تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

معاشی بحران ٹل گیا،مخالفین غلط فہمیاں نہ پھیلائیں:وزیر خزانہ


وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی بحران ٹل گیا اس حوالے سے ہیجانی کیفیت پیدا کرنادرست نہیںغلط فہمیاں نہ پھیلائی جائیںکاروبارچلنے دیں ملک میں جلد بھاری سرمایہ کاری آئے گی، برآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ خسارے میں کمی آرہی ہے۔ وہ منگل کو گیارہویں جنوبی ایشیائی اقتصادی سمٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
ملک میں امریکی ڈالر کی قیمت یکدم بڑھنے کے نتیجے میں آنے والے مالی بحران سے ہر پاکستانی متفکر تھا ۔ بعد ازاں ڈالر کی قیمت کسی قدر نیچے آئی جس سے ہیجانی کیفیت کم ہوئی تاہم اقتصادی اعشاریئے اب بھی اچھے نہیں ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ جن کے ساتھ اقتصادی امور کے ماہرین کی ٹیم موجود ہے ،سب کو مل جل کر اس بحران سے نکلنے اور روپے کی قدر برھانے کی طرف فوری توجہ دینی ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی صنعت و معیشت کی بحالی اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی ساز اداروں، حکومت اور عوام کا ایک پیج پر جمع ہونا بہت ضروری ہوگیاہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈالر کے وقتی اضافے پر قوم کو تسلی دی تھی کہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوںنے ملک میں کاروباری سہولتوں میں اضافے کے ذریعے تاجروں اور صنعت کاروں کو بھرپور مواقع فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیدیا جسے کاروباری حلقوں نے مثبت انداز میں سراہاہے۔ ماضی کی صورتحال کو دیکھیں تو یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ قوم نے کس طرح سے مشکل وقت کاٹاہے پوری قوم کو جھوٹ کے اندھیروں میں رکھاگیا ۔وزیراعظم نے ایک اچھا کام یہ کیاکہ آتے ہی قوم کو یہ بتادیا کہ اس ملک کے خزانے میں کچھ نہیں اور یہ کہ سابقہ حکومت نے کس انداز میں غیر ملکی قرضوں سے قوم کے غریبوں کو چھوڑ کر اپنی نسلوں کی آبیاری کی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے آتے ہی جو سچائی اور اصل حقیقت ہے اس سے پردہ اٹھادیا۔ غیر ضروری اخراجات ختم کرکے وزراء اور مشیروں کی عیاشیوں کا خاتمہ کردیا اور اس سچ سے حکومت کا آغاز کیا کہ ہم چاہے کتنی بھی سختیاں جھیل لیں مگر ہم مزید غیر ملکی قرضوں سے اپنی قوم کو نہیں پالیں گے بلکہ آزادی اور خودمختاری کے لیے ہر مشکل کا مقابلہ مل کرکرینگے۔
امر واقع یہ ہے کہ ماضی میںجس انداز میں اس ملک کی دو بڑی جماعتوں نے ملکی معیشت کے ساتھ ظلم کیا اور قومی خزانے کے ساتھ غیر ملکی قرضوں پر جس طرح سے اپنے اور اپنے بچوں کے کاروبار کو پروان چڑھایا گیا،سب قوم کے سامنے ہے بلکہ جب مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ ہواتو اس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان پچھلے چودہ سالوں میں تقریبا پانچ سوارب ڈالر کی چیزیں دنیا بھر سے خرید چکاتھا یعنی پاکستانی قوم سالانہ چار ارب ڈالر کا سامان تعیش باہر سے خرید رہی ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا دعویٰ تھا کہ اقتصادی اشارے بہتری کی طرف گامزن ہیں۔انہوں نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح ہم اپنے عوام کی ضروریات کو پورا کر کے غربت میں کمی لاسکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس ضمن میں اقدامات اٹھائیں گے تاکہ علاقائی تجارت فروغ پاسکے۔
دوسری طرف مالکان اخبارات کی تنظیم اے پی این ایس کے نمائندوں نے وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات کی جس میں اسد عمر نے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے ،وفاقی وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ میڈیا کی مضبوطی کیلئے مالی بحران میں مدد کرے ،انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وزارت خزانہ وزارت اطلاعات سے حکومتی اشتہارات کے بقایاجات کی تصدیق کے فوری بعد ہی ادائیگی کردے گی۔حکومت پرنٹ انڈسٹری کے مسائل اور معاملات سے پوری طور پر آگاہ ہے ۔ہمیں امید ہے کہ اخباری صنعت کے مسائل حل کرکے ملک میںمیڈیا کے ذریعے بہتری کا قدم اٹھایا جاسکتا ہے اور اس صنعت میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔
ایسانظام بنانا چاہتے ہیں جو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کی مدد کرے ، وزیراعظم عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سرمایہ کاری میں شفافیت لانا چاہتی ہے، سرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات فراہم کرے گی، ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں جو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کی مدد کرے۔ پاکستانی معیشت میں بہت زیادہ ممکنہ صلاحیت کا سرمایہ کاروں کو پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار گروپ کے صدر نے ملاقات کی ۔
ٹیلی نارگروپ نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان میں پانچ اعشاریہ تین ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی اورسرمایہ کاری سے پانچ ہزار لوگوں کو روزگار ملا۔ گروپ کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تجربے کو تسلی بخش قراردیتے ہوئے ٹیلی کام کے شعبے میں مکمل تعاون فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں مالیاتی خدمات میں اضافہ کریں گے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کو معاشی بحران سے نکلنے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو آئی ٹی کے شعبے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ غیر ملکی بڑے سرمایہ کار گروپوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا چاہئے، تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ ملک میں سرمایہ کاری کی آڑ میں لوٹ مار نہ کی جائے بلکہ سروسز ارزاں نرخوں پر فراہم کی جائیں اور جائز منافع کمایا جائے ۔یہ درست ہے کہ حکومت پاکستان عملی بنیادوں پرمعیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے اورحکومتی تعاون سے سرمایہ کار وسائل کو بروئے کار لاکرملکی معیشت کو مضبوط بناسکتے ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم سے عثمان ڈار نے بھی ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انہیں اپنا معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز مقرر کیا جبکہ وزیراعظم نے آئندہ چند روز میں نیا پاکستان یوتھ پروگرام لانچ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ قومی پالیسی اور یوتھ پروگرام کی تیاری کا ٹاسک عثمان ڈار کو سونپا گیا ہے، ان کا عزم ہے کہ ہم لیپ ٹاپ پر نہیں بلکہ نوجوانوں پر پیسہ خرچ کریں گے ۔
یہ درست ہے کہ اگرنوجوان ساتھ نہ دیتے تو پی ٹی آئی برسراقتدار نہیں آسکتی تھی۔ اب نوجوانوں کوان کا جائز مقام دینے انہیں ملازمتیںفراہم کرنے اور انکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دی جائے یہی نوجوان ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کرنے کی منظوری دیدی۔ یہ ٹاسک فورس معاشی بہتری سے متعلق قومی ترجیحات کاجائزہ لے گی ٹاسک فورس حکمت عملی اور ایکشن پلان ترتیب دے گی جوکہ ملک کے نامور سائنسدانوں، انجینئرز پرمشتمل ہو گی۔ وزیراعظم نے یہ فیصلہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن سے ملاقات میں کیا۔ہماری رائے میں ڈاکٹر عطا الرحمان کی خداد اد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے ۔
افغانستان میں امن کیلئے تعاون کیا جائے، امریکی نمائندے زلمے خلیل کی پاکستان سے درخواست
امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ‘امریکی نمائندہ خصوصی مقرر ہونے کے بعد یہ ان کا دوسرا دورہ پاکستان ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو افغانستان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے امریکی صدر کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
امریکہ کے خصوصی نمائندے ان دنوں افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے جنوبی ایشیا کے دورے پر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور وہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والی قوتوں کو شکست ہو ۔ امریکہ نے افغانستان میں ایک طویل وقت گزارا ہے اور افغانستان میں مداخلت نے اسکی معیشت کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر چین سےقرضے لے رہا ہے اورچین کیخلاف مجوزہ معاشی مسابقت اقدامات سے بھی توبہ کرچکا ہے امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ وہ مزید نقصان اٹھائے بغیر افغانستان سے نکل جائے۔ وہ اس خطے سے باعزت واپسی کا خواہاں نظر آرہا ہے کیونکہ دنیا کا جدید ترین اسلحہ استعمال کرنے اور کھربوں کے مالی وسائل جھونکنے کے بعد بھی اسے اپنے اصل مقاصد میں کامیابی حاصل نہیںہوسکی ہے ۔ افغانستان میں اس کی بیساکھیوں پر قائم افغان حکومت کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ افغانستان کے بیشتر صوبوں اور اضلاع پر افغان طالبان کا عملا ً ًکنٹرول ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی فوج ، حکومت اور عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور دونوں ممالک کے تعلقات فروغ پائیں پاکستان اعتماد سازی کیلئے کئی ایک اقدامات اٹھا چکا ہے حال ہی میں افغانستان کے عوام کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر گندم کی وافر مقدار کا تحفہ بھجوانے کی منظوری دی گئی ہے ۔ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات میں وزیر خارجہ نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان، افغانستان میں سیاسی تصفیہ کیلئے، خلوصِ نیت کے ساتھ، اپنا تعاون جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں قیام امن، پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے صدر ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے ۔
ان ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ دوسری طرف پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان وزرا خارجہ کی سطح پر افغانستان میں امن و سلامتی کے موضوع پر سہ فریقی مذاکرات 15 دسمبر کو کابل میں منعقد ہونگے جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے ۔تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے۔ اس سلسلے میں پہلا دور گزشتہ سال دسمبر میں بیجنگ میں ہوا تھا۔ امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کا کہنا درست ہے کہ چالیس سال افغان جنگ کیلئے بہت ہیں افغان امن معاملے پر اب سب کو شریک کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان کوششوں کے مثبت نتائج نکلیں گے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved