تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

پنجاب کی چائےمیں طوفان


پی ٹی آئی کےجہانگیر خان ترین اورسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کےدرمیان ملاقات کی جاری ہونےوالی ویڈیونےایک تکنیکی غلطی کی وجہ سے چائےکی پیالی میں طوفان اٹھادیاہے،ایسی جاری ہونےوالی ویڈیوزعمومی طورپرمیوٹ کرکے بنائی جاتی ہیں جو نہ ہوئی اورایسےہی جاری ہو گئی جس پریہ تک بھی کہا گیا کہ یہ جان بوجھ کرہی میوٹ نہ کی گئی کیونکہ چودھری برادران وزیراعظم کو کوئی میسیج دیناچاہتےتھے۔حالانکہ جب بھی اتحادی جماعتوں کےرہنما آپس میں ملتے ہیں توگلےشکوے ایک قدرتی عمل ہوتاہے،کوئی نئی بات تھی نہیں جو وزیراعظم تک اس طریقے پہنچانامقصودتھی۔اس ویڈیو کے تمام فریقین اسےگھریلو شکوہ قراردے کربھول بھی چکے ہیں مگریاران سر پل ابھی تک اسےکوئی بہت بڑی سازش قرار دینے میں لگےہوئے ہیں اوراسے آئندہ دنوں آنےوالےسینیٹ کےضمنی الیکشن سےجوڑرہے ہیں۔سینیٹ کی دونشستوں پرالیکشن توہورہاہےاوراس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پنجاب میں حکمران جماعت کےتمام بڑےعہدیدار،اپوزیشن کیلئےاپنےاپنےطور پربڑا خطرہ ہیں کیونکہ یہ سب سیاسی طورپربڑےمضبوط اور تعلقات والے ہیں،ارکان اسمبلی کوتوڑناچاہیں تو کافی کچھ کرلیتے ہیں۔ماضی قریب میں جب چودھری پرویزالہیٰ کابطورسپیکر پنجاب اسمبلی انتخاب ہوایاپھر گورنر پنجاب چودھری سرورجب سینیٹرمنتخب ہوئےتو سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن کےبےشمارارکان اسمبلی نےاپنے امیدوارکے بجائےانہیں ووٹ دے دیےتھے۔سپیکرچودھری پرویز الہیٰ اور گورنرسرور اتحادی ہیں مگردونوں سیاسی طورپرہیوی ویٹ بھی ہیں سو وہ آئندہ الیکشن میں اپنا زوراپنی جماعت کو کیوں دکھانانہیں چاہیں گے؟۔
ان حالات میں ق لیگ کےطارق بشیر چیمہ کی شکایت،چودھری پرویز الٰہی کی جہانگیرترین سےملاقات اورگورنر چودھری سرور کی شکایت کومعمولی واقعہ ہی سمجھنا چاہئے۔ق لیگ کی قیادت نےہرنازک موڑپرتحریک انصاف کاساتھ دیااورمستقبل میں بھی ایساہی ہوگا،چودھری برادران کی یہ روایت ہے کہ جس کاساتھ دیتے ہیں پورےخلوص اوردیانتداری سےدیتے ہیں،ایسا نہیں کہ اس شکایت کےبعد سیاسی راستے تبدیل کرلئےجائیں،وزیر اعلیٰ عثمان بزدارایک تعلیم یافتہ،دیانتدار ،محنتی اورپرخلوص سیاستدان ہیں مگروزارت اعلیٰ کاانکو تجربہ نہیں،وزارت اعلیٰ بھی پنجاب کی جہاں ماضی میں میاں منظور وٹو صرف 18ارکان کیساتھ وزیر اعلیٰ بنےاور دوبڑی سیاسی جماعتوں کو اپنے دورمیں ناکوں چنے چبوائے،چودھری پرویز الٰہی تجربہ کارسیاستدان ہیں،انہوں نے 5سال کامیابی سے پنجاب کو سنبھالا ،صوبے کوترقی کےنئےراستےپرڈالااوراتحادیوں کو کامیابی سےساتھ لیکرچلتےرہے،اب جبکہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کاسور ج غر وب ہونےوالاہےتو پنجاب میں پرویزالٰہی اپنازور کیوں نہ دکھائیں۔حکمران جماعت ان کےتجربےسےفائدہ اٹھارہی ہےاوراس تجربہ سےتحریک انصاف کی حکومت مزیدمضبوط ہورہی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ماضی میں باری باری حکمرانی کرکےملک کو دونوں ہاتھوں سےلوٹنےوالی دوبڑی جماعتوں کامستقبل بتدریج تاریکی کی گہری کھائی میں گرتا معلوم ہورہاہے۔نوازشریف اورآصف زرداری کےقصہ ماضی بننے کےبعد سیاسی طور پر ایک بڑا خلاء پیداہونےجارہاہے،اس خلاء کو پر کرنےکیلئے بہت سارے لوگ ادھر ادھرہو سکتے ہیں۔یہ ماضی کی روایت رہی ہےاورتاریخ خود کودہراتی ہے،تاریخ کےپہئے کوگھومنےسےکوئی روک سکا ہےنہ روک سکے گا۔دور اقتدارمیں کارکنوں کوساتھ لے کرنہ چلنے والی جماعتوں کااپوزیشن کےحالات میں حال ایساہی ہوتاہے۔ایسی جماعتوں میں شامل رہنماءصرف مفادات کیلئےساتھ دیتے ہیں،کارکن بھی ہواء کےجھونکےکی طرح ہوتے ہیں جب تک اقتدارکا سورج نصف النہار پر ہوتا ہے زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے ہیں، اقتدارکےہماکے اڑتےہی کارکن بھی اپنی وفاداری بدل کرنئی پناہ گاہیں ڈھونڈلیتےہیں۔
ایوب خان نےاپنےدس سالہ دوراقتدار میں کنونشن مسلم لیگ کومتحد کیا،ذوالفقارعلی بھٹو جیسےلوگ بھی اس پارٹی کے مدارالمہام رہے ، اپنے دورکےتقریباً تمام بڑے سیاستدانوں نے اس پارٹی کےدامن میں پناہ تلاش کی مگرجب ایوب خان پربراوقت آیا توسب سےپہلےذوالفقاربھٹونےکنونشن مسلم لیگ کی کشتی سے چھلانگ لگائی۔ایوب کااقتدارجب عروج پرتھاتو ایک مرددرویش نےآمریت کیخلاف علم بغاوت بلند کیا،ایوبی آمریت کیخلاف یہ پہلی باغیانہ صداتھی جو چودھری ظہورالٰہی شہیدنےبلند کی،یہ وہ وقت تھاجب ہواایوب خان کےحق میں چل رہی تھی اور کوئی شخص ان کیخلاف بات کرنےکا سو چ نہیں سکتا تھامگرظہور الٰہی شہیدنےگرفتاری،جیل،مقدمات کی پرواہ کئےبغیرآمریت کےتپتےصحرا میں ٹھنڈی ہواکا جھونکابننے کی کامیاب کوشش کی،اس گناہ عظیم کےجرم میں اگرچہ ظہور الٰہی کوایوب خان کےاقتدارکا پوراعرصہ جیل میں گزارناپڑالیکن ظہورالٰہی شہیدنےمڑ کرنہ دیکھا،ان کی دی جرات نےبعد میں آنے والےباغیوں کوزبان اورحوصلہ دیا،ایوب دورکےخاتمہ کےبعدایک ملک قاسم تھےجنہوں نےان کی پارٹی کو زندہ رکھنے کی کوشش کی مگروہ بھی بھٹو دورمیں اقتدار کاحصہ بن گئے،آج ایوب خان کانام نئی نسل کےتحت الشعورمیں کہیں ہوتوہومگرچودھری ظہور الٰہی ہرجمہوریت پسندکےدل میں زندہ ہیں۔
بھٹو نےپیپلزپارٹی کےنام سےسیاسی جماعت قائم کی،نظریاتی حوالےسےیہ جماعت اسلام،جمہوریت، سوشلزم کا ملغوبہ تھی،آج بھی اس جماعت کےکارکن کشمکش کاشکارہیں،اکثر رہنماء اشتراکیت پسند ہیں جبکہ کارکن جمہوریت کےدلدادہ لیکن بہر حال پیپلزپارٹی ایک باقاعدہ سیاسی جماعت تھی اسی لئےاپنا وجودبرقرار رکھنے میں آج تک(باقی صفحہ نمبر6 بقیہ نمبر4)
کامیاب ہےمگراس جماعت کےلیڈر چونکہ ماضی قریب میں لوٹ مار میں مشغول رہےاس لئےاس کا وجودبھی خطرات سےدوچارہے، مختلف ادوار میں آمروں سےڈیل ثابت کرتی ہے کہ پیپلزپارٹی بھی جمہوریت کی آڑمیں آمریت پسندہےاورآصف زرداری کی جان جن طوطوں میں ہےوہ اب بولناشروع ہوگئےہیں۔
ایوب خان کےبعدضیاءالحق اقتدارمیں آئےتوانکو بھی اپنا اقتدار بچانےکیلئےسیاستدانوں کی ضرورت پڑی،غیرجمہوری انتخابات کرانےکےبعدانہوں نےبھی مسلم لیگ کاسہارالیا،محمدخان جونیجو کووزارت عظمٰی کیساتھ پارٹی قیادت بھی سونپی گئی مگریہ نظام کامیابی سےنہ چل سکا،جونیجو کی جگہ نوازشریف کولایا گیا جو روز اول سےضیاءالحق کی چوائس تھے،نوازشریف نےہر دورمیں ڈیل کےذریعےحکومت حاصل کی،این آراولئے مگرلوٹ مار کی اپنی عادت سےبازنہ آئے۔
محسوس ہورہاہےکہ ن لیگ اپنےمنطقی انجام سےدوچارہونیوالی ہے، پیپلزپارٹی بھی ایک نئےفیز کی طرف جاتی دکھائی دےرہی ہے،ملکی سیاست میں شاید پیداہونےوالا کوئی خلاءپرکرنےکیلئےایک اور سیاسی قوت کی ضرورت ہے،اس کےپرہونےکا پراسیس شروع ہو چکاہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved