تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

دیواریں بحال…ٹرمپ کا خط


٭لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا عمل روک دیاگیا !O..امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کو خط، امریکہ سے تعاون کرنے کی ہدائتOعمران خان کا انٹرویو، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر تنقید، ہمارے اختیارات میں مداخلت کیوں؟ Oافغانستان پر چھ ماہ میں 10ہزار بم گرائے گئے !Oشہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اثاثوں میں کروڑوں کا اضافہ !O پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کے تیار کردہ قرآن مجید کے انسائیکلو پیڈیا (8جلدیں) کی تعارفی تقریب !O پرویز الٰہی کا بھی احتساب کی زدمیں آنے کا امکان ، وزیراعلیٰ کے طورپر جنگلات کی حد بندی میں گھپلا، ریفرنس کاامکان !
٭وزیراعظم عمران خان نے ذاتی حکم پرگورنر ہاؤس لاہورکی دیواریں گرانے کا حکم دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس مامون الرشید نے کچھ شہریوں کی درخواستوں پر حکم امتناعی میں کہا کہ دیواروں کی ایک اینٹ بھی گرائی گئی تو سب جیل میں جائیںگے۔ اس حکم میں دو اہم قانونی پہلو سامنے آئے۔ ایک تویہ کہ گورنرہاؤس صوبوں کی ملکیت ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت ان میں گورنر تو بھیج سکتی ہے، ان میں کوئی تبدیلی کرناچاہے تو متعلقہ صوبائی حکومت ( کابینہ) سے اجازت لینا پڑتی ہے، اس کیس میں ایسانہیںکیاگیا بلکہ عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت میں خود ہی دیواریں گرانے کا حکم جاری کردیا۔ دوسرا پہلویہ ہے کہ قانون کے تحت ایک خاص مدت(100سال!) کے بعد پرانی عمارتیں تاریخی قرار پا کر محکمہ آثار قدیمہ کے تحت آ جاتی ہیں۔ انہیں مسمار کرنے یا ان میں کسی تبدیلی کے لیے محکمہ آثارقدیمہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔عمران خان نے یہ تکلف بھی نہیںکیا(گورنر ہاؤس130 سال پہلے بناتھا)۔ ہائی کورٹ میں درخواست گزاروںنے ایک اہم مسئلہ یہ پیش کیا کہ دیواریں گرانے والے سینکڑوں مزدوروں کولاکھوں روپے کی مزدوری دینی ہوگی، کروڑوں روپے کے لاکھوں من وزنی جنگلے خریدے جائیں گے، انہیں نصب کرنے، ان پر لائٹیں اورخار دار حفاظتی تاروں کے گچھے لگانے پربھی بھاری اخراجات اٹھیں گے، ملک کے خزانے شدید بدحالی بلکہ دیوالیہ پن کے شکارہیں، گورنرہاؤس کی دیواروں کی تعمیر نو کے ناقابل برداشت اخراجات کون ادا کرے گا؟ فاضل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ گورنرہاؤس کی طرح کل شاہی قلعہ کی دیواریں بھی گرانے کا حکم جاری ہوسکتا ہے۔
٭امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں بے ہودہ گوئی کی ۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں نے دو ٹوک سخت جواب دیا تو ٹرمپ کا دماغ چکراگیا۔ اس نے وزیراعظم کو مٹھائی کے ڈبے میں زہریلی گولیوں پر مٹھائی جما کر ’محبت پیار‘ کا ایک خط بھیجا ہے کہ حضور! آپ تو ناراض ہو گئے! ہم تو آپ کے دوست ہیں۔ آپ کے ملک نے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے بہت بہادر انہ کام کیا ۔ افغانستان میں پاکستان کے تعاون کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ کرِپا کیجئے، افغانستان میں امن قائم کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون( ڈ ومور) کریں ( پچھلے 10 ماہ میں افغانستان میں چھ ہزار بم برسائے گئے)۔ اس ’تعاون ‘کا اشارہ پھر دے دیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈے ختم کیے جائیں (مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو گرفتار کیا جائے)۔امریکہ دنیا بھر میں خوار اور پسپا ہو رہاہے۔ ویت نام کی 17 سالہ جنگ میں58 ہزار امریکی فوجی مروا کر بھاگ گیا۔ کوریا ،افغانستان اور عراق میں ہزاروں فوجی مروا چکا ہے۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ ضائع کیاہے، بے شمار دوسرے اخراجات الگ ہیں۔ ہر امریکی فوجی کواعلیٰ کھانا، اعلیٰ شراب، بے شمارالاؤنس اور دوسری سہولتیں دی جاتی ہیں۔ امریکہ چین کا بھاری مقروض ہے اس کے خلاف بھاری ’’محصولاتی ٹیکس ‘‘ عائد کیے، تجارتی پابندیاں لگادیں ۔ چین نے آنکھیں دکھائیں تو گزشتہ روز کی خبر کے مطابق یہ پابندیاں واپس لے لی ہیں۔
امریکہ کی ان ’’بہادرانہ‘‘ قلابازیوں پر مجھے لندن کے مرکزی عجائب گھر میں شیشے کے بکس میں بند ایک بڑا اژدھا اورایک چوہے کا چھوٹا سا بچہ محفوظ رکھا گیاہے۔ اوپر ایک تحریر ہے کہ اصلی بہادر کون؟ کہانی یہ ہے کہ چڑیا گھر میںبند اس اژدھا کو کھانے کے لیےروزانہ چوہے ڈالے جاتے تھے۔ ایک روز چوہوں کے ساتھ ایک نوزائیدہ چوہا بھی گیا جس نے ابھی آنکھیں کھولنا شروع کی تھی۔ اژدھا نے اس کی طرف منہ بڑھایا تو چوہے کے بچے نے اس کی ناک پر دانت مار دیا ۔ اژدھا کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں ہواتھا ۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا۔ اس کی ناک کا زخم خراب ہوگیا اور وہ اسی سے مر گیا۔چوہے کی آنکھیں کھلیں تو اژدھا کی دہشت سے بے ہوش ہوگیا۔ عجائب گھروالوں نے دونوں محفوظ شدہ جسم ایک جگہ رکھ کر اوپر لکھ دیا کہ ’’اصلی بہادر کون؟‘‘ قارئین کرام خوداندازہ لگائیں کہ اس کہانی کا کیا مطلب نکلتا ہے؟
٭ایک اہم داستان: جنرل پرویز مشرف نے 2007 میں بے نظیربھٹو کے ساتھ دبئی میں این آر او( مفاہمت کا معاہدہ) کیا۔اس کے تحت سیاست دانوں کے خلاف آٹھ ہزار سے زیادہ مختلف سنگین مقدمے ختم ہوگئے ان میں آصف زرداری اور خود بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی اہم مقدمے شامل تھے ( سوئس اکاؤنٹس وغیرہ)۔ کچھ عرصے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاہدہ کو کالعدم قراردے دیا اور مقدمے بحال ہو گئے۔ اس پر امریکہ کی وزیرخارجہ کنڈولیز رائس کو سخت غصہ آیا کہ یہ معاہدہ تو اس نے کرایاتھااسے سپریم کورٹ نے کیوں ختم کیا؟ کنڈولیزرائس نے ریٹائر ہونے کے بعد نوہائر آنرز(NO HIGHER HONORS)کے عنوان سے کتاب لکھی ۔اس میں اس نے لکھا کہ ’’میں نے مسلسل کئی راتیں جاگ کر دبئی میں بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان دو ملاقاتیں کرائیں اورمعاہدہ طے کر ایا۔ ( معاہدہ کے مطابق مقدمات کے خاتمہ کے علاوہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم بنناتھا اورپرویز مشرف نے مزید پانچ سال صدر رہناتھا)۔کنڈولیزرائس نے کتاب میں یہ معاہدہ ختم کئے جانے پر سخت تنقید کی ہے۔ ’بھولے بھالے‘ آصف زرداری کے خلاف آٹھ سنگین مقدمات ختم ہوگئے۔ موصوف فرما رہے ہیں کہ مجھے تو اس معاہدہ کا علم ہی نہیں تھا، اس سے میرا تعلق ہی نہیں تھا!! اس پر کیا تبصرہ کیاجائے؟
٭سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے اثاثوں کی تفصیل اخبارات میں چھپ چکی ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں صرف یہ کہ 2013 کے انتخابات میں شہباز شریف نے دس کروڑ اوربیٹے حمزہ شہباز نے 32 کروڑر وپے کے اثاثے ظاہر کیے تھے۔ الیکشن کمیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق2018 کے الیکشن گوشواروں کے مطابق شہباز شریف کے اثاثے 27 کروڑ اور حمزہ شہباز کے اثاثے 41 کروڑدکھائے گئے۔ اس طرح شہبازشریف اور حمزہ شہبازکے اثاثوں میں5 سال کے دوران 17 کروڑ اور 9 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا( پانچ سال میں17 کروڑ کا اضافہ!) ۔ سارے تبصرے سرفراز سید نے ہی نہیں کرنے، قارئین خودبھی کوئی تبصرہ کریں!
٭پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری جیّد عالم دین، بہت بڑے استاذ،مصنف، قانون دان خاص طورپر اقبالیات کے بہت ممتاز ماہر ہیں۔ میں نے خاتم النبین آنحضوؐر کی مقدس سیرت اور اقبالیات پر ان کے بہت سے لیکچر سنے ہیں اور بہت متاثر ہوا ہوں۔ مختلف اسلامی و دوسرے علوم پر ان کی بارہ سو سے زیادہ ضخیم کتابیں آچکی ہیں۔ جودنیا کے مختلف ممالک میں پڑھائی جارہی ہیں۔ ان میں دہشت گردی کے خلاف ان کی ضخیم کتاب کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔ دنیا بھر(74 ممالک )میں ان کے دینی مراکز قائم ہیں۔ اب ان کا ایک نہائت اہم اور قابل قدر کا رنامہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے آٹھ ضخیم جلدوں پرمشتمل قرآن مجید کا انسائیکلوپیڈیا شائع کیا ہے۔ یہ کام کسی بڑے ادارے کا ہے۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے تنہا یہ نہائت نادراور تاریخی کام کیا ہے۔ اس انسائیکلو پیڈیا کی گزشتہ روز لاہورمیں تعارفی تقریب ہوئی۔ اس میں گورنر پنجاب اور ملک بھر سے ممتاز علما اور دوسری شخصیات شریک ہوئیں۔ میں جناب طاہر القادری صاحب کو اس عظیم کارنامے پر ہدیہ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں ان کی سیاست کا بہت مخالف رہاہوں مگر اس موقع پر اس کا ذکرمناسب نہیں صرف یہ کہ وہ سیاست میں نہ ہی آتے تو بہت مناسب ہوتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، تندرستی اورایسے مزید کارنامے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے!




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved