تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

بھارتی آبی جارحیت اورکالاباغ ڈیم


(گزشتہ سے پیوستہ)
پھرجب بھی بھارت پانی چھوڑے گا تب یہاں پانی آئے گا،جب وہ پانی روکے گاتوہم پانی کی ایک ایک بوندکوترسیں گے،یہی وجہ ہے کہ بھارتی انتہاء پسندوں نے میڈیاپربرملاکہناشروع کردیاہے کہ وہ دن دورنہیں جب ہم سارے پاکستان کوصحرامیں تبدیل کردیں گے(خدانخواستہ) ان حالات میں پاکستان میں کسی بھی ڈیم کی تعمیرسے اختلاف میں اس امرکاثبوت نہیںکہ یہ اختلاف کرنے والے ایجنٹ ہیںجومستوجب سزاہیں۔ اس ضمن میں عوام کوہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھ لیناچاہئے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہم نے ہزاروں لاکھوں جانوں عصمتوں ،خوابوں اورنسلوں کی قربانیوں کے بعدحاصل ہواہے اور ۲۷ رمضان المبارک کوپاکستان کی تشکیل میں بھی ربّ ِ کریم کی خاص رضامضمرہے۔
پاکستان میں برصغیرکے مسلمانوں کیلئے اللہ کاانعام ہے اوراس خداوندی انعام کی حفاظت ہم سب کو نہ صرف وطن پرستی کے لحاظ سے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے کہ ہم اللہ کے منعم ہیں اوردیئے گئے انعام کی حفاطت ہمارادینی فریضہ ہے،لہنداکم ازکم قومی منصوبوں یعنی ڈیموں کی تعمیرپر کسی اختلاف سے نہ صرف خودبازرہیں بلکہ ان سے اختلاف کرنے والوں کوسمجھائیں ۔ڈیموں کی تعمیرنہ تولسانی مسئلہ ہے نہ ہی صوبائی کیونکہ ڈیم تعمیرہوں گے توپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اورپانی جمع ہوگاتونہ صرف پاکستان بھرکے عوام استعمال کریں گے بلکہ ہمارے جانوراورپالتو ڈھورڈنگربھی پئیں گے۔
اگراس حقیقت سے آگہی ہوجائے اورہمیں پانی کی اہمیت اورقدروقیمت کااحساس ہوجائے توہمارے ناخواندہ سادہ لوح عوام جوملک دشمنوں اوربھارتی جاسوسوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں ،وہ بھی ان کی زبان بندکرنے لگیں گے۔سادہ لوح اورناخواندہ عوام یادرکھیں گے کہ بھارتی جاسوس اورملک دشمنوں کی ایک شناخت ہے کہ وہ ہراس منصوبے کی مخالفت کریں گے جوتعمیروطن کیلئے ہوگاجس سے پاکستانی عوام،اللہ کے نام لیوااوررسول اکرمﷺکاکلمہ پڑھنے والوں کی زندگی کی سہولت مل سکتی ہویاان کامستقبل محفوط ہوسکتاہو۔تمام سندھی،بلوچ،پشتون اورپنجابی بھائی یادرکھیں کہ ڈیموں کی تعمیرسے کوئی محب وطن فرد،گروہ یاجماعت اختلاف نہیں کرسکتی اورجوبھی اختلاف کرے گاوہ اصلاً غدارِ وطن ہی ہوگا۔یہ بات ظاہرہوگئی ہے کہ اگرہم نے ڈیم تعمیرنہ کئے تو2025ء تک پاکستان میں خشک سالی شروع ہوجائے گی۔
ہم نے صرف خشک سالی کانام سناہے،اس کی تباہی وبربادی نہیں دیکھی۔جب زمین بنجرہوجاتی ہے ،ملک قحط کاشکارہوجاتاہے،کھیت کھلیان سوکھ جاتے ہیں،زمین گندم ،چاول اوردیگرغذائی اجناس اگانے سے انکارکردیتی ہے، ملک میں روٹی اوردیگرکھانے کی چیزیں ناپیدہوجاتی ہیں،پینے کیلئے پانی تک میسرنہیں ہوتا،ذراغورکریں ہم موسم گرمامیں تین تین بارغسل لیتے ہیں اوراگرہمیں کئی کئی ماہ بعدغسل لینا پڑے اوراتناپانی بھی نہ ہوکہ ہم اپنامنہ تک دھوسکیںبلکہ تھوڑے سے پانی میں کپڑاترکرکے اس سے چہرہ رگڑکرصاف کیاجائے توہماری کیفیت کیاہوگی؟ جب صومالیہ اورافریقہ کی طرزپربھوک کی حالت میں ہم زمینوں پرگھاس پھونس تلاش کرتے پھریں اورجانورون کی طرح جہاں سے جوبھی کھانے کوملے اسی کوکھاکرآتش ِشکم بجھانے کی ناکام کوشش کریں ،توکیاان حالات میں ہم زندگی گزارناچاہتے ہیں؟
اگرڈیموں کی تعمیرکی مخالفت جاری رہی توانہی حالات سے دوچارہوناپڑے گا(خدانخواستہ)اوریہ چندمٹھی بھربھارتی ایجنٹ قوم پرستوں کی آڑمیں جس طرح ڈیموں کی مخالفت کر رہے ہیں ،اس کاصاف مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں کوئی ڈیم بنناہی نہیں چاہئے اوربنانے کی کوشش کی گئی توقوم پرستی کے نام پرمخالفت شروع ہوجائے گی لیکن قوم پرستی آخرہے کیا ؟ کیاتمام پاکستانی ایک متحدقوم نہیں؟قوم پرستی کی لعنت کوتوہم کئی بارپہلے ہی مستردکرچکے ہیںلیکن یہ چندمٹھی بھرعناصر جوپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایجنڈے پراس کے وظائف پرپلنے والے اپنے مفادات کی خاطرعلاقائی سیاست کاجھنڈااٹھائے شورمچاناشروع کردیتے ہیں ۔قوم پرستی کے سب سے بڑے دعویدارجی ایم سیدتھے جن کی پارٹی کو کبھی بھی کسی بھی انتخابات میںقوم کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی۔جی ایم سیدنے اپنے افکاراورنظریات میں پاکستان دشمنی کااظہارکیاتوانہوں نے اپنی ناکامیوں کاانتقام لینے کیلئے ایک کتاب بعنوان’’اب پاکستان ٹوٹ جاناچاہئے‘‘بھی لکھ دی تھی۔اب جی ایم سیدکابیٹاجلال محمودشاہ سندھ کے قوم پرستوں کی نمائندگی کررہاہے۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینئیر اورسندھ یونائیٹڈپارٹی کے سربراہ جلال محمودشاہ کافرمان ہے کہ :دریائے سندھ پرکالاباغ ڈیم سمیت کوئی بھی ڈیم بناناسندھ کے خلاف سازش ہے۔ڈیم بنانے کے قومی اخوت کے عزائم رکھنے والوں کے خلاف ہرزہ سرائی کیاحب الوطنی قراردی جاسکتی ہے؟
پچھلے دو ماہ کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ذاتی کوششوں سے ڈیم فنڈز میں دو ارب روپے سے کچھ زائدجمع ہوئے ہیں لیکن یہ رقم فی الحال اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے کیونکہ اس منصوبے پرآنے والی لاگت کاتخمینہ چودہ سو ارب ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم ساڑھے چارہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہاں لوگوں میں اس منصوبے کے بارے میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔یہ ڈیم گلگت بلتستان کے ضلع دیامراور ضلع کوہستان میں بنے گا جہاں دریائے سندھ کشمیر کے راستے گلگت بلتستان میں داخل ہوتا ہے۔ڈیم کی جگہ چلاس شہر سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، پچھلی تین دہائیوں سے یہ منصوبہ التوا کا شکار رہا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہاں کے مقامی لوگ اپنی زمینیں اور گھر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے ۔ پچھلے دس سال میں اس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور اس منصوبے پر تعمیراتی کام اگلے سال سے بھرپور انداز میں شروع ہوسکتا ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved