تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

مومنو! اللہ کے مددگار بن جائو


سورۃ الصف کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور اس میں ذکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے حواریین کا ہو رہا ہے، اور خطاب ہم مسلمانوں سے ہے۔ میں اس پرگفتگو آگے چل کر کروں گا۔ اس سورت کا مرکزی مضمون نبی اکرمﷺ کا مقصد بعثت ہے۔ یعنی آپﷺ صرف واعظ، ناصح، مبشر، منذر اور معلم بن کر نہیں آئے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آپﷺ کو اللہ کے دین کو قائم اور غالب کرنے کا مشن بھی دیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ سامنے آئی کہ انقلابی جدوجہد کے آخری مرحلے میں انقلاب لانے والوں کو باطل نظام کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے اُس سے پنجہ آزمائی کرنی ہو گی۔ اس جدوجہد کا آغاز تو یقینا دعوت، تذکیر ،تبشیر، انداز اور وعظ و نصیحت سے ہوگا۔ اس کے ذریعے افراد کی زندگی تبدیلی لائے جائے گی اور ان میں اس بات کا جذبہ پیدا کیا جائے گا کہ اللہ کی زمین پر اللہ ہی کا دین قائم ہونا چاہیے، لیکن آگے چل کر باطل نظام سے کشاکش بھی کرنی ہو گی اور اس راستے میں جان بھی چلی جائے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ بہت بڑا رتبہ ہے۔ شہادت تومومن کا مطلوب ومقصود ہے۔ اللہ کی راہ میں گردن کٹانا سب سے اونچا مقام ہے۔
آج کے دور میں یہ تصور بالکل پس پردہ چلا گیا، لیکن نبی اکرمﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کے دور میں یہ سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ اللہ کے رسولﷺ نے عظیم الشان جدوجہد کے ذریعے جزیرہ نما عرب پر اللہ کا نظام غالب فرمایا۔ آپؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی آپؐ کے تربیت یافتہ صحابہؓ آپؐ کے مشن کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور وقت کی دو بڑی سپر پاورز سے ٹکرا گئے، تاکہ شہنشاہیت کا خاتمہ ہو۔ جب یہ زمین اللہ کی ہے، تو پھر کسے یہ حق ہے کہ اُس پر مالک بن کر بیٹھ جائے اور انسانوں پر اپنی حکمرانی کا جوا مسلط کرے، انسانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھے۔ یہ زمین اور جو کچھ اِس میںہے اِس پر تمام انسانوں کا حق ہے۔ اُس پر ایک ہی طبقہ کی اجارہ داری کیوں ہو۔
اب آیئے، سورۃ کی آخری آیت کی طرف! مسلمانوں سے فرمایا: ’’مومنو! اللہ کے مددگار ہو جاؤ۔ ‘‘
یہ اللہ کی قدر دانی ہے کہ جو بندے اُس سے وفاداری کریں، وہ انہیں اپنے مددگار قراردیتا ہے۔ یہ زمین اللہ کی ہے۔ اُس نے انسانوں کو دنیا میں آزادی دی ہے کہ وہ جو کچھ چاہیں کریں، اصل پکڑ آخرت میں ہو گی۔ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں ایک شخص اللہ کا باغی ہو جائے، بلکہ باغیوں کا سردار بن جائے، تب بھی اللہ نے ڈھیل دی ہوئی ہے۔ وہ بہت حلیم ہے، وہ فوری نہیں پکڑتا لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اس کے اختیار سے نکل جاؤںگا۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا جب اللہ ہر ایک سے حساب لے گا۔ کوئی کتنا ہی بڑا باغی ہو، بالآخر بدترین انجام سے دو چار ہو گا اور جو وفادار ہے، اُس کو اچھا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ کے ساتھ وفاداری کا تقاضا کیا ہے؟ یہ کہ آدمی اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے کوشاں ہو۔ زمین اللہ کی ہے مگر آج اُس پر اللہ کا نظام قائم نہیں ہے۔ اِس کی بجائے ابلیسی نظام کا ڈنکا بج رہا ہے۔ ایسے میں اللہ کے وفادارں کا فرض ہے کہ نظام ابلیس کے خاتمہ اور نظام الٰہی کے قیام و نفاذ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں۔ یہی اللہ کی مدد ہے۔
اللہ چاہے تو اس نظام کو چشم زدن میں نافذ کر سکتا ہے، کہ وہ قادرمطلق ہے۔ اُس کا اختیار کل کائنات پر ہے۔ اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کوئی مجبوری نہیں ہے۔ غلبہ دین کی جدوجہد رسول اللہ ﷺ کی نصرت ہے کہ یہ مشن بنیادی طور پر رسول اللہﷺ دیا گیا کہ اس نظام کو قائم کریں۔ یہ نظام اللہ کا ہے۔ اِسے قائم کرنا رسولﷺ کا مشن ہے۔ لہٰذا جو لوگ بھی اس مشن میں رسولﷺ کے ساتھ تعاون کریں گے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ میرے مدد گار ہیں۔ لیکن یہ نہ سمجھنا کہ اللہ کو مدد کی ضرورت ہے۔ اِس لیے کہ اللہ القوی ہے، العزیز ہے۔ اس جدوجہد کے ذریعے صرف تمہارا امتحان ہو رہا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔ وہ دین کو ان واحد میں غالب کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کی وفاداری کا امتحان لینا چاہتا ہے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو غیب میں رہتے ہوئے میری رضا کے لیے میرے دین کا جھنڈا بلند کرتے ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔
سورۃ الحدید کی آیت 25 میں رسولوں کے مشن کے ساتھ ساتھ یہ مضمون بھی آیا ہے۔ فرمایا: ’’ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا۔ اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں اور اس لیے کہ جو لوگ بن دیکھے اللہ اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں اللہ ان کو معلوم کرے بے شک اللہ قوی (اور) غالب ہے۔
تمام رسولوں کے ذمے یہ بات تھی کہ وہ اللہ کے دین کو قائم کریں۔ اگرچہ نبی آخر الزمانﷺ سے پہلے تمام رسول اپنی اپنی قوم کی طرف اور اپنے اپنے علاقے کی طرف بھیجے گئے تھے، تاہم ان سب کا مشن بھی یہ تھا کہ اللہ کے دین کو اپنے علاقے میں قائم اور غالب کریں۔ کل روئے ارضی کے لیے صرف حضرت محمدرسول اللہﷺکی بعثت ہوئی۔ ہر رسول کو میزان عدل دی گئی، لیکن یہ کامل ترین شکل میں حضرت محمد عربی ﷺ کو دی گئی ہے تاکہ وہ میزان عدل نصب کی جائے۔ سارے معاملات اس کے مطابق طے ہوں۔ کسی کو کچھ ملے، تواس میزان کے مطابق ملے اور کسی سے کچھ لیا جائے اس میزان کے مطابق لیا جائے۔
یہ مشن ہررسول کا تھا۔ مذکورہ آیت کے آخر میں فرمایایعنی اصل میں اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہیں جو غیب میں رہتے ہوئے اللہ اور رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔ زمین پر انسان کے بنائے ہوئے نظام ظالمانہ اور استحصالی ہیں۔ اللہ نے عادلانہ نظام عطا کیا ہے۔ وہ دیکھنا جاتا ہے کہ کون لوگ رضائے الٰہی کے جذبہ سے اِس نظام کے غلبہ کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ آگے فرمایا:’’جیسے عیسیٰ ؑابن مریم ؑنے حواریوں سے کہا کہ (بھلا) کون ہیں جو اللہ کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہیں۔‘‘ (جاری ہے)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے لیے ’’حواری‘‘ کا لفظ آتا ہے اور یہ بارہ افراد تھے۔ ان میں سے بھی ایک نے مخبری کر کے گویا ایک اعتبار سے بغاوت کر دی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول تھے۔ رسول کی حیثیت سے اُس علاقے میں جس میں وہ بھیجے گئے تھے، اللہ کا نظام قائم کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ دین کے معاملے میں میری مدد کرو، مگر اُن کی قوم بنی اسرائیل خاص طور پر اُن کے علماء، مفتیان اور صوفیاء نے اُن کی مخالفت کی، آنجناب ؑ کو کافر قرار دے دیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دست و بازو اور مددگار بنتے، لیکن بگاڑ اتنا آ چکاتھا کہ ہوس پرستی، دولت پرستی کی بنا پر وہ یہ بات جاننے کے باوجود کہ وہ رسول ہیں، اُن کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر آنجناب ؑ کو اللہ کا رسول مان لیا تو ہمیں اپنی اصلاح کرنی پڑے گی۔ لہٰذا ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ سب نے متفقہ طور پر کہہ دیا کہ یہ معاذ اللہ جھوٹے ہیں اور جو بڑے بڑے معجزے دکھا رہے ہیں یہ اصل میں معجزے نہیں ہیں، جادو ہے لہٰذا اس شخص کو زیادہ مہلت نہ دی جائے اور اس کی گردن اُڑادی جائے، سولی چڑھا دیا جائے۔ پوری قوم خاص طور پر مذہبی طبقہ اس پر متفق ہو گیا۔ ایمان لانے والے صرف گنے چنے افراد تھے۔
’’حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ ‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے ان کی پکار پر لبیک کہی اور کہا کہ ہم اللہ کے دین کے معاملے میں آپؑ کے اعوان و انصار ہیں اور ہم آپ پر ایمان لائے۔ قرآن مجید نے یہاں تفصیل نہیں بتائی، لیکن احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ آپؑ پر ایمان لایا اور ایک گروہ نے آپ کا کفر کیا۔ البتہ ایمان لانے والا گروہ بہت ہی چھوٹا تھا۔ جب آپ کا رفع سماوی ٰہوا ہے، آپؑ کے بارہ حواریین تھے۔ ان میں سے بھی ایک نے مخبری کی تھی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری کا حوالہ دے کر ہم سے فرمایا گیا کہ ایمان والو! اللہ کے مددگار بن جاؤ۔ نبیﷺ کے سچے اُمتی وہی لوگ ہیںجو آپؐ کے مشن میں آپؐ کی مدد کرتے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۵۷ میں آپؐ کے ایسے اُمتیوں کے اوصاف میں فرمایا:’’تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی‘‘۔ ظاہر بات ہے کہ نبی اکرمﷺ کی باکمال ہستی کو ذاتی طور پر کسی سے کوئی مدد لینا قبول ہی نہیں تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ اگر آپؐ سواری پر ہوں تو سواری کا چابک بھی آپ کے ہاتھ سے گر جاتا تو آپﷺ بجائے اس کے کہ کسی سے کہہ دیں کہ یہ میرا کوڑا اُٹھا دو، یہ بات زیادہ پسند کرتے تھے کہ اونٹ کو بٹھائیں اور خود کوڑا اُٹھائیں۔ یہاں جس مدد کا ذکر ہو رہا ہے، وہ آپؐ کے مشن میں آپؐ کا دست بازو بننا اور آپﷺ کا ساتھ دینا ہے۔
آگے فرمایا: پوری قوم ایک طرف تھی اور یہ گیارہ افراد دوسری طرف۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بہت جلد رفع سماوی ہو گیا، لیکن ٓپؑ کے یہ حواری اپنے کام میں لگے رہے۔ چنانچہ عیسائیت پھیلنا شروع ہوئی اور کچھ ہی عرصے کے بعد عیسائیوں کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ وہ یہودی جنہوں نے اپنی حد تک پوری کوشش کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے تئیں سولی بھی چڑھا دیا تھا (یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچالیا) بالآخر مغلوب ہوگئے۔ جب اللہ کی مدد آتی ہے تو پھر یونہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک بہت چھوٹی جماعت وہ اتنے بڑے پر گروہ غالب ہو گئی۔ تاریخ کے ہر دور میں عیسائیوں اور یہودیوں میں بڑی سخت لڑائیاں ہوتی رہیں مگر بالآخر یہودی ہی تابع ہو کر رہے۔ البتہ آج کے دور میں یہودی کم ہونے کے باوجود اس وقت عیسائیوں کے سرپر سوار ہیں اور یہ یوحنا کی انجیل کی ایک پیشین گوئی کے عین مطابق ہے کہ آخری زمانے میں ایک بہت بڑا خونخوار درندہ ہو گا اور اس کے سرپر ایک فاحشہ عورت سوار ہو گی، جو اس کو کنٹرول کر رہی ہو گی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس وقت یہ خونخوار درندہ امریکہ، نیٹو اور عیسائی دُنیا ہے اوراُس کے سر پر سوار فاحشہ یہود ہیں۔ آج کے دور کے علاوہ تمام ادوار میں عیسائی یہود پر غالب رہے، یہودی ہمیشہ مغلوب رہے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی واضح کر دی جائے کہ کل روئے ارضی پر اللہ کا دین قائم ہو کر رہے گا۔ نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ کے دوران میں جزیرہ نمائے عرب کی حد تک غلبہ ٔ دین کے نبویؐ مشن کی تکمیل ہو گئی جب سن 8ھ میں مکہ فتح ہو گیا اور بیت اللہ کو 360بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی بیرون عرب اسلامی انقلاب کی تصدیر کے مرحلے کا آغاز بھی ہو گیا۔ چنانچہ رومیوں کے ساتھ غزوۂ تبوک ہوا۔ اگرچہ اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی، لیکن یہ سلسلہ تو آگے بڑھا ہے۔ جس وقت آپؐ کا وصال ہوا، جیش اُسامہ روانگی کے لیے تیار تھا۔ ظاہر ہے، آپؐ کی بعثت صرف جزیرہ نمائے عرب کے لیے نہیں تھی، کل روئے ارضی کے لیے ہے۔ چنانچہ یہ مقصد تکمیلی شان کے ساتھ پورا تب ہو گا جب کل روئے ارضی پر اللہ کا دین غالب ہو گا۔ اسی نبویﷺ مشن کے لیے صحابہ کرامؓ نے مدینہ کی گلیاں چھوڑیں اور سپر پاورز سے ٹکر لی تھی ۔ جب تک کل روئے ارضی پر اللہ کا دین قائم نہیں ہوتا (کُوْنُوا اَنْصَارَ اللّٰہِ) کی یہ پکار جاری ہے۔
دین کے کل روئے ارضی پر غالب ہونے کا بہت سی احادیث میں ذکر آیا ہے۔ حضرت ثوبانؓسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے مجھے پوری زمین کو لپیٹ کر (یا سکیڑ کر) دکھا دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی۔ اور یقین رکھو کہ میری امت کی حکومت اُن تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے ہیں۔‘‘
حضرت مقداد بن الاسودؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’دُنیا میں نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا، نہ کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ، جس میں اللہ اسلام کو داخل نہیں کر دے گا، خواہ عزت والے کے اعزاز کے ساتھ، خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کی صورت میں۔ (یعنی) یا لوگ اسلام قبول کر کے خود بھی عزت کے مستحق بن جائیں گے، یا اسلام کی بالادستی تسلیم کر کے اس کی فرماں برداری قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔‘‘ میں (راوی) نے کہا: تب تو سارے کا سارا دین اللہ کے لیے ہو جائے گا۔‘‘ (رواہ احمد)
اسلام کو تو بہرحال غالب ہونا ہے۔ اب یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ ہم اِس عظیم الشان کام میں کتنا حصہ ڈال کر اللہ کی نظر میں سرخرو ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین حق کے لیے اپنا تن من دھن لگانے اور اپنی زندگیوں کا نقشہ بدلنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved