تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

دہشت گردی میںبھارت اور امریکہ کا کردار


پاکستان کو اس وقت چاروں طرف سے بین الاقوامی طاقتوں نے گھیرا ہوا ہے اور جب سے چین کے ساتھ پاکستان کا گوادر سی پیک کا معاہدہ ہوا ہے ان شاء اللہ تعالیٰ پاکستان ایشیا کا ٹائیگر بن کر اُبھرے گا۔ بھارت نے گوادر اور سی پیک کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لئے نیوی کے کمانڈر کل بھوشن یادیو کو بھارتی خفیہ ایجنسی میں ڈیپوٹیشن پر لے کر ایران کی چاہ بہا بندرگاہ کے ذریعے پاکستان میں داخل کیا تھا اور اس نے نہ صرف بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، قلات، خضدار، سبی، حب اور گوادر میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے بم دھماکے کرائے تھے بلکہ کراچی میں کافی عرصہ قیام کرکے یہاں بھی را کے نیٹ ورک کے لئے کام کرتا رہا اس کے ذہن میں شاید یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور دوسرے ادارے سو رہے ہیںیا ان کو بالکل پتہ نہیں ہے لیکن درحقیقت پاکستان کے خفیہ ادارے اللہ کے فضل و کرم سے نہ صرف چوکس ہیں بلکہ ہر وقت اس کی کڑی نگرانی بھی کرتے رہے تھے اور تمام ثبوت حاصل کرنے کے بعد اسے کوئٹہ سے بمعہ نیٹ ورک کے گرفتار کیا تھا۔
پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی 2001ء سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور 75 ہزار سے زیادہ فوجیوں اور شہروں نے اس جنگ میں قربانی دی ہے۔ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے منصوبے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ہیڈ کوارٹر دہلی اور افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تیار کئے جاتے ہیں اور پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے۔ اتنی قربانیاں دینے کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی خدمات کو یکسر نظر انداز کرکے نہ صرف دو سال سے امداد روکی ہوئی ہے بلکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکی کانگریس اور امریکی سینیٹ میں گمراہ کن تقریر سے متاثر ہو کر مقبوضہ کشمیر میں جہاد میں مصروف تنظیموں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا اور امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان پر حملوں کانہ صرف صاف بیان دے دیا تھا بلکہ پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کیا ہوا ہے جس کا جو اب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں دیا تھا اوراب وہ بھیگی بلی بن کر پاکستان سے صلح کرنا چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے بعد امریکہ فتح حاصل نہیں کر سکا ہے اب اسے مزید بکروں کی ضرورت ہے تاکہ ان کی قربانیوں سے فائدہ اُٹھا سکے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس بات کو صدق دِل سے تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں 75 ہزار سے زیادہ فوجی اور سویلین قربانیاں دی ہیں اور 20 کھرب روپیہ سے زیادہ کا نقصان اُٹھا چکا ہے۔ اس رقم کے اعداد و شمار وزارتِ خزانہ حکومت پاکستان نے مصدقہ دئیے ہیں۔
پاکستان کی معاشی ترقی امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کو پسند نہیں آرہی ہے امریکہ کا منحوس اور پاگل صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس دن پاکستان کے خلاف بیان دیتا ہے اس کے دوسرے دن پاکستان میں داعش دہشت گردی شروع کر دیتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ 2001ء میں امریکہ اور کٹر یہودیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے ساتھ امریکہ میں بڑے بڑے تجارتی مراکز گرا کر صلیبی جنگ مسلمانوں کے خلاف شروع کی تھی وہ نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ روز بروز ان کی لالچ اور حرص مسلمان ممالک کے مال و دولت ، سونا چاندی، ہیرے جوہرات، تیل، گیس اور قیمتی پتھروں کی طرف لگی ہوئی ہے چھ وسطی ریاستوں میں چھ کھرب ڈالرز سے زیادہ پیٹرول، سونا اور چاندی کے ذخائر ہیں اس کے علاوہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان ، شمالی علاقہ جات اور جنوبی وزیرستان معدنیات سے بھرا پڑا ہے جبکہ افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں بھی خاصی مقدار میں معدنیات موجود ہیں۔
اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں اللہ کے فضل و کرم سے پیٹرول، گیس اور 400 سال سے زیادہ کا کوئلہ بجلی بنانے میں کام آئے گا ملا ہے۔ اس لئے انہوں نے اسلام کا قلعہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی تباہی و بربادی کا خدانخواستہ شدید منصوبہ بنایا ہوا ہے اور پاکستان میں کالعدم طالبان کو اور دوسرے بلوچستان کے باغی گروپوں کو افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی اے، اسرائیل کی سیکرٹ سروس موساد اور امریکی سی آئی اے نے ٹریننگ دے کر پاکستان میں خودکش حملوں کے ذریعے بہت تباہی و بربادی پھیلائی تھی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں معصوم بچوں کی جانوں کے لینے کے بعد ان دہشت گردوں کے خلاف پورے پاکستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا جو کامیاب رہا تھا بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کراچی میں ان دہشت گردوں سے جان بڑی مشکل سے چھوٹی تھی۔ اب آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں، رینجرز، ایف سی، پولیس اور عام شہریوں نے اپنے خون سے وطن کو بچانے کے لئے جو آبیاری کی ہے وہ قابل ستائش ہے اور پوری پاکستانی قوم اس قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
امریکہ داعش کے ذریعے صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ حال ہی میں کراچی کلفٹن میں چینی قونصل خانہ پر حملے کی جتنی بھی شدید مذمت کی جائے کم ہے۔ پولیس کے دو جوان شہید ہوئے ہیں اور تینوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کے ہوتے ہوئے دہشت گرد گاڑی میں اسلحہ وبارود کے ساتھ کلفٹن میں چینی قونصل خانہ کیسے پہنچے تھے اور انہیں ویزہ سیکشن کے ذریعے داخلے کا بھی پتہ تھا۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ چینی قونصل خانہ میں کالی بھیڑیں موجود ہیں جنہوں نے تفصیلات دی ہوں گی۔
اس کے علاوہ سندھ پولیس میں نئی سیکورٹی پولیس میں ہزاروں جوانوں اور افسروں کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا ہوگا ان کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے اور سرکاری خزانے پر بوجھ ہیں۔ اس فورس کو ختم کرکے علاقہ پولیس کی کارکردگی کو مثالی بنایا جائے اور ان کا بجٹ علاقہ پولیس کے حوالے کیا جائے۔ کراچی کے واقعے میں را کے ملوث ہونے کے پورے امکانات ہیں۔ دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا میں جو خودکش دھماکہ اورکزئی میں ہوا ہے اس میں بھی داعش کے ملوث ہونے کے قوی امکانات ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved