تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

اسرائیل ! ایک خوفناک تقریر اور برداشت کے بھاشن


وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جب کہا کہ ’’سپارکو فسادی سیاست دانوں کو خلاء میں بھیج کر واپسی کا راستہ بند کر دے‘‘ تو اس پر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ کی طرف سے ردعمل آیا کہ ’’ سپارکو نے اگر گزشتہ 5سالوں کی تحقیق کرکے فسادی سیاست دانوں کو خلاء میں بھیجا تو ایوان خالی ہو جائے گا کیونکہ اکثر فسادی حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘
حکومتی وزیروں اور اپوزیشن اراکین کے بیانات پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے اسمبلیوں سے لے کر دھرنوں تک ہر طرف فسادی ہی فسادی پھیلے ہوئے ہیں‘ سوال یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے والوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ مذہب کے معاملات میں مداخلت کرتے پھریں؟ پارلیمنٹ میں نہ تو تحریک لبیک ہے اور نہ ہی کوئی دوسری شدت پسند تنظیم‘ پھر وہاں بیٹھے ہوئے سیاست دانوں میں عدم برداشت کا رحجان کیوں ہے؟
صرف سیاست دان یا حکمران ہی نہیں بلکہ ہر شام ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر مولویوں اور مذہبی تنظیموں کو ’’برداشت‘‘ کے بھاشن دینے والوں کے اپنے اندر کتنی ’’برداشت‘‘ ہے؟
یہ بعض اینکرز نے اینکرنیاں‘ امریکی پٹاری کے دانش فروش اور ڈالر خور این جی اوز کے خرکار خود تو مولوی‘ مدرسے‘ مسجد یا مذہبی جماعتوں کا ذکر کریں تو ان کی آنکھوں سے شرارے اور منہ سے کف اڑنا شروع ہو جاتے ہیں‘ لنڈے کے لبرلز اور سیکولرز کا ہیرو عرصہ دراز سے جس قسم کے شدت پسندانہ انداز میں پروگرام کرتا ہے‘ کیا اس کے بعد بھی کسی لبرل کو مذہبی شدت پسندی کا راگ الاپنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟
یہ موم بتی مافیاء این جی اوز کے ہرکارے مذہب کے حوالے سے جس قسم کے غلیظ اور شدت پسندانہ خیالات کا اظہار کرتے ہیں… وہ سب کے علم میں ہے‘ ان کا مذہب پسندوں سے تو یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ کافروں کے جھوٹے خدائوں کو بھی جھوٹا نہ کہیں… لیکن خود اسلام کے سچے احکامات کو اعلانیہ جھٹلاتے ہوئے نہیں شرماتے ‘کیا لادینیت کی شدت پسندی سے بھرے ہوئے ان بتوں کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت میں رہنے والے 22کروڑ مسلمانوں کو’’برداشت‘‘ کے لیکچر دیتے پھریں؟
سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید نے اسرائیل‘ یہودیوں اور مسجد اقصیٰ کے حوالے سے جو گفتگو کی کیا وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ جس کا آئین بھی اسلامی ہے ،کے شایان شان ہے؟
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے ترجمہ: ’’ اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو‘ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت (یعنی اسلام) ہی ہدایت ہے اور (اے پیغمبر) اگر آپ اپنے پاس علم وحی کے آجانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو اللہ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا نہ مدگار‘‘ (سورہ بقرہ120) اس آیت کریمہ کی روشنی میں قومی اسمبلی کے فلور پر کی جانے والی عاصمہ حدید کی تقریر کا جائزہ لیا جائے تو انسان کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس طرح کے متنازعہ خیالات کے حامل خواتین و حضرات جس ملک کی سب سے سپریم اسمبلی میں بیٹھیں ہوں گے بس پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔
میں عاصمہ حدید کی اس متنازعہ تقریر کے الفاظ اپنے کالم میں اس لئے نہیں لکھ رہا تاکہ عوام میں اشتعال پیدا نہ ہو‘ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ خاتون یہودیوں سے دوستی کرنے کے حوالے سے قرآن و حدیث کی غلط تشریح کر رہی تھی تو اسپیکر یا کسی دوسرے رکن اسمبلی نے اسے روکا‘ ٹوکا کیوں نہیں؟ قرآن پاک کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر اکیاون‘ باون میں ارشاد خداوندی ہے کہ ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاری کو دوست نہ بنائو یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا‘ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘ تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق) کا مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ ہم زمانے کی گردش میں نہ آجائیں‘ پس قریب ہے اللہ تعالیٰ فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جنہیں چھپایا کرتے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔
ان آیات مقدسہ میں چند امور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں:
-1مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ کافروں کو اپنا دوست‘ معتمد‘ مددگار بنائیں‘ یعنی کسی مسلمان کو اس کا حق حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرے۔2۔یہود و نصاریٰ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ سے متحد ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں ایک دوسرے کے ولی یعنی مددگار بن کر اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے یا تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔3۔مسلمانوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ظاہری طور پر کلمہ پڑھ رکھا ہے لیکن ان کے دلوں میں نفاق کا بیج موجود ہے‘ وہ ہمیشہ بھاگ بھاگ کر یہود و نصاریٰ کی گود میں گرتے ہیں… اور کہتے ہیں کہ مشکل حالات میں یہ ہماری مدد کریں گے‘ غربت اور قحط کے وقت یہ ہمیں قرضے دیں گے‘ اور اگر پکے مسلمانوں کو شکست ہوگئی تو یہ یہود و نصاریٰ ہمیں مسلمان سمجھ کر نہیں ماریں گے۔
اس لئے وہ پہلے سے ہی اپنا تعلق یہود و نصاریٰ کے ساتھ جوڑ کر رکھتے ہیں اور ان کو بتاتے رہتے ہیں کہ ان نظریاتی مسلمانوں کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے جو آپ سے لڑ رہے ہیں‘ مندرجہ بالا آیت کریمہ ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہیں کہ جو لوگ جان کے خوف اور مال کے لالچ میں یہود و نصاریٰ کے معاون مددگار اور معتمد دوست بن جاتے ہیں تو خود ان کے اندر بھی آہستہ آہستہ یہودیت اور نصرانیت گھس جاتی ہے … وہ ایمان اور ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں‘ جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دیتا ہے تو یہود و نصاریٰ کے ساتھ عہد وفاداری کرنے والے یہ منافق بہت پچھتاتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتے ہیں۔
(جاری ہے)




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved