تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

دو سابق صدر، چھ وزرائے اعظم، آٹھ وزرائے اعلیٰ کی پیشیاں


٭ایک ایٹمی، اسلامی جمہوریہ ملک کے ’سرپرستوں‘ کی لوٹ مار، چھ سابق وزرائے اعظم، آٹھ سابق وزرائے اعلیٰ، متعدد سابق چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، بے شمار سابق وزراء سمیت 65 افراد کی عدالتوں میں پیشیاں، کچھ جیلوں میں جا چکے ہیں، کچھ جانے والے ہیں ناجائز آمدنی، منی لانڈرنگ، اختیارات کا ناجائز استعمال!O ایم کیو ایم کے 726 افرادکو ایف آئی اے، انسداد دہشت گردی، نیب وغیرہ کے نوٹسO کراچی: ایک مارکیٹ میں 1050 دکانیں اور دوسری تجاوزات مسمارO ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے ایک دوسرے کے خلاف سنگین بدعنوانیوں کے انکشافات، نیب سے رابطہO گورنر پنجاب نے سیاسی سرگرمیاں تسلیم کر لیں۔
٭میں دُنیا بھر کے نقشے میں کسی ایسے ملک کو تلاش کر رہا ہوں جس کی بے شمار اعلیٰ ترین قیادتوں اور بڑے حکمرانوں کے خلاف بدعنوانیوں، ملکی وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار کی ایسی لرزہ خیز داستانیں ملتی ہوں جتنی عالم اسلام کے واحد ایٹمی ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدور، وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ اور بے شمار سابق وزیروں وغیرہ کی سامنے آ چکی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ نوازشریف، شہباز شریف، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن وغیرہ جیلیں بھگت رہے ہیں، کچھ تیاریاں کر رہے ہیں۔ یہاں صرف نیب کے شکنجے میں زیر تفتیش 65 بڑے بڑے ناموں میںچند نام پڑھئے: دو سابق صدر پرویز مشرف اور آصف زرداری، چھ سابق وزرائے اعظم نوازشریف، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی (ضمانت پر)، راجہ پرویز اشرف (12 ریفرنس) شاہد خاقان عباسی، چودھری شجاعت حسین، آٹھ سابق وزرائے اعلیٰ شہباز شریف، امیر مقام، لیاقت جتوئی، اکرم درانی، اسلم رئیسانی، سردار ثناء اللہ زہری، پرویز خٹک (اب وزیر دفاع)، چودھری پرویز الٰہی کے علاوہ موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ۔ دولت اور اختیارات کی بہتی گنگا میں نہانے والوں میں کسی بھی پارٹی (سوائے جماعت اسلامی کے) کا دامن صاف نہیں ، حتیٰ کہ جے یو آئی، اے این پی، بلوچستان نیشنل پارٹی، ف لیگ اور موجودہ حکمران پی ٹی آئی کے بعض لوگ بھی لوٹ مار کے اس دھندے میں ملوث ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1947ء سے 1958ء تک ایوب خان کے مارشل لا تک ملک کے سربراہوں قائداعظم، خواجہ ناظم الدین، غلام محمد اور سکندر مرزا اور وزرائے اعظم لیاقت علی خاں، خواجہ ناظم الدین، چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی، محمد علی بوگرہ، ابراہیم اسماعیل چندریگر اور فیروز خاں نون میں سے کسی ایک شخص کے دامن پر ایک پیسے کی بددیانتی، ملک کو لوٹنے کھسوٹنے کا کوئی الزام کبھی سامنے نہیں آیا۔ یہ مکروہ وبا جنرل ایوب خان کے زمانے سے شروع ہوئی جب اس نے دولت کمانے کی خاطر اپنے دو بیٹوں کو فوج سے نکال کر ایک بڑی صنعت کا والی وارث بنا دیا۔ جن لوگوں کے خلاف اس وقت تحقیقات ہو رہی ہیں، ان کی لوٹ کھسوٹ کی انتہا ہو گئی ہے۔ بلوچستان کے ایک سیکرٹری مشتاق رئیسانی کے گھر سے 67 کروڑ روپے نقد، کوئٹہ اور کراچی میں متعدد بنگلے اور پلاٹ ، سندھ کے ایک وزیر شرجیل میمن کے گھر سے دو ارب روپے نقد پکڑے گئے (دونوں جیل میں ہیں)۔ آصف زرداری نے ایک بار جیل بھگتی ہے، اب پھر تیاری ہے۔ پرویز مشرف فرار ہو کر دبئی میں چھپابیٹھا ہے (اس کے رونے کی داستان چھپ چکی ہے)۔ نیٹو کے دو سو کنٹینروں کو غائب کرنے اور اربوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا مجرم قرار پانے والا بابر غوری ملک سے بھاگ چکا ہے۔ اسحاق ڈار کا بھی یہی حال ہے، جب بھی آئے گا، سیدھا جیل جائے گا! قارئین کرام! ان لوگوں نے ملک کو تو بدحال اور دیوالیہ کر دیا مگر ان کا اپنا حال کیا ہو رہا ہے؟ دربدری، جیلیں، پیشیاں، ذلت اور خواری! بڑے عہدے، دولت کے ڈھیر کس کام آئے! الامان، الامان!
٭اور… اور، ایم کیو ایم کے 726 اہم رہنمائوں اور عہدیداروں کو ایف آئی اے، انسداد دہشت گردی کے ادارے اور نیب کی طرف سے طلبی اور تحقیقات کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔ الزامات وہی، ملک کے وسائل کی اندھا دھند لوٹ مار، بدعنوانیوں اور دہشت گردی وغیرہ! ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی دینے والے بدبخت ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے یہ تنظیم کراچی میں پیپلزپارٹی کا زور توڑنے کے لئے قائم کی تھی۔ اس تنظیم نے کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میںدہشت گردی کی انتہا کر دی۔ بے شمار مخالفین کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔ نہائت اذیت ناک مظالم والے عقوبت خانے قائم کر دیئے ان میں جس انداز سے اذیتیں دی جاتی تھیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے قلم لرز جاتا ہے۔ (میرے بھتیجے اسامہ بخاری کی لاش لاہور آئی تو گھر والوں نے مجھے اس کی حالت دیکھنے سے روک دیا ) ۔ یہ لمبی داستان ہے۔ مگراب کیا حالت ہے؟ اس تنظیم کے چار ٹکڑے پہلے ہو چکے ہیں، بہادر آباد پارٹی، پاک سرزمین پارٹی، نئی عشرت العباد پارٹی، ایم کیو ایم حقیقی اور اب فاروق ستار کی نظریاتی پارٹی! انتہا یہ ہے کہ اس کے رہنمائوں کے ایک دوسرے پر لوٹ مار کے الزامات اس طرح سامنے آ رہے ہیں کہ ایف آئی اے اور نیب وغیرہ کو ان لوگوں کی بدعنوانیوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
٭کراچی ہی کے میئر وسیم اختر کی زیر نگرانی صدر بازار کی مشہور ایمپرس روڈ کی 1050 غیر قانونی دکانیں، تھڑے اور کاروباری مراکز مسمار کر دیئے گئے۔ اب یہاں پارک بنیں گے! مختصر وقت میں اتنی بڑی کارروائی کی کوئی مثال نہیں ملتی مگر سوال یہ ہے کہ یہ سینکڑوں عمارتیں کیا صرف چند روز قبل تعمیر کی گئی تھیں؟ انہیں تعمیر ہوئے برس ہا برس گزر گئے۔ ان میں سینکڑوں خاندانوں کا کاروبار جاری تھا، ہزاروں محنت کش کارکن کام کر رہے تھے یہ سب بے روزگار ہوگئے ہیں۔ سوال کہ یہ عمارتیں کیسے، کس کی اجازت اور غیر قانونی شراکت اور سرپرستی تلے تعمیر ہوئیں؟ انہیں کیوں تعمیر ہونے دیا گیا؟ ان کی غیر قانونی تعمیر میں شریک ذمہ داروں کا کیا احتساب کیا جا رہا ہے؟ اصل مجرم تو محکمہ تعمیرات اور کراچی کارپوریشن اور دوسرے ادارے ہیں جنہو ںنے ان غیر قانونی تعمیرات کو نہیں روکا! اب کم از کم بے روزگار ہونے والے ہزاروں غریب، بے قصور محنت کش ملازمین کی دادرسی کا تو کوئی انتظام کیا جائے!
٭میرا ٹیلی فون ایک عرصہ بند رہا۔ کسی طرح ٹھیک کرایا۔ اب اس کا بِل آیا ہے۔ اسے دیکھیں: ٹیلی فون کالیں 27 روپے 50 پیسے اور لائن رینٹ، وِد ہولڈنگ ٹیکس، سروسز ٹیکس، ویلیو ایڈڈ سروسز ٹیکس وغیرہ 946 روپے! بتایا گیا ہے کہ ٹیلی فون بالکل استعمال نہ کریں تو بھی کم از کم 946 روپے ادا کرنا پڑیں گے! سرکاری لوٹ مار! ویسے موبائل فون کے آنے پر یہ محکمہ ویسے ہی بدحالی کا شکار ہے، عوام کو اس کا فائدہ کیا حاصل رہا ہے؟
٭تھر میں ایک روز میں مزید آٹھ بچے بھوک پیاس اور عدم علاج کے باعث وفات پا گئے۔ اِنا لِلّٰہ و انا الیہ راجعون! اس سال اب تک اس علاقے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس صوبے کا ایک گورنر، ایک وزیراعلیٰ، وزراء کی فوج اور اعلیٰ افسروں کا غولِ بیابانی کروڑوں اربوں کی تنخواہیں لے رہا ہے اور ایک روز میں آٹھ بچے!اِنا لِلّٰہ و اِنا الیہ راجعون۔
٭ پنجاب میں پھر ایک گورنر کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث تلخ فضا پیدا ہو گئی ہے۔ سپیکر چودھری پرویز الٰہی اور ان کے ق لیگ کے ساتھی بشیر چیمہ نے دہائی دی کہ گورنر چودھری محمد سرور ان کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ گورنر صاحب فرما رہے ہیں کہ میں بشیر چیمہ کے حلقے میں نہیں، ان کے ساتھ والے اپنی پارٹی کے امیدوار، وڑائچ، کی حمائت میں کام کرنے گیا تھا! پتہ نہیں گورنر صاحب نے کبھی آئین پڑھا ہے کہ نہیں؟ جس میں گورنر کے فرائض اور حدود واضح طور پر بیان کئے گئے ہیں، ان کے تحت گورنر کو کسی قسم کی سیاست میں حصہ لینے کی قطعاً اجازت نہیں۔ وہ توگورنر ہائوس میں ایک چپڑاسی بھی خود بھرتی نہیں کر سکتا…مگر!! ایسی ہی باتوں پر چودھری سرور صاحب کو وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور میں اور سابق گورنر میاں اظہر کو وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کے دور میں گورنری چھوڑنا پڑی تھی۔ پتہ نہیں، لوگ ماضی کو کیوں بھول جاتے ہیں؟




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved