تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

اندرونِ خانہ چہرہ تاریک تر


حال ہی میں 8سالہ اور16سالہ دولڑکیوں پرخوفناک حملوں کے بعددن بدن تیز ہوتا ہوایہ سلسلہ اورموجودہ بداخلاقی کے جرائم کی لہرنے مودی سرکارکے تاریک ترین اوربدنماچہرے کی اصلیت دنیاکودکھادی ہے۔26جون2018 کو مشہور زمانہ سی سی این نے خواتین کے مسائل پرانسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کے550 ماہرین کی ایک سروے رپورٹ نشرکی جس میں سات سال پہلی بھارت خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ گھریلو کام کیلئے انسانی اسمگلنگ، جبری مزدور، جبری شادی ،جنسی غلامی، ایسڈ حملے،جسمانی بدسلوکی اورجینیاتی تنازعہ میں دنیاکاچوتھا سب سے خطرناک ملک تھا،مودی سرکار کے دور میں دوسرے نمبر پر جا پہنچا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق اب بھی بھارت میں سخت قوانین کے باوجودہرروز ملک میں تقریباً 100 اسے شرمناک حملوں کی اطلاع دی جاتی ہے جبکہ بھارت کے شہروں اوردیہی علاقوں میں اب بھی بدنامی کے خوف اورجبر کی بنیادپرہزاروں واقعات رات کی تاریکی میں دفن ہوجاتے ہیں۔10ممالک میں سے نو ایشیا، مشرق وسطی یا افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ10ویں نمبر پر امریکاواحد مغربی ملک ہے۔
ترقی کے جدید ترین معیارات کو اپنانے کے باوجود بھارت اب تک بہت سی ایسی پریشانیوں سے نجات نہیں پاسکا ہے جو اس کے ماتھے پر داغ کے مانند ہیں۔ سماجی برائیوں کا ایک دائرہ ایسا ہے جس سے باہر آنا بھارت کیلئے انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔گزشتہ دنوں پارلیمان میں ایک رکن نے بھارت میں خاتون سے زیادتی کے واقعے سے متعلق بیرون ملک بنائی جانے والی دستاویزی فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے اِسے بھارت کے خلاف سازش قرار دیا۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمان میں بیان دیا کہ وہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو حکم دیں گے کہ وہ اِس فلم کو ٹیلی کاسٹ کرنے سے باز رہے۔ حزب اختلاف کے غیر معمولی دبائو پر حکومت نے یہ فلم بھارت میں ٹی وی پر ریلیز ہونے سے روک دی۔ اِس صورت میں بی بی سی کوبراہِ راست تو سامعین کی بڑی تعداد سے محروم ہونا پڑامگرسوشل میڈیااوردیگرذرائع نے بھارتی چہرے کے نقاب کواس بری طرح سے تارتارکیاکہ خودپابندی لگانے والے اپنی غلطی پرشرمندہ ہیں۔
یہ فطری امرہے جب کسی چیزپرپابندی عائدکی جاتی ہے تولوگوں میں اس کے بارے میں تجسس بڑھ جاتاہے اوراس کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوجاتاہے۔
بھارت کے سیاست دان بہت پتلی کھال کے ہیں۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر بِدک جاتے ہیں اور ہر معاملے میں بیرونی ہاتھ یا سازش تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ بھارت کو ساری دنیا میں بدنام کرنے کی سازش پر عمل کیا جارہا ہے۔ جب بیرون ملک سے آنے والے سماجی محققین اپنی تحقیق میں بھارت کے معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں، آلودگی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ساتھ ہی کھلے علاقے میں رفعِ حاجت جیسے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں ،ایک بین الاقوامی این جی اوزنے مقامی درجن بھرتنظیموں کے توسط سے ملک بھرمیں سروے کے مطابق رپورٹ جاری کی ہے کہ دنیابھرمیں سب سے زیادہ ایڈزکاشکارافرادبھارت میں ہیں بلکہ کئی مکمل گائوں اس موذی بیماری میں مبتلاہیں اورلوگوں کو متنبہ کرنے کیلئے گائو ں کے باہر باقاعدہ بورڈتک آویزاں ہیں،کروڑوں افرادفٹ پاتھ اورگندگی کے ڈھیروں پررات گزارنے پرمجبورہیں اورفاقہ کشی کایہ عالم ہے کہ ملک کی 67فیصدآبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہے لیکن مودی سرکارمتعصب قوم پرست عناصر ان چشم کشاحقائق کے باوجودیہ کہتے ہوئے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ بھارت کو بدنام کرنے کیلئے کہا جارہا ہے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے کی دستاویزی فلم میں ایک مرکزی ملزم کو یہ کہتے ہوئے بھی سنایا گیا ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ وہ اپنے کیے پر نادم نہیں بلکہ اپنے سنگین جرم کا جواز بھی پیش کر رہا ہے۔ ایک وکیل صفائی نے بھی عدالتی کارروائی کے دوران کہا کہ اگر اس کی بیٹی ایسا کرے (یعنی جرم میں ساتھ دے)تو وہ اسے سرِ عام قتل کرنا پسند کرے گا! یہ ایسے ریمارکس ہیں جو بھارت کے مردوں کو انتہائی سفاک، مکار اور بدمعاش ثابت کرتے ہیں۔ بھارت میں خواتین سے روا رکھے جانے والے برے سلوک کے بارے میں بہت سے لوگوں کی آراء خاصی واضح ہیں۔ ایک عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے مصنف نے لکھا ہے کہ جن مردوں کے برے سلوک کی بات ہو رہی ہے، وہ ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔
بھارت کے معاشرتی مسائل کو بہتر انداز سے حل کرنے کی ضرورت پر اب عالمی انسانی حقوق کی تنظیموںنے وزیراعظم نریندر مودی پر خاصا زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین سے بدسلوکی کو ہر قیمت پر روکنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، تب تک معاشرے کا بگاڑ ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے خواتین سے زیادتی کو بھارتی قوم کیلئے انتہائی شرم ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے خواتین کو پارلیمان میں نمایاں نمائندگی دینے کی بھی وکالت کی ہے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ الٹرا سائونڈ کے ذریعے رحمِ مادر میں بچے کی جنس معلوم ہوجانے پر لڑکی کو رحمِ مادر ہی میں قتل کرنے کا چلن اب نہ صرف ختم بلکہ اسے جرم قراردیا جانا چاہیے۔ بھارت میں آج بھی لڑکوں کو لڑکیوں پر غیر معمولی اور واضح فوقیت دی جاتی ہے ۔ انہوں نے مودی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیاہے کہ خواتین سے امتیازی سلوک اور زیادتی جیسے معاملات پر قومی سطح کی بحث کی جائے اور شاید اِس کا وقت بھی آچکا ہے۔ بھارت میں زچگی کے دوران زچہ کی اموات کی شرح میں چند برسوں کے دوران نصف کی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
(جاری ہے)
خواتین سے زیادتی کے واقعات تو بہت ہوتے تھے مگر پولیس کو رپورٹ کرنے کی ہمت کم ہی لڑکیاں کر پاتی تھیں مگرجب غیرملکی سیاح لڑکیوں کوتواترکے ساتھ جنسی زیادتی کانشانہ بنایاگیااورمتعلقہ ممالک کا تحقیقات کیلئے دبائوبڑھااورغیرملکی میڈیانے تو باقاعدہ بھارتی دارلحکومت نئی دہلی کوسیاح عورتوں کیلئے دنیاکاسب سے خطرناک شہرقراردیدیاتوان واقعات کے بعدان مظلوم بھارتی خواتین کاحوصلہ بڑھااوروہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف انصاف کیلئے میدان میں اترآئیں اور میڈیا پران واقعات کی رپورٹ ہونے لگی۔
پبلک ٹرانسپورٹ کی ایک چلتی بس میں ایک لڑکی کے ساتھ ہونے والی زیادتی اوربعدازاں اس کوقتل کرنے کے واقعے نے توبھارت کے اس شرمناک فعل نے ساری دنیامیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے خلاف کئی پابندیوں کا بھی مطالبہ کیا۔ان واقعات کے بعد اب قدرے رپورٹنگ بڑھ گئی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ خواتین میں اپنے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے شعور کی سطح بلند ہوئی ہے لیکن ایسی خواتین کم ہیں جن کی باضابطہ ملازمت یا بینک اکائونٹ ہے۔ جہیز اور گھریلو مسائل پر خواتین کو قتل کرنے کی مشق اب تک کمزور نہیں پڑی۔بیشتر گھروں میں مردوں کا کنٹرول نمایاں ہے۔ خواتین کو خاصے دبائوکے ساتھ زندگی بسر کرنا پڑتی ہے۔ یورپی یونین کی انسانی حقوق کمیٹی نے حال ہی میں اپنے ایک اجلاس میں تجویزکیاہے کہ ایسے میں لازم سا ہوگیا ہے کہ بھارت میں خواتین کی زندگی بہتر بنانے کیلئے قومی سطح پر بحث کی جائے۔ اس مقصد کیلئے بھارتی پارلیمان کے فورم کو فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات، گھروں میں ان سے برا سلوک، کام کے مقامات پر انہیں ہراساں کرنے کے واقعات اور عمومی سطح پر انہیں کمتر سمجھنا، ایسے مسائل ہیں جن کا حل کیا جانا ناگزیر ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ خواتین سے بہتر سلوک کی راہ ہموار کرنے کے معاملے میں اہل سیاست میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ بھارتی پالیسی سازی کے حوالے سے ایک کتاب کے مصنف مِہِر شرما کہتے ہیں کہ بھارت میں سیاست دانوں نے یہ وطیرہ بنالیا ہے کہ خواتین کے بیشتر معاملات درست کرنے کی اہمیت ہی سے انکار کردیا جائے۔ ان کے نزدیک کسی مسئلے کے وجود سے انکار ہی اس کے حل کا بہترین طریقہ ہے۔
ماہرِ عمرانیات دیپانکر گپتا کہتے ہیں کہ بھارت میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کسی پارٹی کا لیڈر کچھ کہتا ہے اور اس کی پارٹی کے دیگرمرکزی عہدیداران اور کارکنان کچھ اور سوچ رکھتے ہیں۔ بہت حد تک اِسی مخمصے کا نریندر مودی کو بھی سامنا ہی اوربظاہر وہ خواتین کو انصاف دلانا چاہتے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہتے ہیں مگر ان کی اپنی پارٹی میں ایسے لوگوں کی کمی ہے جو اِس معاملے میں ان کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہتے ہوں لیکن ان کی اپنی جماعت کے اہم عہدیداروں کاکہناہے کہ یہ صرف مودی کاوہ سیاسی چہرہ ہے جس کی بنا پروہ سیاسی مقبولیت کے خواہاں ہیں۔ایک بڑا مسئلہ اور بھی ہے۔ بھارت کے لیڈر تمام اہم معاملات پر یکساں لگن اور دلچسپی کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں۔ نریندر مودی نے تمام مذاہب کے احترام کی بات اس وقت کہی جب امریکی صدر براک اوباما نے نئی دہلی کے دورے میں ان سے یہ کہا کہ بھارت کو مذہبی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ اِس سے قبل دہلی کے الیکشن کے موقع پر مودی نے گرجا گھر جلائے جانے پر کوئی ردِعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا تھا۔ یہ دو ر ختم کیے بغیر کسی بھی بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
ماحول کے بگڑتے ہوئے معیار اور آزادی اظہار کے بارے میں جو لوگ کچھ کہنا چاہتے ہیں، انہیں خاموش کرانے میں زیادہ دلچسپی لی جارہی ہے۔ نریندر مودی اور ان کی ٹیم نے اب تک آزادی اظہار اور ماحول سے متعلق ایسی واضح پالیسی نہیں دی جس سے کوئی بڑی امید وابستہ کی جاسکے۔ نئی دہلی ایئر پورٹ پر حکام نے ماحول کیلئے کام کرنے والی ایک خاتون کو برطانیہ جانے سے روک دیا۔ یہ خاتون برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی کو یہ بتانے والی تھیں کہ کان سے کوئلہ نکالنے کے ایک منصوبے سے بھارت کے ایک علاقے میں جنگل کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور اس کے مکین بھی متاثر ہوں گے۔ بھارت میں آج بھی لوگوں کو اپنے دل کی آواز لب تک لانے کی مکمل آزادی میسر نہیں۔ معاملہ ماحول کیلئے کام کرنے والی خاتون کو روکنے تک نہیں رکا، بلکہ اس کی تنظیم پر مالی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ اسی سال12مارچ کو دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھاکہ خاتون کو روکنے کا حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں۔
نیشنل سینسر بورڈ نے (جس میں اب بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق یا ہمدردی رکھنے والوں کی بھرمار ہے)جنوری میں ایک فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت ایک مشہور میوزک وڈیو سے لفظ بامبے ہٹاکر ممبئی ڈالنا تھا۔ واضح رہے کہ بمبئی یا بامبے کو اب سرکاری طور پر ممبئی کہا جاتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنمائوں نے ایک اسٹیج شو کو یہ کہتے ہوئے رکوا دیا کہ اس کی زبان بے ہودہ ہے۔ مشہور پبلشر پینگوئن نے جنوری میں معروف امریکی مصنف وینگی ڈینیگر کی کتابیں شائع کرنے سے محض اس لیے ہاتھ کھینچ لیا کہ ہندو انتہا پسندوں کو بھارت کے بارے میں وینگی ڈینیگر کے نظریات پسند نہیں۔
چند ایک معاملات ایسے ہیں جن کے باعث بھارت کو پریشانی تو ہوتی ہے مگر اس کا شکایت کرنے کا جواز بھی بنتا ہے۔ ایک جرمن پروفیسر نے اپنے ان الفاظ پر بعد میں معافی مانگی کہ وہ کسی بھارتی طالب علم کو اپنا شاگرد اِس لیے نہیں بناسکتا کہ بھارتی مرد خواتین سے زیادتی کے حوالے سے بدنام ہیں۔ معروف کالم نگار سوپن داس گپتا کا کہنا ہے کہ بھارت کے بارے میں دنیا بھر میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ یہ انتہائی غریب اور سماجی طور پر نہایت پسماندہ ملک ہے جہاں خواتین سے برا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور زیادتی کے حالیہ واقعات نے بھارت کا امیج مزید خراب کر دیا ہے۔ سوپن داس گپتا کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کا تاثر بہتر بنانا ہے اور دنیا بھر میں اسے نیک نامی سے متصف کرنا ہے تو مسائل کو نظر انداز کرنے یا دبانے کے بجائے انہیں حل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ یہی ایک طریقہ ہے جس کے تحت بھارت کیلئے پیدا ہونے والے تاثر کی مشکلات ختم کی جاسکتی ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved