تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

قصہ ایک حکومت کی اہلیت اور صلاحیت کا


٭حکومت میں اہلیت ہے نہ صلاحیت:چیف جسٹس !O..پنجاب حکومت کی اہلیت، افسروں کے بار بارتبادلے !O..کور کمانڈر کا قانون کی حکمرانی اورجمہوریت کی حمایت کا اعلان !O..کراچی: ریسٹورنٹ سے چار سال پرانا گوشت پکڑاگیا !O..آزاد کشمیر میں اب بھی تین لاکھ طلبا والےزلزلہ زدہ سکول چھتوں کے بغیر ہیں: وزیراعظم پاکستان کووزیراعظم آزاد کشمیر کا مراسلہ !O..نوازشریف اور قائم علی شاہ کے خلاف نئے مقدمے !O..پنجاب: ناقص گوداموں میں ساڑھے چھ ارب روپے کی گندم سڑ کر ناکارہ ہوگئی، آٹے کی ملوں کا لینے سے انکار !O..مقبوضہ کشمیر میں مزید تین نوجوان شہید !O..سری لنکا کی سپریم کورٹ نے اسمبلی بحال کردیا!
٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ موجودہ حکومت میں نہ اہلیت ہے نہ منصوبہ بندی کی صلاحیت! چیف جسٹس نے یہ ریمارکس مختلف کیسوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ جناب محترم چیف جسٹس صاحب! بڑے احترام کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اس حکومت نے اہل اور باصلاحیت ہونے کا دعویٰ ہی کب کیا ہے؟ وہ تو پہلے دن سےملکی معاملات چلانے میں بے بسی کااظہار کررہی ہے کہ پیسے نہیں ہیں، افسرشاہی تعاون نہیں کررہی! اسحاق ڈار، پرویز مشرف، حسین حقانی، ایان علی کو عدالتوں کے بار باراحکام کے باوجود ملک میں واپس نہیں لا سکی، مہنگائی پر کنٹرول کرنے کی بجائے مسلسل اضافہ کیے جا رہی ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے آئے دن وزرا اورمشیروں کی تعداد بڑھانے پرزیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ مگر جناب والا، ایسی حکومت کس اہلیت کا مظاہرہ کرسکتی ہے جس کے وزرا عدالتوں میں منی لانڈرنگ اوردوسرے الزامات میں پیشیاں بھگت رہے ہیں،بھرپوراہلیت اور صلاحیت کا مظاہرہ ٹھوس اور مضبوط اکثریت والی حکومتیں ہی کرسکتی ہیں۔ بے چاری موجودہ حکومت کے پاس تو سادہ اکثریت بھی نہیں! دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے مانگے تانگے کے اکا دکاارکان کی مدد سے بمشکل حکومت بنائی ہے۔ مجبوری کہ اسمبلی میں صرف ایک نشست والی پارٹی کے رکن کو اس لیے وزیربناناپڑا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے جلسوں میں اس کی سٹیج پر سے پورا منہ کھول کر عمران خان کے حق میں نعرے لگایا کرتاتھا ۔ دوسرے وزرا کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ مختلف پارٹیوں سے گزرتے ہوئے وزارتی رزق کی تلاش میں تحریک انصاف کے درخت کی ٹہنیوں پر آبیٹھے اور ’’عمران خان کی خیر‘‘ کے راگ الاپنے لگے! بات ذرالمبی ہوگئی جناب والا! آپ یہ صورت حال بہتر جانتے ہیں ، صرف ایک بات کہ سابقہ دورمیں واضح اکثریت رکھنے والی بڑی پارٹیوں کی حکومت کی اہلیت کا یہ عالم کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں ایک سال سےزیادہ عرصے میں اعلیٰ ترین تحقیقات اور پیشیوں کے باوجود یہ پتہ نہ چلنے دیا کہ لندن والے فلیٹس کیسے بنائے گئے؟دبئی میں وسیع فارم اور پلازے کب، کیوں اورکیسے خریدے گئے؟ ( کسی سینماکی ٹکٹوں کی فروخت سے؟) ، سکوٹر سوار شخص کیسے وزیر خزانہ بنااور اربوں کھربوں کی جائیداد کامالک بن گیا؟ بہت سی باتیں ہیں۔ ایک مختصر کالم میں کیاکچھ لکھا جاسکتاہے؟ پشاور کے ایک معروف اداکار کی دلچسپ بات یا د آرہی ہے کہ بولوں یانہ بولوں؟بولاتو بولوگے کہ بولتاہے!
٭مرے کومارے شاہ مدار! بجلی کے نرخ پہلے ہی آسمان کو چھو رہے ہیں، اوپر سے قرضے لینے کی مجبوری کے باعث آئی ایم ایف کامطالبہ تسلیم کرلیاگیا ہے کہ حکومت کی طرف سے عوام کو بجلی کےبلوں میں دیاجانے والاایک کھرب46 ارب روپے کا ریلیف واپس لیاجائے گا۔ یوں شدید مہنگائی کے بوجھ تلے پسے ہوئے غریب عوام پر ایک کھرب46 ارب روپے کا مزید بوجھ پڑ جائے گا۔ اس پر کیا لکھاجائے؟
شرم ناک بات یہ ہے کہ ملک کو پچھلے دس پندرہ برسوں میں اس حالت میں پہنچانے والے سابق حکمران وڈیرے اقرار جرم کی بجائے موجود ہ حکومت کی بے بسی پر قہقہے لگا رہے ہیں!!
٭آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حید ر نے وزیراعظم پاکستان کو مراسلہ بھیجا ہے کہ آزاد کشمیر میں13 زلزلہ سے تباہ ہونے والے سینکڑوں تعلیمی اداروں میں سے 1316 سکول اب بھی چھتوں کے بغیرچل رہے ہیں۔ ان میں تین لاکھ طلبا و طالبات شدید گرمی، سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کررہے ہیں نیز 2272 زیر تکمیل منصوبے ادھورے پڑے ہیں۔ اس سلسلے میںکم ازکم 27ارب روپے کی مدد درکار ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے سکولوں کی حالت زار کا جو تذکرہ کیا ہے ، راوی نامہ میں ایک عرصے سے ایک مسئلے کو اٹھایا جارہاہے مگراسے حل کرنے کے لیے ریاستی حکمرانوں کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ راجہ فاروق حیدرنے 9 وزرا کے ساتھ وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھاتے وقت اعلان کیا کہ ان کی کابینہ صرف دس وزرا تک محدودرہے گی اور اب تک 26 وزرا ، چھ مشیر سامنے آچکے ہیں۔ ان سے پہلے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے وزرا، مشیروں اور خصوصی معاونین کی تعداد 82 تک پہنچ گئی تھی۔ ن لیگ کی موجودہ ریاستی حکومت کو اسمبلی میں37 ارکان کی حمائت حاصل ہے۔ صرف پانچ ارکان باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی کسی روز جھنڈے والی گاڑیوں میں بیٹھ جائیں گے۔ سینکڑوں سکولوں کی چھتیں اسی طرح رہ جائیں گی،2272 منصوبے اسی طرح ادھورے رہ جائیں گے تو کیا فرق پڑ جائے گا۔ عوام کی عادت ہے کہ شور مچاتے رہتے ہیں!
٭پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے خلاف ایک جیسے الزامات کے تحت نئی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ نوازشریف پر الزام ہے کہ پاک پتن میں حضرت بابا گنج بخشؒ کے مزار کے ساتھ اوقاف کی زمین اپنے منظور نظرافراد کو الاٹ کردی،انہوں نے اس پر مارکیٹ بنالی۔ قائم علی شاہ پرالزام کہ ملیر (کراچی) کی وسیع زمانہ بحریہ فاؤنڈیشن کو عنائت فرمادی! دونوں حضرات کو تحقیقات کے سلسلے میں طلب کرلیاگیا ہے! پنجابی کاایک محاورہ ہے کہ سرپر سے ایک بوجھ اترتا نہیں اور اس پر دوسرا بوجھ لاددیا جاتا ہے!
٭خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں سگریٹ اورنسوار کے استعمال پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ پابندی تو پہلے دن سے ہی عائد ہونی چاہئے تھی۔ گزشتہ روزمیں نے دفتر میں ایک نوجوان کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ایک سگریٹ تقریباً آٹھ روپے میں پڑتا ہے اور زوردار خواہش کے باوجود روزانہ صرف دس سگریٹ پیتا ہے۔ میں نے پوچھاکہ گھر جاتے وقت بچوں کے لیے کوئی پھل وغیرہ لے جاتے ہو؟ کہنے لگا کہ اتنی تنخواہ ہی نہیں جوگھر روزانہ کچھ لے جا سکوں! یعنی وہ نوجوان روزانہ 80 روپے( ایک کلو دودھ) کے سگریٹ دھوئیں کی شکل میں اڑا دیتا ہے مگر 30,20 روپے کی کوئی چیز گھرنہیں لے جاسکتا۔ نسوار کا نشہ تو ویسے ہی نشہ تو گندی چیز ہے۔ اسے استعمال کرنے والا جگہ جگہ تھوکتا پھرتا ہے مزید یہ کہ حالیہ تحقیقات کے مطابق سگریٹ پینے سے ٹی بی اور نسوار کے استعمال سے گلے کا کینسر عام ہورہاہے! مگر! اب تو تعلیمی اداروں میں ہیروئن جیسا ، ہڈیوں کو گلادینے والا فالج انگیز نشہ بھی عام ہورہاہے۔ دو روزقبل راولپنڈی کے ایک تعلیمی ادارے کے باہر ایک ہیروئن فروش کو گرفتار کیاگیا جوایک عرصے سے طلباو طالبات کو یہ مذموم چیز فروخت کر رہا تھا! استغفار!
٭کراچی: ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھاکر دو بہت کم سن بچے جاں بحق ہوگئے ۔ سندھ فوڈ اتھارٹی نے تفتیش کی تواس ریسٹورنٹ کےایک گودام کے ریفریجر یٹوں میں بھاری مقدار میں چارسال پراناگوشت برآمد ہوا جوگل سڑچکا تھا اس کے شدید تعفن سے چھاپہ مار ٹیم کے ارکان الٹیاں کرنے لگے! یہ گوشت بیرون ملک سے درآمد کیاگیاتھااور چار سال قبل اس کے استعمال کی مدت ختم ہوگئی تھی ۔ اس انتہائی مذموم کاروبار کے مالکان کی کم ازکم سزا سرعام کوڑے مارنے چاہئیں۔ دو بچوں کی ہلاکت تو سیدھی پھانسی کے تختے پر لے جاسکتی ہے! مگرمسئلہ یہ ہے کہ سندھ فوڈاتھارٹی چار سال تک کہاںسوئی رہی؟ اور انتہائی ستم یہ کہ پورے سندھ میں بدبودار گوشت اوردوسری ایسی گلی سڑی اشیا کے تجزیہ کے لیے کوئی لیبارٹری ہی موجود نہیں! سندھ پرایک شاہی طبقہ عرصے سے اقتدارکے ایوانوں پر قابض ہے مگر پورے صوبے میں کوئی فرانزک لیبارٹری موجود نہیں اوراب یہ گلا سڑا گوشت ٹیسٹ کے لیے لاہور بھیجا جارہاہے! ایسے حکمرانوں کی حکمرانی کے لیے کیا الفاظ استعمال کیے جائیں؟ سوائے اناللہ واناالیہ راجعوان!
٭آصف زرداری کی بڑی بیٹی بختاورزرداری نے سوال کیا ہے کہ کیا احتساب صرف سیاسی منتخب لوگوں کا ہی ہوسکتا ہے؟ بیٹاجی! یہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 70 ارب روپے سےزیادہ کی منی لانڈرنگ والے سارے لوگ غیر سیاسی ہیں! لاہور کے بڑے افسر احد چیمہ اور فواد حسن فواد تو سرکاری افسر ہیں، سابق آئی جی مقدمے بھگت رہے ہیں۔ یہ بھی غیر سیاسی ہیں۔ ہاں بیٹاجی! یہ تو بتایئے کہ آپ کے والد صاحب باربار دبئی کیا کرنے جاتے ہیں؟




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved