تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

وزیراعظم عمران خان کا سی پیک کے منصوبوں پرنظر ثانی کاعندیہ


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے سی پیک کے منصوبوںپرنظر ثانی کافیصلہ کیاہے ، منصوبوں کا ازسر نو جائزہ لے رہے ہیں اور بلوچستان کو اس کا جائز حق دیں گے ،بلوچستان کے ساتھ بطور پارٹنر کام ، جائز حق دینگے ، سی پیک پر تحفظات دور کرینگے ۔
کوئٹہ ایئربیس پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم عمران خان کو بلوچستان کی سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو خوشحال بلوچستان کے تحت صوبے کی سماجی و معاشی ترقی پر اور سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی اور پاک افغان سرحد پر باڑ میں پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔کوئٹہ میںصوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کا عندیہ دے کر منظر عام پر آنے والی ان اطلاعات کی تصدیق کررہی ہے کہ سی پیک منصوبوں پر حکومت کے تحفظات ہیں ۔
ہماری رائے میں اپوزیشن کی طرف سے اس حوالے سے حکومت کیخلاف مہم چلائی گئی تھی اور یہ تاثر دیا گیا تھا کہ سی پیک کو رول بیک کیا جارہا ہے لیکن یہ حکومت کا حق ہے کہ وہ سابق دور حکومت مین ان منصوبوں کی تفصیلات جزئیات اور معاہدوں میں پاکستان کے نفع و نقصان کا جائزہ لے اور شفافیت کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں پاکستان کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس ضمن میں چینی حکومت کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان منصوبوں کو پوری شدت کے ساتھ رات دن ایک کرکے مکمل کیا جانا چاہئے اور اس بات کو دیکھا جانا بھی ضروری ہے کہ ان منصوبوں میں پاکستانی ہنر مندوں اور ماہرین کا چینی ماہرین کے مقابلے میں تناسب کیا ہے اور کیا ان منصوبوں میں عملی شراکت میںپاکستانی ہنرمندوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے کہ نہیں۔ ہماری رائے میں سی پیک منصوبوں کے حوالے سے ماضی میں روٹ کے حوالے سے کھینچاتانی سے جو نقصان پہنچایا گیا اور اسی وجہ سے منصوبوں پر کام کی رفتار بھی سست روی کا شکار رہی اس کا جائزپہ لینا بھی ضروری ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے گا۔ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو فعال کیے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔
امر واقع یہ ہے کہ بلوچستان سونا، تانبا، کوئلہ اور کرومائیڈ کے بڑے ذخائر رکھتا ہے جسے دریافت کرنا تاحال باقی ہے اگر صرف سونا، چاندی، کرومائٹ اور کوئلے کے ذخائر سے ہی فائدہ اٹھا لیا جائے تو اربوں روپے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور پاک چین اقتصادی راہداری بھی ایک بہترین موقع ہے۔اس منصوبے سے سب سے زیادہ بلوچستان کو فائدہ ملنا چاہئے اور بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کیلئے تمام اقدامات اٹھانے ہونگے ۔بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ عمران خان کا کہنا درست ہیکہ دنیا میں کوئی معاشرہ کرپشن پر قابو پائے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پڑوسی ملک نے چارسال میں کرپشن میں ملوث چار سوافسران کو جیلوں میں ڈالا۔ کرپشن کے ذریعے انسانوں پر خرچ ہونے والا پیسہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور کرپشن کے لیے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں اور جب ادارے تباہ ہو جاتے ہیں تو ملک کمزور ہو جاتا ہے۔ہماری رائے میں پاکستان میں بدعنوانوں کی گرفتاریوں پر چیخ و پکار اسی لئے ہے کہ ان سے لوٹ مار کی کمائی واپس نہ لی جاسکے اور اسے جمہوریت کو خطرات کی دھول میں چھپادیا جائے لیکن جاری احتسابی عمل کو آگے بڑھنا چاہئے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved