تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

مقبوضہ کشمیر ۔۔۔رہنما کیا سوچتے ہیں!


بھارت کی افغان طالبان کیساتھ بات چیت میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، جامع مسجد دلی کے شاہی امام نے بھارت سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ کشمیری حریت پسندوں کیساتھ مذاکرات کیوں نہیں کرتی ہے۔
ایک بیان میں شاہی امام مسجدنے کہا کہ بھارت سرکار نے افغان طالبان کے بارے میں جو پالیسی اپنائی ہے اس کو کشمیری حریت پسندوں کے بارے میں بھی اختیار کیا جانا چاہئے۔انہوں نے مائو نوازوں ، نکسلیوں اور بوڈو علیحدگی پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کا مطالبہ کیا۔بھارت سرکار افغانستان میں امن کیلئے کوشاں ہے لیکن خود اپنے ملک میں امن قائم کرنے کیلئے وہ کوئی کوشش نہیں کرتی ہے۔انہوں نے دہشت گردی کو اسلام کیساتھ جوڑنے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ایسی کوششیں سرکاری سطح پر جان بوجھ کر انجام دی جارہی ہیں۔شاہی امام نے اپنے بیان میںدرست کہااور اپنی حکومت کو آئینہ دکھایا کہ مائو نوازوں کے تشدد میں کبھی کبھار ایک ساتھ70لوگ بھی مارے گئے لیکن انہیں کبھی دہشت گرد کہہ کر نہیں پکارا گیا لیکن ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو کسی ایسے فعل میں مبتلا پایا جائے جس سے کچھ جانیں چلی جاتی ہیں تو اسے فوراً دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ سرکار اور سیاستدان تو زبانی جمع خرچ کیلئے کہتے رہتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے لیکن عملًا جان بوجھ کر اس کو اسلام اور مسلمانوںکیساتھ جوڑا جاتا ہے۔
یہ کالم نگار سمجھتا ہے کہ بھارتی وزیر اعطم اور انتہا پسندوں کو آئینہ دکھانے والے تو بہت ہیں لیکن مودی سرکار کوپروسی ملک میں دہشت گردی کرانے سے فرصت ملے تو ادھر بھی توجہ کریں۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں میں دہلی سرکار کیا کھچڑی اندر ہی اندر پکارہی ہے اس پر بھی ایک بیان دیکھیں کہ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے جموں میں آئی کے کے جٹ جموںنامی تنظیم کے بینر تلے جمع فسطائی عناصر کی سرگرمیوں اور انکے منفی پروپیگنڈہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے انہوں نے اہلیان جموں سے بیدار ہوکر،امن اور روایتی بھائی چارہ کے دشمن، ان فسطائی عناصر کو الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایک بات انتہائی بدقسمتی اور حیرانگی کی ہے کہ نام نہاد آئی کے کے جموں کے کارکن سر عام مسلمانوں اور انکے مذہب کے خلاف کھلے عام نفرت پھیلا رہے ہیں اور یہ سب آر ایس ایس کی ایما اور نگرانی میں ہو رہا ہے۔انکر شرما،پروفیسر ہری اوم ،سشیل پنڈت،مدھو کشور اور ان جیسے دیگر عناصر جموں میں فرقہ وارانہ افراتفری پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں اور اس مقصد کیلئے وہ ،رسانہ میں پیش آمدہ شرمناک واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر،دفعہ 35Aکے تحت ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے بارے میں خدشات پھیلاکر،اسلامی شریعت کو اسلاموفیشزم کہہ کر،جموں کے لوگوں کو مسلمانوں کو دکانیں اور زمین نہ بیچنے کیلئے کہ کر،مسلمانوں کی کئی بستیوں کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلاکر،گوجروں کے بائیکاٹ کیلئے اور ان سے دودھ نہ خریدنے کیلئے کہہ کر،مساجد کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہہ کر اور ایسی دیگر سرگرمیوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اورہندووں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔انجینئر رشید کے بقول مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت انگیزی اور شرانگیزی نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ریاستی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پوری مسلمان قوم کے لئے نا قابل برداشت بھی ہے۔
جھٹ کے نام نہاد کارکن شرمناک طریقے پر ہر معمولی اور غیر معمولی معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیگر پورے جموں خطہ کا ذہن خراب کرکے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم وہ یہ نہ بھولیں کہ جموں خطہ دراصل مسلم اکثریتی علاقہ تھا جسے چند ہی دنوں میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو شہید کرکے مسلم اقلیتی علاقہ میں بدل دیا گیا ہے۔اب ایسا لگتا ہے کہ ایس ایچ او سے لیکر گورنر ایس پی ملک تک سبھی ہندو فسطائی عناصر ،جوکسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے ایجنڈا پر عمل در آمد کرتے نظر آ رہے ہیں،کے جھٹ پراکسیز کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔انجینئر رشید نے مدھو کشور کے جموں کشمیر کی باشندہ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ جموں کے ہنددئوں کے خلاف اتنی فکر مند کیوں نظر آتی ہیں اور وہ کس مقصد کے ساتھ یہاں کے مسلمانوں کے خلاف فسطائی طاقتوں کو اکٹھا کرکے جموں کا ماحول بگاڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔دراصل مدھو کشور جیسے عناصر مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری نوجوانوں کے خلاف بد گمانیاں پھیلانے،مساجد کے خلاف بد زبانی کرنے اس طرح کی قابل مذمت حرکات سے بے نقاب ہو رہے ہیں جسکے لئے کشور اور ان جیسوں کو شرم آنی چاہئے۔ایسے ہی کئی دوسرے رہنما بھی مسلمان دشمنی پر مبنی رویوں اور غیر ریاستی عناصر کی ریشہ دوانیوں کا پردک چاک کررہے ہیں ۔
اسی پر بس نہیں دیکھیں کہ سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر پروفیسر سیف الدین سوز بھی بول اٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس،بی جے پی لیڈروں کو فرقہ پرستانہ اور انتہا پسندانہ خیالات کے اظہار کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ وہ ایسا وزیر اعظم مودی کے ایما پر ہی کر رہے ہیں کیونکہ اس کو 2019 کا الیکشن ہر قیمت پر جیتنے کا بھوت سوار ہو گیا ہے!آر ایس ایس، بی جے پی ہندوتوا گٹھ جوڑ اب رام مندر کیلئے سپریم کورٹ کو کھلم کھلا للکار رہے ہیں۔
ہندوستان کے غیر جانبدار سیاسی مبصرین کو اس بات کی سخت پریشانی ہے کہ ہندوستان کی آزاد اوربے لاگ جمہوریت کو زبردست دھچکا لگنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ادھر دوسری طرف مقتدر قانون دان فالی ناریمان اور این رام، ارون شوری ، یشونت سنہا، جنرل ہوڈا اور دوسرے ان گنت آزاد خیال اور جمہوریت نواز دانشوروں کے دل و دماغ میں سخت پریشانی پیدا ہو گئی ہے۔دوتین خبریں مقبوضہ کشمیر کی جہاں اندرونی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں وہاں اس بات کی طرف ایک واضح اشارہ بھی ہیں کہ بھارتی ہندو توا کے پیروکار کس طرح شیطان کے چیلے بن کر امن کو دائو پر لگانے میں ایک سے بڑھ کر ایک وار کررہے ہیں ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved