تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

شہدائے منگ کا مشن


دھرتی کے عظیم سپوتوںنے186سال قبل آج کے دن منگ آزاد کشمیر کے مقام پرگلاب سنگھ کی حکومت کو للکارا اوراپنی زندہ کھالیں کھینچوائیں مگر سرینڈر نہ کیا۔جس درخت پر انہیں لٹکایا گیا۔ وہ آج بھی موجود ہے۔ قوم کی آزادی پر اپنا آج قربان کرنے والوں کو ہر وقت یاد کرنے اور ان کے مشن پر چلنے والی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ مگر اب شہداء کوصرف سیاسی نعروں، کاغذی بیانات کی حد تک یادکیا جاتا ہے۔جب کہ یہ اقتدار، یہ جاہ و جلال شہداء کی قربانیوں کے صدقے ہے۔ اللہ پاک 1832 کی تحریک حریت کے شہدائے منگ سردار جموں خان، سردار شمس خان، سردارملی خان، سردارسبز علی خان، سردار مستانہ خان، سردارباز خان، سرداربنگلش خان، سردار محمد یار خان،سردار دولت خان، سردار عمرو خان،سردار آسیر خان،سردار پرجوں خان، سردار مرادو خان، سردار مرید خان، سردار راجولی خان، سردارملکوں خان سمیت تمام شہداءکی قربانیاں قبول فرمائے۔منگ میں ہی 1947 میںلیفٹیننٹ افسر خان اور کرنل شیر خان سمیت 55 جانبازوں نے ڈوگرہ کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پائی اور غلامی کے زنجیروں کو توڑ دیا۔
1965ء اور1971 ء میں بھی یہاں کے صف شکن مجاہدین مختلف محازوں پر دشمن کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ شہداء کے مشن پر چلنے کے دعویدار تحریک کے نام پر سیر و تفریح اور عیش و عشرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔ شہدائے منگ کا دن 14نومبر گزرجاتا ہےمگرآزاد کشمیرمیںتحریک کے دعویدارخواب خرگوش میں سوئے رہتے ہیں۔ کسی جگہ سے شہداء کی یاد میںکسی تقریب کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوتی۔ اس بارے کبھی کوئی بیان نظر سے گزرتا ہے۔ عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ اخبارات سینکڑوں کی تعداد میں بیانات سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہاں انوسٹی گیشن کے بجائے شہ سرخیاں بھی بیانات پر مبنی ہوتی ہیں۔ کوئی ایک اپنی پسند یا مفاد کی خبر جاری کرے تو تمام اخبارات اپنے کریڈٹ سے نکتہ بہ نکتہ وہی خبر شائع کر دیتے ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ خبر کس کی اختراع ہے اور کہاں سے جاری ہوئی۔یہاں کے عوام بلا شبہ ہمدرد اور مخلص ہیں۔ مگر انہیں فکر معاش میں پھنسا دیا گیا ہے۔ فیکٹری، صنعت ، پیداواری یونٹس، زرعی پیداوار کا فقدان ہے۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ جو کھیتی باڑی کر سکتے ہیں، ان کی اکثریت اپنی زمینیں بنجر چھوڑ کر راجہ بازار میں بار برداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں شہدائے منگ جیسے ایام آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں لیکن کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ میڈیا بھی بزنس کی تلاش میں ان ایام کو اہمیت نہیں دیتا۔
کہتے ہیں کہ یہ نومبر1832 تھا جب سکھوں کے مظالم کے خلاف کشمیری اٹھ کھڑے ہوئے۔ پونچھ کے لوگ شروع سے بہادر اور جفاکش گزرے ہیں۔ کبھی یہ لوگ بھی دیگر کی طرح آزادی پسند اور دلیر تھے۔ کبھی یہ غلامی کو قبول نہ کرنے کا عزم رکھتے تھے۔ لوگ سکھوں کے مظالم کے خلاف یہ سینہ سپر ہو گئے۔ اس تحریک کی کمان اس وقت شمس الدین مجاہد کے ہاتھ میں تھی۔ وہ کسی کی فنڈنگ کے انتظار میں نہیں رہے اور نہ ہی کسی این جی او کا سہارا لیا۔ انھوں نے چندے بھی وصول نہیں کئے۔ وہ سکھوں کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی آڑ میں سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے بھی نہیں نکلے۔ بلکہ وہ مخلص مجاہد تھے۔ گھر سے کھایا، زاد راہ لیا اور اللہ کی رضا کے لئے نکل پڑے۔ کسی پر احسان نہیں جتایا۔ قربانی کا صلہ بھی نہیں مانگا۔ کریڈٹ بھی نہیں لیا۔اپنی آباد کاری، بچوں کا روشن مستقبل بھی سامنے نہ رکھا۔ دفاتر، کوٹھیاں اور گاڑیاں بھی طلب نہ کیں۔ یہ تھے شہید ملی خان اور سبز علی خان جیسے عظیم فرزندان کشمیر۔
جب کشمیری رنجیت سنگھ کے خلاف میدان میں آئے تو اس وقت بھی ضمیر فروش موجود تھے۔ لیکن ان کی تعداد کم تھی۔ گلاب سنگھ کو اس جدوجہد کو کچلنے کا ٹاسک ملا۔ وہ رنجیت سنگھ کی فوج میں جنرل تھا۔ گلاب سنگھ کی فوج نے پونچھی عوام کا قتل عام شروع کر دیا جس طرح آج بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی میں مصروف ہے۔ اسے کشمیریوں کو ختم کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ گلاب سنگھ نے نوجوانوں کو پکڑ کر ان کے ہاتھ پائوں کاٹ ڈالے۔ گردنیں اڑا دیں۔ سر قلم کر کے لٹکا دیئے۔ گھر جلا دیئے۔ لوٹ مار کی۔ لیکن بدترین مظالم کے باوجود وہ جدوجہد کو کچلنے میں ناکام ہو گیا۔ منگ میں سردار ملی خان اور سبز علی خان کی زندہ کھالیں کھینچ لیں۔ یہ دردناک منظر تھے، کھالیں کھینچنے کے بعد ڈوگرہ اور سکھ فوج نے ان نوجوانوں کی لاشیں لٹکا دیں۔ کہتے ہیں وہ درخت آج بھی موجود ہے۔ یہاں پر اب یادگار تعمیر کی گئی ہے۔
راولپنڈی سازش کیس میں منگ کے ہی کرنل خان محمد خان کا نام لیا جاتا ہے جنھوں نے تحریک آزادی کی جنگ لڑی، عالمی جنگ دوم میں بھی شرکت کی۔ بعد ازاں دوسرے راستے پر چل پڑے۔ افسوس ہے کہ پونچھ کے حکمران سردار شمس خان نے سکھ راج اور مظالم کے خلاف بغاوت کی تو کہتے ہیں سردار نور خان نے غداری کرتے ہوئے انہیں مہاراجہ کے حوالے کر دیا۔ تحریک میں سدھن اور ملدیال ہی نہیں بلکہ ہر کسی نے قربانیاں پیش کیں۔ آج ان عظیم شہداء کے مشن پر چلنے کا وقت ہے مگر یہاں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اقتدار کے لئے لوگوں کو علاقوںاور برادریوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لوگ ظاہری اور باطنی طور پر متصادم ہیں۔ ایک کشمکش ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا داری کے لئے لوگ آپس میں سلام و دعا کرتے ہیں۔ ورنہ دن بدن ان میں نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ سب کا مقصدایک ہی ہے۔ ذاتی مفاد، کرسی، اقتدار، مراعات۔ شہدائے منگ کی طرح وہ بھی تھے جنھوں نے آزادی کے لئے، اتحاد اور اتفاق کے لئے خود کو قربان کر دیا۔
ہم آج سب کو اپنے مفاد پر قربان کر رہے ہیں۔ نئی نسل تعلیم یافتہ ہے۔ اس سے توقع ہے کہ یہذات برداری، قبیلوں، علاقوں اور ان ازموں کے بت پاش کر دے گی۔ جو زمانہ جاہلیت کی یادگاریں اور نشانیا ں ہیں۔ اسلاف اور بزرگوں کی اعلیٰ خدمات اور قربانیوں پر فخر کرنے یا اکڑنے کے بجائے وہ قومیں تاریخ میں نام پیدا کرتی ہیں جو ہر وقت کچھ مثبت کر گزرنے اور تاریخ کو رقم کرنے میں یقین رکھتی ہیں۔شہداے منگ اور شہدائے کشمیر کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آج کون ان کے مشن پر چلنے کا عزم رکھتا ہے۔شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک طریقہ یہ ہو گا کہ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لے۔ انفرادی سے بڑھ کر اجتماعی کوششیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved