!:
غور طلب بات یہ ہے کہ آج محمد ٌرسول اللہﷺ کی رحمت کے مظاہر موجودہ دنیا میںکہیں نظر آرہے ہیں؟ اس ضمن میں اگر کوئی آنحضور ﷺ کی رحمۃٌ للعالمینی پر شک کرے گا ‘تووہ اپنے ایمان کی خیر منائے ۔یہ ہمارا ایمان ہے کہ آپﷺ یقینا رحمۃٌ للعالمین ہیں۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آج مسلمانوں اور پورے عالم کے لیے آپﷺ کی رحمت کس شکل میں جلوہ گر ہورہی ہے؟ اس وقت محمد عربی ﷺ کے نام لیواؤںکوتودہشتگرد‘ اجڈ ‘ گنوار‘جذباتی ‘غیر مہذب‘ انتہا پسند جیسے القابات سے نوازا جارہا ہے۔دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں کہ مسلمانوں کے رویوں کو دیکھ کر لوگوں کواسلام سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ مسلمان جو کچھ کررہے ہیں اس کو دیکھ کر پوری دنیا حیران ہے۔سب سے زیادہ کرپشن مسلمانوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ کے نام لیواؤں کوساری دنیا میں مار پڑرہی ہے‘ظلم وستم کے پہاڑ ان پر توڑے جارہے ہیں‘ذلت و مسکنت ان پر مسلط ہے ۔تو اب کوئی سوال اٹھاسکتا ہے کہ رحمت کہاں ہے؟
حضرت محمد ٌ رسول اللہﷺ تواس عالم کے لیے بھی رحمت ہیں‘لیکن وہ رحمت کہیں نظر آرہی ہے؟مسلمان اس وقت آپس میں دست و گریباں ہیں‘مسلکوں اور فرقوںکے جھگڑوں میں گرفتار ہیں‘قومیتوں کی بنیاد پر منقسم ہیں اور کسی طور پر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔دوسری طرف عالم کفرملت واحدہ کی شکل میں متحد ہورہا ہے۔ایک ہی ویزے پر آپ اسکینڈے نیویا کے تمام ممالک میں جاسکتے ہیں اورکرنسی بھی وہ مشترکہ جاری کررہے ہیں‘جبکہ عالم اسلام میں تقسیم در تقسیم ہے ۔یہ وہ نقشہ ہے جو علامہ اقبال نے پیش کیا تھا:
پیش ما یک عالم فرسودہ است
ملت اندر خاکِ او آسودہ است
یعنی ہمارے سامنے ایک پرانا اور گھسا پٹا عالم ہے اورامت اس کی خاک نشینی ہی میں آسودگی محسوس کر رہی ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو سو‘ڈیڑھ سو سال سے چل رہی ہیں۔مسلمان شعراء اور ان میں سے بھی بالخصوص جو امت کا درد رکھنے والے تھے‘انہوں نے کیسے کیسے مرثیے کہے۔ مولانا حالی آپ کو یاد ہوں گے۔
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ اُبھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے
پھر ان کی وہ نظم جو رلا دینے والی ہے‘اس کے اولین اشعاردیکھئے:
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دُعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے!
( جاری ہے )
اس طویل نظم کا ایک ایک شعر رلادینے والا ہے ‘پھر علامہ اقبال نے جوکہا۔
اے بادِ صبا کملی والے سے جاکہیو پیغام مرا
قبضے سے بے چاری اُمت کے دیں بھی گیا‘ دنیا بھی گئی!
آج مسلمانوں کا یہ حال کیوں ہے‘جبکہ ہم تو محمد عربی ﷺ کے امتی ہیں‘اس پر علامہ اقبال نے ’’شکوہ‘‘ نامی نظم لکھی ۔اس نظم میں علامہ نے مسلمانوں کے جذبات کی بہت خوبصورت ترجمانی اور عکاسی کی ہے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ہمارے تو کارنامے بہت اونچے تھے اوران کارناموں کی وجہ سے دنیا میں ہمارا نام تھا۔اب طویل عرصے سے ہم ذلت و خواری کا شکار ہیں۔یہ نظم ’’بانگ درا‘‘ کے تقریبا ً ساڑھے دس صفحات پر مشتمل ہے‘جس میںعلامہ اقبال شکوہ کرتے کرتے شاعری کے انداز میں کافی سخت باتیں بھی کہہ گئے جس پر علماء نے ان پر گرفت بھی کی‘لیکن ان کے اصل جذبے سے سب واقف تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کوقرآن و سنت کے پیغام کو درست انداز میں سمجھانے کے لیے ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نمائندہ بن کر جواب دیا ہے جس میں ہماری ایک ایک کوتاہی کی نشاندہی کی ہے جس کی ہمیں سزا مل رہی ہے۔’’شکوہ‘‘ میں وہ کہتے ہیں ؎
اے خدا شکوئہ اربابِ وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے!
اسی نظم میں انہوں نے شکوہ کیا ہے
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر!
اس وقت دنیا کا حال یہ ہے کہ یورپی اقوام یعنی عیسائی غالب ہیں اور ان کی اکثریت بنیادی طور پر سیکولر ہوچکی ہے اوروہ کسی دین ومذہب کو نہیں مانتی ۔چونکہ ان کے آبا ء و اَجداد عیسائی تھے لہٰذا وہ بھی عیسائی کہلاتے ہیں‘لیکن حقیقت میں وہ ملحدین ہیں۔ان کا ایمان مادے پر ہے‘کسی برتر ہستی پر ہے ہی نہیں‘اوروہ کسی ہستی کو فاطر فطرت ماننے پر تیار ہی نہیں۔یہی اقوام مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں اورہر اعتبار سے مسلمانوں کااستحصال کررہی ہیں۔دوسری طرف یہ یورپی اقوام پھل پھول رہی ہیں اور دنیا میں ان کوترقی مل رہی ہے۔
اگرچہ علامہ اقبال کی اس نظم کو سو برس ہوگئے‘لیکن آج اگر غور کیا جائے تو مسلمان حقیقت کے اعتبار سے وہیں کھڑے ہیں‘حالانکہ ان کے پاس بیشمار پٹرو ڈالرز آگئے ہیں اور ان میں بیشمار دنیا کے بلینئر کلب کے ممبرز بھی ہیں‘لیکن کیا ان کے لیے عزت نام کی کوئی شے ہے؟ انہیں ساری دنیا میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ان کے اللوں تللوں کے بارے میں کیا رائے رکھی جاتی ہے؟ایٹمی قوت ہوتے ہوئے آج ہم پر جس قدر ذلت و رسوائی مسلط ہے‘کسی اور قوم کا ایسا حال نہیںہے۔اللہ کا وعدہ تھہے کہ غالب تم ہی ہوگے اگر تم واقعی مؤمن ہوئے۔ہمارا غلبہ کہاں ہے؟چنانچہ آج بھی نظم ’’شکوہ‘‘ اسی طرح تازہ ہے جس طرح سے سو سال پہلے تھی۔آج تو ہم اس سے بھی بدتر صورتحال سے دوچار ہیں۔اللہ ربّ العزت نے ہمیں ایٹمی صلاحیت عطا کردی ہے‘اس کے باوجود ہماری حالت میں کوئی بہتری واقع نہیں ہوئی۔
آنحضور ﷺ کی رحمت سے ہم خود انکاری ہیں!
آج دنیا میں آنحضور ﷺ کی رحمت کے کوئی خوشگوار مظاہر کہیںنظر نہیں آرہے ہیں۔ کوئی اللہ پر ایمان کی وجہ سے باطنی طور پر ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہو اور اسے قناعت و صبر کی توفیق ملی ہو تو یہ الگ بات ہے۔لیکن مسلمانوں میں کتنوں کو یہ نصیب ہے ‘سب کو معلوم ہے۔اس سب کے باوجود ہمارا ایمان ہے کہ آپﷺ رحمۃٌ للعالمین ہیں اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اللہ ظالم نہیں ہے۔علامہ اقبال نے تو شکوہ کرتے ہوئے حد ادب سے تجاوز کر کے یہاں تک کہہ دیا تھا ؎
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں‘ تو بھی تو ہرجائی ہے!
اس پرعلماء نے شدید گرفت کی تھی کہ اتنی بڑی جسارت ؟لیکن جن حالات سے مسلمان دوچار تھے اس کا شدتِ جذبات کے ساتھ اظہار ہوا تھا۔اللہ کی سنت میں یقینا کوئی تبدیلی نہیں آئی۔قرآن پاک کا ایک ایک حرف اٹل حقیقت ہے۔میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا —لیکن غور کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حقیقت کھولی کہ مذکورہ آیت کہ ’’ہم نے آپﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے‘‘ سو فیصد درست ہے ‘اصل بات یہ ہے کہ ہم نے خود اس رحمت اور اس کے مظاہر سے منہ پھیر رکھا ہے۔اس رحمت کا فیض ہم تک اس لیے نہیںپہنچتا کہ ہم خود اس کی ضرورت کے انکاری ہیں۔ میں یہ ثابت کرکے بتائوں گا کہ ہم خود انکاری ہیں‘ورنہ ؎
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا!
اور ؎
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیر ی نصرت کو
اترسکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
اس رحمت کے عظیم ترین مظاہر کو ہم نے پائوں تلے روند ا ہوا ہے۔چنانچہ اس کے لیے ایک حدیث مبارکہ سے مجھے بڑی رہنمائی ملی۔حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میرا ہر اُمتی جنت میں داخل ہوگا سوائے اُس کے جو خود انکار کردے‘‘ ۔صحابہ کرامؓ چونک گئے اور پوچھا کہ ایسا بھی کوئی بدبخت ہوگا جو جنت میں داخلے سے انکار کر دے؟آپﷺ نے وضاحت فرمائی کہ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا‘ اورجس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا خود جنت میں داخلے سے انکار کردیا‘‘(صحیح بخاری)۔یہ تلقین کا ایک بہت خوبصورت انداز ہے۔ہم نے تو سمجھ رکھا ہے کہ ایمان کچھ اور شے ہے‘عمل کچھ اور شے ہے ۔تقویٰ اور اطاعت توصرف مولوی کے ذمے ہے‘ عام مسلمانوں کے ذمے تو ہے ہی نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ مولوی خود اس پر کتنے پورے اُتررہے ہیں‘ الا ماشاء اللہ‘یہ ایک دوسرا المیہ ہے۔دراصل رحمت ہمیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے بے چین ہے‘لیکن ہم ہی انکار کررہے ہیں۔لہٰذا ہمارے ساتھ پھر وہی ہونا تھا جوآج ہورہا ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved