تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

کرتارپور‘ وزیراعظم‘ جنرل باجوہ اور گگلی


گوردوارہ کرتارپور‘ آجکل پوری دنیا میں زیر بحث ہے۔ ضلع چکوال کے چواسیدن شاہ تحصیل میں واضع ہندو مقدس مقام کٹاس راج کافی عرصہ سے زیر بحث ہے۔ ضلع ناروال کے سرحدی علاقے میں واقع گوردوارہ کرتارپور کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ بابا گرو نانک جی نے اپنی زندگی کے آخری18 سال اسی جگہ قیام اور عبادت میں گزارے اور ان کی موت اسی مقام پر واقع ہوئی تھی۔ سکھ کرکٹر‘ سیاستدان‘ میڈیا شخصیت نوجوت سنگھ سدھو‘ وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو تھے‘ وہ آئے اور جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان سے نہایت مذہبی اور معصوم سا تقاضا کیا کہ گوردوارہ کرتارپور کی زیارت کے لئے آئے بھارتی سکھوں کے لئے سرحد کھول دی جائے۔ جنرل باجوہ اور وزیراعظم نے سکھ عوام کے نہایت جائز ‘ مقدس اور معصوم جذبے کو پذیرائی بخشی اور بھارت میں قیام پذیر سکھوں کی آمد اور زیارت کے لئے غیر مشروط طور گوردوارہ کرتارپور کے دروازے کھول دیئے۔ مجبوراً بھارت نے بھی ہاں کہہ دی اور اپنے دو وزراء تقریب میںشرکت کے لئے بھیجے۔ جس طرح کرتارپور کو اہمیت ‘ شہرت نوجوت سنگھ سدھو کی آمد ‘ وزیراعظم اور آرمی چیف کے نوجوت کی خواہش پورا کرنے میں ملی یہی صورتحال کٹاس راج کی ہے جو ہندوئو ں کے لئے مذہبی مقدس مقام ہے۔ اسے شہرت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے سبب ملی ہے مگر ان دونوں کو نمایاں اور واضح طور پر سامنے لانے کا اصل اعزاز محمد سلیم بی موجودہ چیئرمین پیمرا کو حاصل ہے۔ محمد سلیم بیگ وزارت اطلاعات سے وابستہ رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق‘ گورنمنٹ کالج لاہور کے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اور پھر ایم اے تاریخ بھی۔ کچھ عرصہ گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرار بھی رہے اور پھر وزارت اطلاعات میں چلے آئے۔ میرا ان سے تعارف پی ٹی ایف حکومت کے عہد میں ہوا جب وہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ بطور پریس سیکرٹری وابستہ تھے۔ میں نے وزارت اطلاعات میں محمد سلیم بیگ کو واحد ایسا افسر پایا جو سماجی و معاشرتی اور سیاسی شعور کی عظیم نعمت سے نوازے گئے ہیں۔ وہ اکیلے نادر ابلاغی اثرات‘ تاثرات اور امیج بلڈنگ کے سماجی ابلاغی فن سے آشنا ہیں۔ مکمل پیشہ ور ابلاغیات کے سیاسی و سماجی وجود کا فہم و ادرک رکھنے والے۔ جب وہ2015 ء میں وزارت اطلاعات ہیں ڈائریکٹر جنرل الیکٹرانک اینڈ پبلیکشن تھے تو انہوں نے بہت سے نادر کارنامے سرانجام دیئے ان میں سے قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کا اصلی مواد سامنے لانا‘ گوردوارہ کرتارپور اور کٹاس راج کی ڈاکو مینٹریاں بنوانا تاریخی طور پر اہم ترین ہیں۔ جب انہوںنے گوردوارہ کرتارپور کی ڈاکومینٹری بنوائی اور اسے عام کیا تو انہیں کینیڈا‘ امریکہ‘ ملائیشیا‘ انڈیا‘ برطانیہ سے سکھوں نے رابطہ کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوںنے سکھوں نے مقدس کی زیارت عنایت کی ہے۔ یہی صورتحال کٹاس راج کی ہے۔ اگرچہ میں گزشتہ کالم میں کرتارپور کے حوالے سے جنرل قمر جاوید اور وزیراعظم کو مبارکباد دے چکا ہوں اور کرتارپور عمل کی تحسین کرچکا ہوں تاہم اس معاملے کے اصل تخلیق ہیرو کردار تو موجودہ چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ ہیں۔ لہٰذا میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صرف ذاتی نمائش‘ تصنع کا نام ہے سیاستدانوں میں اقتدار کی خواہش فطری بات ہے مگر یہ کیا کہ وہ ہر لمحے وزیراعظم عمران خان کو ہی عملا ً غیر موثر کرنے اور خود کو ان سے بڑا سیاسی وجدان سے مالا مال بناکر نمایاں کرتے رہتے ہیںتاکہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ عمران خان نہیں بلکہ صلاحیتوں کے اعتبار سے تو اصل میں وہی وزیراعظم بننے کے اہل تھے اور ہیں انہوں نے ماضی میں امریکی وزیر خارجہ کی آمد کے بعد جو میڈیا سے بات چیت کی تھی وہ بالکل غیر ضروری بلکہ صرف اپنی ذات کو نمایاں کرنا غیر محبوب عمل تھا۔ اب انہوں نے ’’گگلی‘‘ والا بیان کر دیکر وزیراعظم عمران خان اور جنرل باجوہ کے خلوص ‘ حسن نیت او ر پاک بھارت تعلقات میں انسانیت کے لئے جذبات کو نمایاں کرتے عمدہ ترین عمل کو نہایت نقصان سے دوچار کرکے غیر موثر کردیا ہے۔ اگر انہیں سشما سوراج نے پکڑا ہے تو بالکل درست پکڑا ہے کیا ایسے خود کو قدم قدم پر نمایاں کرتے کردار کو ہمارا وزیر خارجہ ہونا چاہیے؟ یہ فیصلہ تحریک اانصاف خود کرے جس میں باہمی افہام و تفہیم موجود ہی نہیں ہے ہر کوئی افلاطون اور ہر کوئی ارسطو ہے۔
ڈالرکے حوالے سے ایک وزیر کے بیان سے کتنی تباہی ہوچکی اس کے باوجود وہ ماشاء اللہ کراچی والے ہوکر وزیر ہیں۔ ہم وزیر خزانہ سے حوالے سے ہرگز کچھ نہیں کہنا چاہتے ۔ ہمیں سیاستدانوں کی نہیں اب ہمیں مدبرین و زراء کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے بھار ت سے آئے ہوئے صحافی نمائندوں سے جس طرح ابلاغی معاملہ کیا اس سے دل خوش ہوگیا ہے۔ جرات سے مگر تدبر و فراست سے بھی وزیراعظم نے بھارتی صحافیوں سے بات چیت کی اور ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور مظلوم کشمیریوں کو ا س گفتگو سے عالمی منظر نامے میں مناسب جگہ ملی ہے ۔
اختتام دسمبر تک مذہبی شدت پسند جذبات پر مبنی تحریک احتجاج نمایاں ہوتا محسوس کرتا ہوں۔ اگر یہ معاملہ زیادہ خطرناک ہوگیا ہے تو شاید بادل نخواستہ ایمرجنسی لگانا پڑے گی اور کچھ مزید سخت فیصلے بھی جن سے مذہبی شدت پسندی اور تعصبات سے فوائد اٹھانے والوں کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ جنوری کے آخری ہفتے میں وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کا آپشن استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اتحادیوں کے ہاتھوں قدم قدم پر بلیک میل ہورہے ہیں۔ جنوری کا آخری عشرہ بہت دلچسپ اور اہم ترین واقعات اور فیصلوں کو طلو ع کرتا نظر آتا ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved