تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

نبی اکرم ﷺ کی تعظیم و تکریم، ایمان کا حصہ


ملعونہ آسیہ کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت سے اعتبارات سے ناقابل فہم ہے۔حدیبیہ پیپر ملز میں کرپشن سے متعلق مقدمے کو سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کردیا تھاکیونکہ اپیل کا وقت گزر چکا تھاتو سوال یہ ہے کہ یہ اپیل time barredہونے کے باوجود کیوں زیر سماعت آئی؟فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے تاخیر سے درج کرانے کی وجہ سے معاملہ مشکوک ہوگیا اور شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے جبکہ اصل حقائق یہ ہیں کہ بعض وجوہات کی بنا پر توہین رسالت کیس کے اندراج یعنی ایف آئی آر کو کٹوانا انتہائی گھمبیر اور دقت طلب معاملہ بنا دیا گیا ہے۔اس پراسس کی تکمیل میں وقت لگتا ہے ۔ چونکہ بعض ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر کسی پر الزام لگادیا گیا کہ اس نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے تو ایسے کیسز میں احتیاط کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا جس کی وجہ سے یہ پراسس طویل ہوگیا۔ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے اس حوالے سے بھی بات واضح ہوگئی ہے ۔
رواں سال ماہ جنوری 2018ء میں انگریزی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کی تجدید کو ملعونہ آسیہ کی رہائی سے مشروط کردیا گیا ہے۔گویاپوری دنیا میں سب سے زیادہ قابل احترام خاتون دنیا کے نزدیک وہ بن گئی ہے جس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں اور پاکستان کے مقدر کو بھی اس کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔اس سے پہلے بھی جب یہ واقعہ ہوا تھا تو مغربی قوتوں کا دبائو آیا تھا ۔جب ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا تھا پیپلز پارٹی بر سر اقتدار تھی ۔اس وقت کی حکومت نے اسے رہا کرنے کا عندیہ دیا تھا۔سرکاری سطح پر سلمان تاثیر نے ملعونہ آسیہ کو تھپکی دی اور اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔اس کے ردعمل میں دینی جماعتوں نے متحد ہوکر ملک گیر تحریک چلائی تھی۔تحریک کے دوران دو بڑے جلسے ہوئے جس میں ایک لاہور میں اور دوسرا اس سے کئی گنا بڑا جلسہ کراچی میں ہوا تھا ۔وہ تحریک موثر ثابت ہوئی ۔تحریک کی جانب سے ملعونہ آسیہ کے بارے میں جو عدالتی فیصلہ آچکا تھا ، اس پر عملدرآمد کا مطالبہ سامنے آیا تھاکیونکہ اسے بیرون ملک بھیجنے کی تیاریاں ہوچکی تھیں اور مغربی دنیا اس کے استقبال کی منتظر تھی۔جب عوامی دبائو آیا تو حکومت کو اسے روکنا پڑا۔اس دوران سلمان تاثیر کو جس نے دینی غیرت کے نتیجے میں قتل کیا ، اسے فورا پھانسی دے دی گئی۔
ہمارا اصل معیار کیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔جب ملزمہ کو سزا نہیں دی گئی تو کیا عوام میں اس کا ردعمل پیدا نہیںہوتا؟ظاہر ہے کہ ان میں اشتعال پیدا ہوا۔ اگر انہیں مناسب طریقے سے گائڈ نہیں کیا جائے گا تو وہی ہوگا جو ہوا۔ ہماری معیشت قرض پر چل رہی ہے اور ہمیں بیرونی دھمکیاں مل رہی ہیں کہ جی ایس پلس کی تجدید نہیں ہوگی۔لہذا حکومتیں دبائو میں آتی ہیں۔بہرحال اصولی طور پر ہمارے اپنے قوانین طے شدہ ہیں۔ملکی قوانین کے تحت سزا بنتی ہے۔کسی دوسرے ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ہمارے ملکی قوانین میں ٹانگ اڑائے اور اپنی مرضی نافذ کرنے کی کوشش کرے لہٰذا حکمرانوں کے لئے ہماری نصیحت یہ ہے کہ وہ اسباب کی بجائے مسبب الاسباب پر توکل کریں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کی حدود میں سے کسی ایک حد کو نافذ کرنا اس برکت سے بڑھ کر ہے جو چالیس روز کی شبانہ روز بارش سے ہوتی ہے۔خوشحالی درکار ہے تو اس کے لئے اللہ کے حدود کو نافذ کرنا پڑے گا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تو ہمیں یہ رہنمائی دی ہے لیکن ہم کہاں جارہے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ایمان کمزور پڑچکا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں وعدہ فرمایا ہے کہ وہ لازماً مدد کرے گا ان کی جو اس کی مدد کریں گے۔اللہ کی مدد اس کے دین کا نفاذ ہے۔ہم ہیں کہ یورپی یونین کو راضی کرنے کے چکر میں ہیں۔
ہمارے ملک میں جو بھی دینی جماعتیں ہیں ان کے کرنے کا اصل کام یہی ہے۔یہ جماعتیں مل جل کر اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں۔بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد دینی جماعتوں کو یہی تلقین کیا کرتے تھے کہ ا لیکشن کا راستہ چھوڑ دیں اس کا کوئی فائدہ نہیں،اس کی بجائے تحریک کا راستہ اختیار کریں۔پاکستان خود ایک تحریک کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔وہ اس موقف پر 1957ء سے قائم تھے کہ اس ملک میں اللہ کا دین انتخابی سیاست کے ذریعے نہیں آسکتا ۔میں ان کی اس بات میں ایک اضافہ کررہا ہوں کہ پوری دنیا میں انتخابی سیاست کے راستے سے کسی بھی مسلم مملکت میں اسلام نہیں آیا۔اگر ایران میں انقلاب آیا تو وہ بھی ایک تحریک کے ذریعے ہی آیا۔ایرانیوں نے شہنشاہیت کے خلاف ایک عوامی تحریک برپا کی جس کی قیادت مذہبی رہنماکررہے تھے۔اس کے نتیجے میں شہنشاہ ایران کو وہاں سے دم دباکر بھاگنا پڑا۔عوامی تحریکوں میں جو اگر اسلام کے لئے شروع کی جائیں تو جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔ لیکن شہادت تو مطلوب و مقصود مومن ہے۔وہاں بیس پچیس افراد کی جانیں قربان ہوئیں ۔تحریک کی کامیابی کے بعد انہوں نے اپنے تصور دین کے مطابق نظام قائم کردیا۔پاکستان میں تو ہمیں ایک اور موقع حاصل ہے۔ہمارا دستور اسلامی ہے جس میں اللہ کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا گیا ہے گو کہ عملا ایسانہیں ہے۔
جب ہمیں دستور میں حق دیا گیا ہے کہ یہاں حاکمیت اللہ کی ہونی چاہئے تو اس کے لئے کھڑے تو ہوں۔دستور ہماری پشت پر موجود ہے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ غیر دستوری کام کررہے ہیں۔غیر دستور ی کام کی مرتکب تو قیام پاکستان سے اب تک کی حکومتیں کرتی چلی آرہی ہیں۔ہمارے ملک میں یہ کام عملی طور پراسی طرح ممکن ہے اور ہمیں یہی راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور تمام دینی جماعتوں کو بھی اسی رخ پر جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved