تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

افغان ایران آبی تنازعہ


ایران اور اس کے پڑوسی ملک افغانستان کے درمیان پانی کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ بارشوں میں کمی، عرصہ دراز سے جاری خشک سالی اور پانی کے وسائل میں بد انتظامی ہے جس نے دونوں ہی ممالک میں زرعی پیداوار اورپینے کے پانی کی دستیابی کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کابل نے ایران کے جنوب مشرقی خطے کو پانی نہیں دیا تو پھر جوابی کارروائی کیلئے تیار رہے اور دوسری جانب افغان حکام ایران کے پاسداران انقلاب پر اِلزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جنوبی اور مغربی افغانستان میں ڈیم کے منصوبوں کی تخریب کاری کیلئے طالبان کی امداد کرتے ہیں۔تہران افغان حکومت کے ایرانی سرحد کے قریب بند تعمیر کرنے کے حالیہ منصوبے پر شدید اعتراض کرتا ہے جب کہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بات میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے پانی کے اشتراکی معاہدے کے عین مطابق ہے اور اس وقت ملک میں پانی کی کمی کو مؤثر طریقے سے دور کرنے اور ملک کے محنت کش کسانوں کیلئے بند کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔
افغان حکومت کے مطابق ملک میں اس سال زرعی پیداوار میں 45فیصد کمی آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ پانی کی قلت ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی’’ارنا‘‘کو ایک طویل انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان کے سفیر ناصر احمد نور نے تہران کو اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کو اس وقت بارشوں میں 60فیصد کمی کا سامنا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ تہران اور کابل کے درمیان پانی کے اشتراکی انتظامات کے حوالے سے بہت سے معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے، مگر اس کے باوجود دونوں ہی ممالک کی جانب سے لفظوں کی جنگ جاری ہے۔تہران نے افغانستان اور اس کو امداد دینے والے ممالک جو بند کی تعمیر میں افغانستان کی مدد کر رہے ہیں، ان سے مطالبہ کیا ہے کہ بند کی تعمیر کے متعلق کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی سے پہلے ان سے مشورہ لازمی کیاجائے، کیوں کہ ایران کا خیال ہے کہ ایسے بند تعمیر کرنے سے ایران کی طرف پانی کے بہا میں کمی آئے گی۔مگر ایران کی یہ تجویز افغانستان اور بھارت جیسے ممالک نے مسترد کردی ہے۔
ایرانی حکام اور ذرائع اس وقت یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک میں پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا۔ ایرانی چینل نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان تیزی کے ساتھ بیرونی امداد کے ذریعے دو مزید بند تعمیر کر کے ملک میں موجود بندوں کی تعداد میں اضافہ چاہتا ہے ۔تہران افغانستان کو جوابی ردِعمل کے حوالے سے خبردار کر چکا ہے۔ ایران کے وزیر برائے توانائی رضا اردکانیان نے گزشتہ ہفتے ہی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک جن میں افغانستان اور عراق بھی شامل ہیں میں پانی کی قلت کے پیشِ نظر ان کے ساتھ بجلی کی فراہمی کو معطل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پانی کی قلت اور ماحولیاتی تبدیلی نے ایران کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے بیشتر حصوں میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔
گزشتہ سال، ایران کے انقلابی رہنما علی خامنہ ای کے ایک قریبی فوجی مشیر، میجر جنرل رحیم سفاوی نے خبردار کیا تھا کہ پانی کی قلت میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ ایک تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ ہم اس مسئلے سے سختی سے نہیں نمٹنا چاہتے، بلکہ معاملات کو اچھی حکمتِ عملی کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں‘مگر بہت سے ممالک ان کی اس تقریر کو اپنے لیے ڈھکی چھپی دھمکی سمجھتے ہیں۔ میجر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس وقت ایران پانی کے وسائل 12ممالک کے ساتھ تقسیم کر رہا ہے، اب مستقبل میں پڑوسی ممالک کے ساتھ یا تو تعاون میں مزید اضافہ ہوگا یا پھر مقابلے میں۔پاسدارانِ انقلاب کے سابق چیف کمانڈر نے پڑوسی ممالک میں غیر ملکیوں کی موجودگی سے متعلق خبردار کیا ۔ان کا اشارہ عراق اور افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کی طرف تھا، انھوں نے مزید کہا کہ ان غیر ملکیوں کی موجودگی ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان ہونے والے پانی کے انتظامی مسائل کو مزید پیچیدہ بنائے گی۔ پچھلے سال ایرانی صدر حسن روحانی نے علاقائی ممالک خصوصاً ترکی اور افغانستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں پانی کی قلت اور ماحولیاتی مسائل کے ذمہ دار یہ بند ہیں کہ جن کو ہم سے مشاورت کے بغیر ہی تعمیر کیا جارہا ہے۔ صدر نے خبردار کیا کہ ہم اس بات سے لا تعلق نہیں رہ سکتے، جو ہمارے ماحول کیلئے نقصان دہ ہو۔ افغانستان میں مختلف بند وں کی تعمیر، جس میں شمال اور جنوبی افغانستان میں کجاکی ، کمال خان اور سیلما بند شامل ہیں، جو کہ ہمارے خراسان، سستان اور بلوچستان صوبے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)

افغان حکومت نے صدر روحانی کے تبصرے پر فورا ًردِعمل ظاہر کیا۔ افغانستان کی وزارتِ توانائی و پانی کے نائب وزیر عبدالبصیر اعظمی نے صدر روحانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان حکومت پانی کے وسائل کا انتظام ملک کے قومی مفادات اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر شعبہ زراعت پر ہے، اور پانی کے بہتر انتظامات معیشت کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اوراس طرح کے انتظامات افیون کی کاشت کو کم کرنے اور افغانیوں کو اپنے ملک میں ہی رہنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اعظمی صاحب نے زور دیا کہ اگر ایران افغانستان کو مستحکم اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہے تو اسے افغانستان میں بند کی تعمیر کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ایسے تعمیراتی منصوبوں میں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
حیات اللہ حیات جو کہ جنوبی ہلمند صوبے کے گورنر ہیں، ان کے مطابق پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے طالبان کو کچھ جدید ہتھیار فراہم کر رکھے ہیں تاکہ ملک کے کچھ بند وں کو غیر فعال کر سکیں، جس کے نتیجے میں دریائے ہلمند سے پانی کا بڑا حصہ تہران کو حاصل ہو سکے۔ بالکل اسی طرح جمیلا امینی ، جو کہ فراہ کی صوبائی کونسل کی سربراہ ہیں(ایک ایسا افغان صوبہ جس کی سرحد ایران کے صوبے سیستان اور بلوچستان کے ساتھ لگتی ہے)انھوں نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ پاسداران انقلاب تیزی سے طالبان جنگجوں کی امداد کر رہا ہے تاکہ صوبے میں بختاباد بند کی تعمیر رکواسکے۔ اس وقت صوبہ سیستان اور بلوچستان پانی کی بدترین قلت کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں، اور ایرانی حکام کے مطابق ہلمند میں برطانوی تعمیر شدہ کجاکی بند پر دوسرے مرحلے میں کام شروع ہوگیا ہے جو کہ ایران کیلئے مزید پریشانی کا باعث ہے۔
ایرانی رہنمائوں کی نظر میں تمام تر صورتحال کے ذمہ دار پڑوسی ممالک ، پانی کی انتظامی حکمتِ عملی ، خطے میں امریکی افواج کی موجودگی، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل ہیں، مگر وہ ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی ، بدانتظامی اور غلط حکومتی پالیسیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جو کہ ملک میں موجود بحران کی اصل وجہ ہے خصوصاً مشرقی اور مغربی پسماندہ صوبوں میں اور اس کے علاوہ ایران کی طرف سے طالبان کی خاموش حمائت بھی امریکااوراس کے اتحادیوں کیلئے ناقابل قبول ہے جس کی بنا پروہ خطے میں بدترین آبی اور ماحولیاتی مسائل کوبڑھاچڑھاکرپیش کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے سازشوں میں مصروف رہیں گے۔
دوسری طرف ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے وزیرانصاف علی رضا ایوائی نے ایران اورکابل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر عملدرآمدکو یقینی بنانے کے لیے ریاستی معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیاہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کی جانب سے بھرپورتعاون کایقین دلایاگیاہے۔یاد رہے کہ ایران کی مختلف جیلوں میں تقریبا 5 ہزار افغان باشندے جبکہ 22ایرانی افغانستان کی جیلوں میں اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایرانی میڈیا نے بتایا کہ بیشترافغان منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث میں گرفتارکئے گئے۔ اس حوالے سے وزیر انصاف علی رضا ایوائی نے ایرانی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اس ضمن میں دونوں ممالک کی جانب سے بھرپور تعاون کیا گیا۔دوسری جانب ایرانی وزیر کے ہم منصب افغان کے وزیر انصاف عبدالبصیر انور نے بتایا کہ ایران کی مختلف جیلوں میں تقریبا 5 ہزار افغان باشندے زیر حراست ہیں۔
اجلاس کے دوران افغان نائب وزیر انصاف برائے انسانی حقوق اور عالمی امورمحمود عباسی نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 650 افغان قیدیوں کوواپس منتقل کیاگیاہے اورمزیدقیدیوں کی واپسی کیلئے بہت جلدمعاہدے طے پاجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا ریاستی معاہدے نہ ہونے کی وجہ سے رکاوٹ کا سامنا ہے۔ اجلاس کے آخر میں دونوں ممالک کے وفود نے جوڈیشل تعاون پرمعاہدہ کیاہے جس کے بعدامیدہے کہ قیدیوں کے تبادلے پرجلدعملدرآمدشروع ہوجائے گالیکن افغان ایران آبی تنازعہ پرڈیڈلاک جاری ہے جس کی وجہ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت پرجہاں امریکی دبائوہے وہاں افغانستان میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کااعلان ہوناابھی باقی ہے۔
فی الحال افغان طالبان نے اس معاملے پرمکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے کیونکہ طالبان کی اس وقت پوری توجہ مستقبل میں ہونے والے براہ راست افغان طالبان کے ساتھ امریکی ممکنہ مذاکرات پرہیں جس کیلئے قطرمیں امریکاکے خصوصی مندوب برائے افغانستان زلمے خلیل زادنے تین رکنی وفدکے ساتھ ملاقات کرکے براہ راست مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ افغانستان اورایران کے مابین یہ آبی تنازعہ مستقبل میں دونوں ممالک کیلئے پریشانی کاسبب بن سکتاہے کیونکہ عالمی طورپرآبی قلت کی بنا پرپانی کے ذخیروں میں خاطرخواہ کمی واقع ہورہی ہے اورپانی کی بنیادمیں دنیاکے کئی ممالک میں کشیدگی میں اضافے کی پیش گوئیاں جاری ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved