تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

گستاخانہ خاکوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے ،وزیراعظم کا صدر یورپی پارلیمنٹ سے مطالبہ


وزیر اعظم عمران خان کو یورپی پارلیمنٹ کے صدر انتونیو تاجانی نے ٹیلیفون کیا ۔عمران خان نے ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کے احترام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے ڈائیلاگ ناگزیر ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے یورپی پارلیمنٹ کے صدر سے گستاخانہ خاکوں پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوششوں کو تیز کرنا ہو گا۔انہوں نے انتونیو تاجانی سے کہا کہ وہ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستانی عوام کی طرف سے یورپی ممالک کو انکے جذبات پہنچائیں اور یورپی ممالک میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے ساری اسلامی دنیا میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی اور پاکستان میں اس ضمن میں اہل اسلام کے جذبات کی شدت دوسروں سے زیادہ تھی اور غم و غصے کا اظہار ایک فطری عمل اورجذبہ ایمانی کا عکاس تھا۔اس حوالے سے ملعون ڈچ پارلیمنٹیرین گیرٹ ویلڈرزنے اگرچہ تائب ہونے اور دوبارہ ایسے دل آزار خاکوں کا مقابلہ نہ کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے اس کے بعد پھر اس کا اعادہ کرنے کا ڈھٹائی سے عندیہ دیا تھا ۔اسی ذیل میں یورپی عدالت نے بھی مسلمانوں کی دل آزاری بالخصوص آخری نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کو آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دیتے ہوئے ایک ملعونہ ملزمہ کی سزا کو درست قرار دیا تھا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے اس ضمن میں عالمی سطح پر اداروں اور ممالک پر دبائو بڑھایا ہے جس کے بعد صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم نے توہین آمیز اقدامات کی روک تھام کے لئے یورپی عدالت کے فیصلے کو سراہا اور توقع ظاہر کی ہے کہ یورپی ممالک عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اب یورپی ممالک بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔ یورپی پارلیمنٹ کے صدر نے آسیہ اور اس کے خاندان کے تحفظ کو یقینی بنانے پر شکریہ ادا کیاجبکہ انتونیو تاجانی نے پاکستان کے ساتھ یورپی پارلیمنٹ کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں آسیہ بی بی کے معاملے پر بحث ملتوی ہو گئی ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیاکہ حکومت اپنی سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور آئین کے تحت آسیہ اور اس کے خاندان کو تمام حقوق حاصل ہیںجوکہ اس ملک کے ہر شہری کو آئینی طور پر حاصل ہیں۔
دوسری طرف کینیڈا کے وزیر اعظم کی طرف سے آنے والے ایک بیان کے بعد کینیڈا کی وزیر خارجہ کریسٹیا فری لینڈ نے شاہ محمود قریشی کو فون کرکے آسیہ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ۔ہماری رائے میں حکومت کو کسی بھی ملک کو اس ملزمہ کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرانی چاہئے اور آئین اور قانون کے تحت فیصلوں کی پاسداری اور ان پر عملدرآمد حکومت پر بھی فرض ہے ۔ملزمہ کو ملنے والے ریلیف کے بعد نظرثانی کی اپیل کے فیصلے تک حکومت کو کوئی ایساقدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے ملک ایک بار پھر انتشار کا شکار ہو جائے۔یورپی ملک کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار اور پرجوش رکھا جائے لیکن وہ کسی ایسی قیمت پر نہیںہونا چاہئے جس میں اہل ایمان ایک بار پھر آزمائش میں پڑیں۔
جن کیسز کا نوٹس لے رکھا ہے وہ ادھورے
چھوڑ کر نہیں، فیصلہ کر کے جائینگے،چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی،چونکہ بہت ہی نیا پاکستان بن رہا ہے اسلئے ممکن ہے سی ڈی اے نے زیر زمین ٹرینیں بھی چلانی ہوں زمین تو چاہیے ہوگی، مالکان کو ریگولرائزیشن کیلئے پیسے دینا ہونگے ۔چوبیس گھنٹے بیٹھنا پڑے بیٹھوں گا، جو مقدمات شروع کیے ہیں وہ نمٹا کر ہی جائوں گا۔
منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس اور جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بینک فراڈ کیس کے ملزمان کی ضمانتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کے مطابق 1960 ء کے نقشے کے مطابق بنی گالہ کے زون4میں سڑکیں ہیں، 1992 ء اور 2010ء میں ترمیم کی گئی اور اس زون کے کچھ علاقے میں نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو بھی اجازت دی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی کافی سارا سرسبز علاقہ موجود ہے جس کو بچایا جاسکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے اس علاقے میں سڑکیں اور سیوریج بنانی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جن کیسز کا نوٹس لے رکھا ہے وہ ادھورے چھوڑ کر نہیں جائینگے بلکہ ان کا فیصلہ کر کے جائینگے۔ چیف جسٹس نے درست کہا کہ بنی گالہ میں سہولیات کیلئے زمین چاہیے، سی ڈی اے نے شہر منصوبہ بندی کے تحت ڈیویلپمنٹ کرنا ہے تو زمین خریدنی پڑیگی، مالکان کو ازالہ ادا کرنا پڑیگا اور ریگولرائزیشن کیلئے پیسے دینا ہونگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کئی ایک کام حکومت کے کرنے کے ہیں جن کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے۔بلاشبہ بنی گالہ میں تعمیرات اور تجاوزات کے حوالے سے الجھے ہوئے اور خلاف ضابطہ معاملات کو حکومت نے ہی درست کرنا ہے اور اس طرف بھر پور توجہ دی جانی چاہئے ۔
جیساکہ اس سے قبل بھی ہم اوصاف کے اداریوں میں یہ بات زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیںجن سے اسے نمٹنا ہے ۔ جہاں جہاں بھی خرابیاں پائی جارہی ہیں یا ایسے امور کی عدالت یا عوام کی طرف سے نشاندہی کی جارہی ہے انہیں فوری طور پر دو ر کیا جائے اور تمام سرکاری اراضی قبضہ گروپوں سے چھڑائی جائے ۔بااثر افراد خواہ وہ حکومت میں ہوں، اپوزیشن کے یا عام بااثر شہری، سب کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کیا جائے اور کسی کی بے جا حمایت نہ کی جائے ۔ہماری رائے میں چیف جسٹس عوامی مفاد میں مختلف امور کا نوٹس لیتے ہیں جس پر انکے ریمارکس بھی سخت آتے ہیں ۔ وہ چھٹی کے روز بھی مقدمات کی سماعت کرتے ہیں، ہسپتالوں اور دوسرے اداروں کا اچانک دورہ بھی کرتے ہیں ۔اس ساری سرگرمی کا واحد مقصد یہی ہے کہ ادارہ جاتی بہتری آئے ۔اداروں اورحکام کی سمت درست ہو اور عوامی مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔ہماری رائے میں یہ کام صوبائی وزرا اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزرا کے ہیں جن کی طرف انکی توجہ نہیں ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved